جنگ آزادی اور مولوی محمد باقر کی شہادت... سہیل انجم

مولوی باقر کو کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا، اس عظیم اور جیالے صحافی اور دیوانۂ حریت نے یہ کہتے ہوئے سینے پر انگریز کیپٹن کی گولی کھالی

جنگ آزادی اور مولوی محمد باقر کی شہادت/ علامتی تصویر
جنگ آزادی اور مولوی محمد باقر کی شہادت/ علامتی تصویر
user

سہیل انجم

مجاہدین آزادی کی صفوں میں اردو صحافیوں کی ایک کہکشاں ہے جس میں مولانا ابواکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، مولوی محمد باقر، مولوی جمیل الدین، منشی نولکشور، ڈاکٹر مکند لال، مولانا حسرت موہانی، منشی محبوب عالم اور جانے کتنے صحافی ہیں جو آسمان حریت پر جگمگا رہے ہیں۔ اخباروں کے نام گنانے ہوں تو پورا ایک دفتر چاہیے۔ دہلی اردو اخبار، صادق الاخبار، سراج الاخبار، قیصر الاخبار، اودھ اخبار، تاریخ بغاوت ہند، منشور محمدی، اردوئے معلّی، خم خانہ ہند، پیسہ اخبار، الہلال، البلاغ، زمیندار، تیج، پرتاپ، ملاپ، ہندوستان اور آگے بڑھیے تو قومی آواز وغیرہ کی ایک بھیڑ ہے اور ہر اخبار انگریزوں کے خلاف لکھنے اور زر ضمانت ضبط کرانے میں پیش پیش رہنا چاہتا ہے۔

آزادی کی لڑائی شروع ہونے کے بہت بعد تک بھی دوسری زبانوں کے اخبارات دور دور تک نظر نہیں آتے۔ 1857 کی بغاوت تک انگریزی اخباروں کا یہ حال رہا کہ وہ حکومت سے متواتر یہ مطالبہ کرتے رہے کہ دیسی اخباروں کو بند کیا جائے۔ وہ تو جب جنگ حریت کی آگ پوری طرح بھڑک گئی اور اس کی روشنی میں آزادی کی صبح صادق ہویدا ہونے لگی تب کہیں جا کر دوسری زبانوں کی صحافت نے اس لڑائی میں قدم رکھا۔


گویا ہندوستان کی جنگ آزادی میں اردو صحافت کے رول کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اردو صحافیوں نے اس میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ کسی دوسری زبان کی صحافت کے حصے میں نہیں آئے۔ اردو اخبارات اس حوالے سے سرخیل کارواں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ فخر اردو صحافت ہی کے سر جاتا ہے کہ آزادی کی لڑائی لڑنے کی پاداش میں سب سے پہلے اسی کے ایک مجاہد کو توپ کا نشانہ بنایا گیا۔

’’دہلی اردو اخبار‘‘ کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر کو اپنے اخبار میں 1857 کی جنگ آزادی کی خبریں چھاپنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ ان سے پہلے یا ان کے ہم عصروں میں برطانوی حکومت کے خلاف اور ملک کی آزادی کی حمایت کرنے کی وجہ سے کسی دوسری زبان کے صحافی کو توپ سے نہیں اڑایا گیا۔ انھیں سزائے موت دینے کے بعد بھی انگریز خاموش نہیں رہے۔


وہ ان کے فرزند مولانا محمد حسین آزاد کو جو کہ اخبار کے پرنٹر پبلیشر تھے، تلاش کرتے رہے۔ ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیا گیا۔ بالآخر انھوں نے پیدل لکھنؤ بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ ایسے صحافیوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کو انگریزی حکومت نے سچ اور صرف سچ لکھنے اور چھاپنے کے جرم میں قید و بند کی سزائیں دیں۔ ملک کی آزادی کی خاطر دار ورسن کو چومنے اور خون دل میں انگلیاں تر کرکے داستان جنوں تحریر کرنے کی سعادتیں صرف اردو صحافت کے حصے میں آئی ہیں۔

مولوی محمد باقر کی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ جنگ آزادی اردو صحافت کا جب بھی ذکر ہوگا مولوی باقر کا بھی ہوگا۔ ان کے ذکر کے بغیر صحافت کی تاریخ مکمل نہیں ہوگی۔ وہ 1780ء میں دہلی کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے اجداد نادر شاہ کے دور میں ایران سے ہندوستان آئے تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب جلیل القدر صحابی حضرت سلمان فارسی ؓسے ملتا ہے۔ ان کے والد مولانا اخوند محمد اکبر دہلی کے معروف عالم دین اور مجتہد تھے۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی مجتہد بنانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کا مزاج ذرا مختلف تھا، یعنی جنوں پسند تھا۔ لہٰذا انھوں نے وہ راستہ اختیار کیا جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا ہے:

