اویسی کی پارٹی کو ممتا بنرجی نے بھی بتایا بی جے پی کی ’ٹیم بی‘، بہار کی دی مثال

ممتا بنرجی نے مسلم اکثریتی ضلع مرشدآباد میں کور کمیٹی کی ہوئی میٹنگ میں پارٹی لیڈروں سے گزارش کی کہ وہ بی جے پی اور دیگر تخریب کاری طاقتوں کے خلاف مل کر لڑائی لڑیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مغربی بنگال میں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین) اپنی مضبوط موجودگی درج کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہی ہے اور انتخابی تشہیر کا عمل بھی زور و شور سے چل رہا ہے۔ اس درمیان مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اویسی کو زبردست طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے آئندہ اسمبلی انتخاب میں اویسی کے کردار کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’انھیں (اویسی کو) بنگال میں کامیابی نہیں ملنے والی کیونکہ وہ بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہیں اور بہار میں ان کی اصلیت ظاہر ہو چکی ہے۔‘‘

یہ باتیں ممتا بنرجی نے مسلم اکثریتی ضلع مرشدآباد میں کور کمیٹی کی ایک میٹنگ کے دوران کہیں۔ میٹنگ میں ممتا بنرجی نے پارٹی لیڈروں سے یہ گزارش بھی کی کہ وہ بی جے پی اور دیگر تخریب کاری طاقتوں کے خلاف مل کر لڑائی لڑیں۔ ترنمول کانگریس کے ایک مقامی لیڈر نے میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ’’کور کمیٹی کی میٹنگ میں ممتا دیدی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مرشد آباد ضلع میں اے آئی ایم آئی ایم کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ بہار انتخاب میں اویسی کی پارٹی کی حقیقت سب لوگ جان چکے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے تو دستک دے ہی دی ہے، ساتھ ہی فرفرہ شریف کے پیرزادہ عباس صدیقی نے بھی ایک نئی سیاسی پارٹی ’انڈین سیکولر فرنٹ‘ کا اعلان کر دیا ہے اور انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ بھی ظاہر کر دیا ہے۔ عباس صدیقی کے اعلان سے سیاسی سرگرمیاں کافی تیز ہو گئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ عباس صدیقی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اویسی کی پارٹی کے ساتھ اتحاد بنا کر مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں اتر سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next