کسان تحریک: میٹنگ-میٹنگ کا کھیل ختم، مودی حکومت نے کسانوں کو دکھایا ٹھینگا!

راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ڈیڑھ سال کی جگہ 2 سال تک زرعی قوانین کو ملتوی کر کے اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس تجویز پر کسان تیار ہیں تو کل پھر سے بات کی جا سکتی ہے۔‘‘

غازی پور بارڈر پر کسانوں کا مظاہرہ / تصویر آئی اے این ایس
غازی پور بارڈر پر کسانوں کا مظاہرہ / تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

جمعہ کے روز مرکز کی مودی حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان ہوئی میٹنگ ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہو گئی، لیکن ساتھ ہی ایسا لگتا ہے کہ ’میٹنگ-میٹنگ کا کھیل‘ بھی ختم ہو گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مرکزی وزراء نے کسانوں کو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت کی تجویز پر غور کریں ورنہ بات چیت کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے نہ صرف آج کی میٹنگ ختم کر دی گئی بلکہ آگے کے لیے کوئی نئی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی میٹنگ کے دوران ایک وقت ایسا تھا جب مرکزی وزراء نے کسانوں کو ساڑھے تین گھنٹے کا انتظار کرایا، اور جب کسانوں کے ذریعہ قانون واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے کہ اگر کسان یونین حکومت کی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں تو پھر آگے بات ہوگی، ورنہ بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے لیڈر ایس ایس پندھیر نے میٹنگ کے بعد میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’وزیر محترم نے ہمیں ساڑھے تین گھنٹے انتظار کرایا۔ یہ کسانوں کی بے عزتی ہے۔ جب وہ آئے، انھوں نے حکومت کی تجویز پر غور کرنے کے لیے کہا اور میٹنگ کے عمل کو ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔‘‘ حکومت کے اس رویہ سے ناراض ایس ایس پندھیر نے میڈیا کے سامنے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر حکومت کسانوں کی بات نہیں مان رہی تھی مظاہرہ بھی پرامن طریقے سے جاری رہے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ آج جب وگیان بھون میں کسان لیڈروں کے سامنے گیارہویں دور کی بات چیت کے لیے مرکزی وزراء حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا کہ اس سے بہتر تجویز حکومت نہیں دے سکتی اور قانون کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مرکزیو زیر زراعت نریندر تومر نے کسانوں سے کہا کہ ’’حکومت آپ کے تعاون کے لیے شکرگزار ہے۔ قانون میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم نے آپ کی عزت کرتے ہوئے ایک اچھی تجویز پیش کی۔ آپ فیصلہ نہیں لے سکے۔ آپ اگر کسی فیصلہ پر پہنچتے ہیں تو مطلع کریں۔ اس پر پھر ہم بات کریں گے۔ آگے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔‘‘

میٹنگ کے بعد ایک کسان لیڈر نے بتایا کہ ’’حکومت نے آج یہ تجویز بھی پیش کی کہ ایک کمیٹی زرعی قوانین پر غور کرنے کے لیے بنا دیتے ہیں اور ایک کمیٹی ایم ایس پی پربنا دیتے ہیں۔ دونوں کمیٹیاں اپنی رپورٹ دیں گی اور ہم ڈیڑھ سال کی جگہ دو سال کے لیے قوانین پر روک لگا دیتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومت نے پہلے بنائی گئی کسی کمیٹی کی سفارشات کو نافذ نہیں کیا تو ہم کیسے مان لیں کہ نئی کمیٹیوں کی سفارش حکومت مانے گی۔‘‘

راشٹریہ کسان مزدور یونین کے قومی سربراہ شیوکمار ککّا نے میٹنگ سے متعلق اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’لنچ بریک سے پہلے کسان لیڈروں نے قوانین کو رد کرنے کے اپنے مطالبہ کو دہرایا اور حکومت نے کہا کہ وہ ترمیم کے لیے تیار ہیں۔ وزیر نے ہمیں کہا کہ آپ حکومت کی تجویز پر غور کریں اور ہم نے ان سے ہماری تجویز پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد وزیر میٹنگ سے نکل گئے۔ اس کے بعد سے ہی کسان لیڈر وزیر کے لوٹنے کا انتظار کرتے رہے۔‘‘

بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ڈیڑھ سال کی جگہ 2 سال تک زرعی قوانین کو ملتوی کر کے اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس تجویز پر کسان تیار ہیں تو کل پھر سے بات کی جا سکتی ہے، کوئی دوسری تجویز حکومت نے نہیں دی۔‘‘ ساتھ ہی راکیش ٹکیت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ 26 جنوری کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے اور یہ اپنی آب و تاب کے ساتھ ضرور نکلے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next