کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ’زرعی قوانین‘ اور ’قومی سلامتی‘ پر جے پی سی تشکیل دینے کا مطالبہ

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بالاکوٹ فضائی حملے سے متعلق معلومات کے افشا ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس حساس معلومات کے افشا ہونے سے قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے۔

کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز ورکنگ کمیٹی نے حکومت سے کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کا خاتمہ کرنے، بالاکوٹ فضائی حملے کی معلومات کے افشاء ہونے کے واقعہ کی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے جانچ کرانے، ملک کے غریب اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو مقررہ مدت کے اندر مفت کووڈ ٹیکہ لگانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اورمیڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جمعہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ ورکنگ کمیٹی میں تین قراردادیں منظور کی گئیں اور کہا کہ کسانوں کے مفاد میں حکومت کو فوری طور پر تینوں زراعت مخالف قوانین کو واپس لینا چاہئے اور دہلی کی سرحدوں پر دو ماہ جاری کسان تحریک کو ختم کرنا چاہئے۔

کمیٹی نے بالاکوٹ فضائی حملے سے متعلق معلومات کے افشا ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حساس معلومات کے افشا ہونے سے قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے اور اس پورے معاملے کی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) سے مقررہ مدت کے اندر جانچ کرائی جانی چاہئے اور قصورواروں کو کڑی سزا دی جانی چاہئے۔ کمیٹی نے اس پورے معاملے پر حکومت کی خاموشی کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو خطرے میں ڈالنے کی اس سازش سے ہرصورت میں پردہ اٹھانا چاہئے۔

وینوگوپال نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی نے دوماہ سے دہلی کی سرحدوں پر جاری کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے تینوں زراعت مخالف قانون کو واپس نہ لینے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو کسان تحریک سے منسلک کسانوں کو تھکانے اور بھٹکانے کی کوشش کرنااور تحریک چلا رہے کسانوں پردہشت گرد ہونے کا الزام لگانا قابل مذمت ہے۔ وینگوپال نے کہا کہ ملک کا کسان تینوں زرعی قوانین کے خاتمے کے لئے تحریک چلارہا ہے اور اس دوران بہت سے کسان شہید ہوچکے ہیں لیکن حکومت بے حس اور گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے اور ان کی بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ کسانوں کے ساتھ 11 دور کی بات چیت ہوچکی ہے اور بات چیت کا راستہ تلاش کرنے کے بہانے ان کو تھکایا جا رہا ہے۔ ورکنگ کمیٹی نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہئے اور ان کے مطالبے کو قبول کرکے زرعی مخالف تینوں قوانین کو ختم کرنا چاہئے۔

وینوگوپال نے مزید کہا کہ کسانوں کے معاملے پر کانگریس پہلے سے ہی ان کے ساتھ ہے۔ ورکنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ کسان مخالف تینوں قوانین ملک کے کسانوں کےمفادات کو نفی کرتے ہیں اور چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، اس لئے پارٹی کسانوں کی حمایت میں اگلے مہینے بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر مظاہرہ کرے گی اور سرکار پران تینوں کالے قوانین کے خاتمے کے لئے دباؤ بنائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورکنگ کمیٹی نے بالاکوٹ فضائی حملےکی معلومات کے افشاء ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے پر سرکار کی خاموشی کی شدید مذمت کی۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ قومی سلامتی سے منسلک معاملہ ہے اور اس میں پوری طرح سے قومی سلامتی کے خلاف ایک بڑی سازش کی گئی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اعلی عہدوں پربیٹھے لوگوں نے یہ معلومات افشا کی ہے اورابتدئی معلومات سے یہ ہی لگتا ہے کہ یہ معلومات وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے افشا کی گئی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس سنگین معاملے کی جے پی سی سے جانچ کرائی جانی چاہئے۔

کمیٹی نے کووڈ ویکسین ریکارڈ وقت پر تیار کرنے کے لئے ملک کے سائنس دانوں کی تعریف کی لیکن کہا کہ حکومت اس ویکسین کو استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ٹیکہ پورے ملک کی آبادی کو سستی شرحوں پر کیسے لگے اس کے لئے پختہ انتظامات کئے جانے چاہئے اور اس کی قیمت کےتعلق سے شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کے غریب اور کمزور طبقوں کواسے مفت لگایا جاناچاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next