راہل گاندھی نئے اوتار میں... سہیل انجم

راہل گاندھی کی کوششوں کی اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے ستائش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل وہ واحد شخصیت ہیں جن کے ارد گرد اپوزیشن رہنما اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

راہل گاندھی کا سائیکل مارچ / قومی آواز / وپن
راہل گاندھی کا سائیکل مارچ / قومی آواز / وپن
user

سہیل انجم

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس تیرہ اگست کو ختم ہو جائے گا۔ انیس جولائی کو شروع ہونے والے اس اجلاس میں بہت کم کام ہوا ہے۔ بیشتر وقت ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ اس کی وجہ حکومت کی ہٹ دھرمی اور اہم ایشوز پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے اور ان پر بحث کرانے کی اجازت نہ دینا ہے۔ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران ایک منٹ پر ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس حساب سے اب تک عوام کے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد برباد ہو چکے ہیں۔ اس کی پوری پوری ذمہ داری حکومت پر عاید ہوتی ہے۔ اگر وہ اپوزیشن کو سوال پوچھنے اور اہم امور پر بحث کی اجازت دے دیتی تو عوام کا زرِ کثیر برباد نہیں ہوتا۔

مانسون اجلاس کے دوران اگر کوئی لیڈر سب سے زیادہ چمکا ہے تو وہ بلا شبہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی ہیں۔ پورے اجلاس کے دوران وہ جس طرح اپوزیشن اتحاد کے ایک مرکز کے طور پر ابھرے ہیں اس کے پیش نظر بلا شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک نئے اوتار میں سامنے آئے ہیں اور ان کا یہ اوتار جہاں کانگریس کی مضبوطی اور استحکام کا سبب بنے گا وہیں اپوزیشن اتحاد کے لیے ترغیب اور تحریک کا بھی سبب بنے گا۔ اس وقت کوئی بھی اپوزیشن جماعت ایسی نہیں ہے جو اس طرح سرگرم ہو جیسی کہ کانگریس سرگرم ہے اور کوئی بھی اپوزیشن لیڈر اس طرح سرگرم نہیں ہے جیسے کے راہل گاندھی سرگرم ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ حکومت کی ناک میں ہری مرچ کی مانند گھس گئے ہیں۔ جس سے حکومت عجیب و غریب کیفیت میں مبتلا ہو گئی ہے۔ وہ نہ تو سانس لے پا رہی ہے اور نہ ہی کھل کر چھینک پا رہی ہے۔ وہ کھانسنا چاہتی ہے تو کھانس بھی نہیں پا رہی ہے۔


حالیہ دنوں میں ہونے والی راہل گاندھی کی سرگرمیاں اپوزیشن اتحاد کے لیے بنیاد کا کام کر رہی ہیں۔ پیگاسس کا معاملہ ہو یا کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکامی کا، متنازعہ زرعی قوانین کا ہو یا مہنگائی کا۔ یا پھر دیگر ایشوز ہوں۔ تمام ایشوز پر انھوں نے حکومت کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر بھی سرگرم ہیں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی۔ انھوں نے پارلیمانی اجلاس سے قبل اپوزیشن کی ایک میٹنگ بلائی اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ملکارجن کھڑگے کے چیمبر میں بھی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ کی اور پیگاسس اور دیگر امور پر حزب اختلاف کے اتحاد پر زور دیا۔

اس میٹنگ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں صرف یہی نہیں کہ وہ خود بولے بلکہ انھوں نے دیگر اپوزیشن لیڈروں کو بھی بولنے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کانگریس کی میٹنگ نہیں ہے بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہے اس لیے سب کو بولنا چاہیے۔ انھوں نے میڈیا سے خطاب کرنے کے بعد مائک شیو سینا کے سنجے راوت اور سماجوادی کے رام گوپال یادو کے سامنے کر دیا اور ان سے اظہار خیال کرنے کو کہا۔ صرف پارلیمنٹ کے باہر ہی نہیں بلکہ اس کے اندر بھی انھوں نے اپوزیشن اتحاد کی کوشش کی ہے۔


