کسانوں سے پنگا کہیں مہنگا نہ پڑ جائے یوگی جی!...سہیل انجم

بی جے پی اور یوگی جی یہ نہ سمجھیں کہ وہ کسانوں کو زیر کر لیں گے۔ کسانوں سے پنگا لینا بہت بھاری پڑے گا اور اس کا نتیجہ اگلے سال کے اسمبلی انتخابات میں نظر آجائے گا۔

پنجاب میں کسان احتجاج کی فائل تصویر / Getty Images
پنجاب میں کسان احتجاج کی فائل تصویر / Getty Images
user

سہیل انجم

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان اور کسان تحریک کی ایک مقبول شخصیت راکیش ٹکیت اور سوراج ابھیان کے صدر یوگیندر یادو نے گزشتہ 26 جولائی کو لکھنؤ کا دورہ کیا اور وہاں ایک پریس کانفرنس کرکے کسانوں کے مسائل اٹھائے۔ اس موقع پر راکیش ٹکیت نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ووٹ کی زبان سمجھتی ہے تو اسے ووٹ کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کسانوں کی فصلوں کی ایم ایس پی بڑھانے کے سلسلے میں کہا کہ اگر حکومت کسانوں کی بات نہیں مانتی ہے تو ہم لکھنؤ کو بھی دلّی بنا دیں گے اور یہاں بھی کسانوں کو لا کر بھر دیں گے۔

انھوں نے پانچ اگست کو مظفنگر میں مہا پنچایت کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ پورے اترپردیش میں کسانوں کی مہاپنچایتیں کی جائیں گی اور اگلے سال کے اوائل میں یو پی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے اس کے خلاف انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ اس سے قبل بھی وہ اس قسم کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسان کسی پارٹی کے حق میں مہم نہیں چلائیں گے بلکہ بی جے پی کو شکست دینے کی مہم چلائیں گے۔ ان کے مطابق کسانوں نے مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ وہ اپنے انداز میں کہتے ہیں کہ کسانوں نے بنگال میں بی جے پی کو جو دوا پلائی تھی وہی دوا یو پی میں بھی پلائی جائے گی اور 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں بھی پلائی جائے گی۔


ان کا لکھنؤ میں کسانوں کو جمع کرنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جس طرح دہلی کے تین بارڈرس سنگھو، غازی آباد اور ٹیکری پر کسان آٹھ ماہ سے جمے ہوئے ہیں اسی طرح لکھنؤ میں بھی آکر جم جائیں گے۔ بلکہ ان کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ حکومت کے خلاف پوری ریاست میں آندولن چلایا جائے گا۔ لیکن ان کی اس وارننگ کو بی جے پی نے دوسرا مطلب پہنا دیا اور اس کے آئی ٹی سیل نے ایک ایسا متنازعہ کارٹون اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیا جس پر سوشل میڈیا کے علاوہ سیاسی و صحافتی حلقوں میں بھی زبردست تنازعہ پیدا ہو گیا ہے اور اس کارٹون کی وجہ سے بی جے پی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

اس کارٹون میں دو کردار ہیں۔ ایک کردار کسان کا ہے اور دوسرا ایک باہو بلی کا ہے۔ کسان کا حلیہ بالکل راکیش ٹکیت سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے ایک ہاتھ میں گدا ہے جسے وہ اپنے کندھے پر رکھے ہوئے ہیں اور اس پر کسان آندولن لکھا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ ایک شخص کو بالوں کو پکڑ کر گھسیٹ رہے ہیں اور اس پر دلّی لکھا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرے کردار کا حلیہ مختار انصاری سے ملتا جلتا ہے۔ یہ کردار کسان سے کہہ رہا ہے کہ سنا ہے کہ تم لکھنؤ جا رہے ہو۔ وہاں پنگا نہ لے لینا بھائی۔ یوگی بیٹھا ہوا ہے۔ وہ بکل اتار دیا کرے اور پوسٹر بھی لگا دیا کرے ہے۔ خیال رہے کہ راکیش ٹکیت کسان مخالف نیتاؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان کے بکل اتار دیں گے۔