مقام شوق کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

لہٰذا انھوں نے اپنی آخری سانس اوجِ دار پر لی۔ انھیں ہندوستان کا پہلا شہید صحافی کہا جاتا ہے۔


ان کی شہادت کے بارے میں کئی روایتیں مشہور ہیں۔ کچھ نے لکھا ہے کہ 1857 کی بغاوت فرو ہونے کے بعد جب انھوں نے دلّی کالج کے پرنسپل اور اپنے دوست مسٹر ٹیلر کی ہدایت کے مطابق انگریز افسر کو وہ کاغذ دیا جس پر ٹیلر نے مولوی باقر پر عبرانی زبان میں الزام لگایا تھا کہ انھوں نے اس کی حفاظت نہیں کی تو انگریز افسر نے انھیں فوراً گولی مار دی۔ بعض نے لکھا کہ انھیں توپ کے دہانے سے باندھ کر گولے سے اڑایا گیا۔ بعض نے لکھا کہ انھیں پھانسی دی گئی۔ لیکن بہر حال اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ ان کی شہادت میں ان کے حریت پسندانہ خیالات اور ان کے اخبار کی آزادی پسند صحافت کا بھی دخل تھا۔

اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ تاریخی شہادتوں کے مطابق مئی 1857 میں میرٹھ سے بغاوت کی جو چنگاری اٹھی تھی وہ جلد ہی انگریزوں کے ظلم و استبداد کے نتیجے میں سرد پڑ گئی۔ دہلی پر جب دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو جن لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ان میں مولوی محمد باقر بھی تھے۔ متعدد کتب کے مصنف اور صحافی عتیق صدیقی کے مطابق مولوی محمد باقر کی شہادت کا تعلق پرنسپل ٹیلر کی موت سے تھا، جسے مولوی محمد باقر نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ انھوں نے اپنی معرکۃ لآرا تصنیف ’’1857ء کے اخبارات اور دستاویزیں‘‘ میں اور مولوی عبد الحق نے اپنی تصنیف ’’مرحوم دہلی کالج‘‘میں لکھا ہے کہ مولوی محمد باقر کو ٹیلر کی موت کے سلسلے میں شہید کیا گیا تھا۔ تفصیلات کی روسے ٹیلر نے مرکر بھی مولوی محمد باقر کو دھوکہ دیا جس کے نتیجے میں انھیں اپنی جان گنوانی پڑی۔


مولوی باقر کے بیٹے مولانا محمد حسین آزاد نے اس واقعہ کی تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے مطابق:

’’جب ٹیلر کو مولوی باقر نے (اپنے گھر سے) نکال دیا تو اس کے کچھ دیر قبل ٹیلر نے کاغذات کا ایک بنڈل ان کے حوالے کیا اور کہا کہ دہلی پر انگریزوں کا دوبارہ تسلط ہوجائے تو پہلا انگریز جو تمھیں نظر آئے یہ بنڈل اس کے حوالے کر دینا۔ مولوی صاحب کو اس کی خبر نہ تھی کہ اس بنڈل کی پشت پر ٹیلر نے لاطینی زبان میں کچھ لکھ بھی دیا ہے۔ جب دلّی پر انگریزوں کا تسلط ہوگیا تو مولوی صاحب نے وہ بنڈل ایک انگریز کرنل کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کو گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہی ان کی موت کا حکم نامہ ہے۔ ٹیلر نے لکھا تھا کہ مولوی محمد باقر نے شروع میں ان کو اپنے مکان میں پناہ دی لیکن پھر ہمت ہار دی اور ان کی جان بچانے کی کوشش نہ کی۔ کرنل نے بنڈل الٹ پلٹ کر دیکھا اور مولوی صاحب کو فوراً گولی مار دی اور ان کی جائداد بحق سرکار ضبط کرلی گئی۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ جب ان کو حاکم کے سامنے پیش کیا گیا تو ٹیلر کے دیئے ہوئے کاغذات ان کے پاس تھے۔ انھوں نے وہ حاکم کے سامنے رکھ دیئے۔ کاغذات دیکھ کر وہ غضبناک ہو گیا اور پوچھا ٹیلر کہاں ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ جب تک وہ میرے پاس رہے زندہ رہے، جب میرے مکان سے نکل کر بھاگے تو لوگوں نے انھیں مار ڈالا۔ یہ بیان سن کر وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ طیش میں آکر موت کی سزا اور ساری جائداد ضبط۔ کرنے کا حکم دیا، اس کی میز پر طمنچہ بھرا ہوا پڑا تھا۔ اسی وقت اس نے گولی مار کر شہید کر دیا اور ان کی لاش خاک و خون میں تڑپنے لگی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھیں ان لوگوں میں دھکیل دیا گیا جنھیں گولی مارنے کا حکم تھا۔ (بحوالہ: تاریخ صحافت اردو، مولانا امداد صابری)۔