انھوں نے پارلیمنٹ میں ہنگامے کے دوران آر ایس پی کے این کے پریم چندرن سے اپوزیشن اتحاد پر تبادلہ خیال کیا۔ پریم چندرن نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی جس طرح اپوزیشن اتحاد کی کوشش کر رہے ہیں وہ لائق خیرمقدم ہے۔ وہ اہم امور پر اپوزیشن میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے سائیکل یاترا کی تجویز رکھی جس کا خیرمقدم کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس کے بعد انھوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں پندرہ اپوزیشن جماعتوں کی ایک بریک فاسٹ میٹنگ کی۔ یعنی انھوں نے سب کو ناشتے پر بلایا۔ ناشتہ کرنے کے بعد ملک کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اس وقت ان کے ذہن میں صرف ایک بات ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اہم امور پر اپوزیشن میں اتحاد پیدا ہوتا ہے اور وہ عوامی آواز کو پوری قوت کے ساتھ اٹھاتے ہیں تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامیوں کو اس عوامی آواز کو دبانا آسان نہیں ہوگا۔ اس میٹنگ کے بعد دنیا نے دیکھا کہ ایک سو سے زائد ممبران پارلیمنٹ بذریعہ سائیکل کانسٹی ٹیوشن کلب سے پارلیمنٹ ہاوس تک گئے۔ اس سے پہلے راہل گاندھی پیگاسس اور زرعی قوانین کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریکٹر سے پارلیمنٹ گئے تھے۔


صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے کسانوں کی تحریک کو بھی اپنی پوری حمایت دے رکھی ہے۔ ان کی قیادت میں اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاوس سے جنتر منتر تک مارچ کیا اور کسانوں کی اس پارلیمنٹ میں شرکت کی جو 22 جولائی سے جنتر منتر پر جاری ہے۔ کسانوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنا دیں گے۔ لیکن پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ کسان نمائندوں اور پولیس افسران کے درمیان یہ طے پایا کہ کسان جنتر منتر پر اپنی پارلیمنٹ لگائیں۔ لہٰذا 22 جولائی سے ہی روزانہ جنتر منتر پر کسانوں کی پارلیمنٹ چل رہی ہے۔ جہاں بالکل پارلیمنٹ کے انداز میں کارروائی چلائی جاتی ہے اور سوال جواب ہوتے ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے اس کسان دھرنے میں شرکت کرکے حکومت سے متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی کی ان کوششوں کی اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے ستائش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل وہ واحد شخصیت ہیں جن کے ارد گرد اپوزیشن رہنما اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں میں ان کے اس نئے اوتار کو پسند بھی کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف پسند کیا جا رہا ہے بلکہ ان کو احترام کی نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے جس طرح بڑی فراخ دلی کے ساتھ اپوزیشن رہنماوں کو اکٹھا کیا اور حکومت کے خلاف اپنی کوششوں کو صرف خود تک محدود نہیں رکھا اور اس کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش نہیں کی، بلکہ تمام اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کی کوشش کی، اسے اپوزیشن میں بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔


راہل گاندھی نے حالیہ چند ماہ کے اندر جس طرح اپنی سیاسی سرگرمیوں کو تیز کیا ہے اور جس طرح وہ اپنی والدہ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سائے سے نکل کر آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اس سے سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ کانگریس پارٹی میں بھی سب کے لیے قابل قبول ہیں اور اپوزیشن رہنماوں نے بھی انھیں ایک مرکزی رہنما کی حیثیت دے دی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ عنقریب کانگریس کے صدر کا منصب سنبھال لیں گے۔ اور اس بار جب وہ صدر بنیں گے تو ان کا رول سابقہ مدت سے بالکل الگ ہوگا۔ انھوں نے جس طرح نوجوت سنگھ سدھو کے معاملے میں فیصلہ کیا ہے اس سے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی تیز ہو گئی ہے کہ راہل گاندھی سیاست میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بہرحال ان کی ان کوششوں کی نہ صرف ستائش کی جا رہی ہے بلکہ انھیں احترام کی نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ جس طرح انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ اگر چہ ابھی بہت سی اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ نہیں آئی ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھی جلد یا بدیر اس قافلے میں شامل ہو جائیں گی۔ کیونکہ ان تمام پارٹیوں کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر وہ متحد نہیں ہوئیں تو 2024 میں نریند رمودی کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا اور اگر وہ متحد ہو گئیں تو مودی کو اقتدار سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے راہل گاندھی کے اس نئے اوتار کی اپوزیشن کی سیاست میں بڑی اہمیت پیدا ہو گئی ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ ان کی یہ سرگرمی کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کرادار ادا کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