جبکہ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں:

’’بہ ہزار دقت ٹیلر صاحب کالج کے احاطے میں آئے اور اپنے بڈھے خانساماں کی کوٹھری میں گھس گئے۔ اس نے انھیں مولوی محمد حسین آزاد کے والد کے گھر پہنچا دیا۔ مولوی محمد باقر کی ان سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔ انھوں نے ایک رات کو ٹیلر صاحب کو اپنے امام باڑے کے تہہ خانے میں رکھا، لیکن دوسرے دن ان کے امام باڑے میں چھپنے کی خبر محلے میں عام ہوئی تو مولوی صاحب نے ٹیلر کو ہندوستانی لباس پہناکر چلتا کیا۔ مگر ان کا بڑا افسوسناک حشر ہوا۔ غریب بہرام خان کی کھڑکی کے پاس جب اس سج دھج سے پہنچا تو لوگوں نے پہچان لیا اور اتنے لٹھ برسائے کہ بے چارے نے وہیں دم توڑ دیا‘‘۔

مولوی باقر بغاوت کو کچلنے کے لیے انگریزوں کے ظلم و استبداد کے عینی شاہد تھے اور بغاوت کے فوراً بعد ان کے اخبار کے 17 مئی کے شمارے میں، جو کہ ایک طرح سے بغاوت نمبر تھا، وہ سارے واقعات اس طرح شائع ہوئے کہ وہ اس وقت کی تاریخ نویسی کے لیے ناگزیر بن گئے۔ اس کے بعد یعنی 24 مئی کے شمارے میں ’’تاریخِ انقلابِ عبرت افزا‘‘ کے نام سے ان کے بیٹے مولانا محمد حسین آزاد کی ایک نظم بھی شائع ہوئی تھی جس میں وہ انگریزوں کی طاقت و قوت کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

سب جوہرِ عقل ان کے رہے طاق پر رکھے

سب ناخنِ تدبیر و خرد ہو گئے بیکار

کام آیا نہ علم و ہنر و حکمت و فطرت

پورب کے تلنگوں نے لیا سب کو یہیں مار


مولانا امداد صابری نے ایک خاندانی روایت کے حوالے سے جو کہ محمد حسین آزاد کے پوتے آغا محمد باقر نے بیان کی ہے، لکھا ہے کہ 16 ستمبر 1857 کو جس دن انھیں گولی ماری جانے والی تھی، محمد حسین آزاد اپنے والد کے ایک دوست کرنل سردار سکندر سنگھ کی مدد سے بھیس بدل کر اور ان کے سائیس بن کر اور گھوڑے پر سوار ہو کر دہلی دروازے کے میدان کے باہر ان کے آخری دیدار کے لیے گئے۔ وہاں چاروں طرف فوجی پہرا تھا۔ مولوی باقر نماز میں مصروف تھے۔ آزاد گھوڑے کی باگ تھامے فاصلے پر کھڑے ان کے سلام پھیرنے اور آنکھیں چار ہونے کے منتظر تھے۔ سلام پھیرنے کے بعد جب دونوں کی آنکھیں ملیں تو اشکبار ہو گئیں۔ مولوی باقر نے آزاد کو اشارہ کیا کہ بس یہ آخری ملاقات ہو چکی، اب جاؤ۔ محمد حسین آزاد بھی مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھے اور ان کے نام بھی وارنٹ نکلا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ سینے پر صبر کی سِل رکھ کر فوراً وہاں سے چلے گئے۔ مولوی باقر کو کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیا گیا، اس عظیم اور جیالے صحافی اور دیوانۂ حریت نے یہ کہتے ہوئے سینے پر انگریز کیپٹن کی گولی کھالی:

ہزار طوق و سلاسل ہوں لاکھ دارو رسن

جنوں کو حوصلۂ کار آہی جاتا ہے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