اسی کارٹون میں کسان کا کردار ادا کرنے والا خیالوں میں سوچتا ہے کہ ایک بھگوا دھاری اس کے سر کے بالوں کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا ہے۔ اس کردار کی ٹوپی گر گئی ہے۔ بھگوا دھاری سے لوگ یوگی کو مراد لے رہے ہیں اور جسے گھسیٹا جا رہا ہے اسے راکیش ٹکیت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کارٹون پر زبردست ہنگامہ ہے اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے اس کارٹون کے بہانے اتر پردیش میں چل رہی غنڈہ گردی کو دکھایا ہے۔ ان کے مطابق یو پی میں جب سے یوگی وزیر اعلیٰ بنے ہیں غنڈہ گردی شباب پر ہے۔ پولیس کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور جرائم پیشہ افراد کی بن آئی ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم بڑھ گئے ہیں اور اقلیتوں اور دبے کچلے لوگوں کے خلاف بھی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

کارٹون میں پوسٹر لگوا دینے سے مراد یہ لیا جا رہا ہے کہ کس طرح یوگی نے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے پوسٹر شہر میں لگوائے تھے اور فسادات کے دوران جو نقصان ہوا تھا اس کی بھرپائی مظاہرین کی املاک کی قرقی کرکے کی جا رہی تھی۔ حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی پوسٹر لگانے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا اور یوگی حکومت کو ان پوسٹرس کو فوراً اتار دینے کی ہدایت دی تھی۔ ایک بار نہیں بار بار یو پی حکومت کی کارستانیوں پر عدالتیں وزیر اعلیٰ اور حکومت کو پھٹکار لگا چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یو پی حکومت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہے۔ مذکورہ کارٹون کو بھی اس کی دبنگئی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسی دبنگئی جس کی ایک جمہوری ملک میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔


اس کارٹون کے حوالے سے کسانوں میں زبردست ناراضگی ہے۔ یہ ناراضگی دہلی کی تینوں سرحدوں پر بھی دیکھی جا سکتی ہے اور جنتر منتر پر بھی جہاں روزانہ کسانوں کی پارلیمنٹ چل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یوگی جی ہم سے پنگا لینا چاہتے ہیں تو ضرور لیں لیکن انجام کی ذمہ داری ہماری نہیں ہوگی۔ ان کے خیال میں بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈل سے جو کارٹون پوسٹ کیا گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کو بی جے پی اعلیٰ کمان کی بھی حمایت حاصل ہے اور یوپی حکومت کی بھی۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ابھی تک بی جے پی کے کسی لیڈر نے اس کارٹون پر اظہار افسوس نہیں کیا اور نہ ہی اسے ہٹانے کی ہدایت دی۔

دراصل بی جے پی حکومت خواہ وہ مرکز کی ہو یا اترپردیش کی یہ سمجھے بیٹھی ہے کہ کسانوں کی یہ تحریک ایک دن اپنی موت آپ مر جائے گی۔ آخر کسان کب تک اس طرح کھلے میں دھرنا دیتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں زرعی قوانین کے سلسلے میں حکومت اپنے موقف سے ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسانوں نے بھی واپس نہ جانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ انھوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ واپس نہیں جائیں گے۔ شروع میں ان کا خیال تھا کہ جب وہ سڑکوں پر اتریں گے تو ایک ہفتہ یا دو ہفتے میں ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ آٹھ ماہ کی تحریک کے باوجود کوئی امید افزا صورت پیدا نہیں ہو سکے گی۔


اس لیے اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسانوں کی یہ تحریک کوئی دوسری شکل اختیار کرنے جا رہی ہے۔ بہت سے کسانوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ وہ 2024 تک تحریک چلانے کے لیے تیار ہیں۔ بعض اوقات ان کے حوصلوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ واقعی کسان اس سے پہلے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ دہلی سے متصل تینوں سرحدوں سنگھو، غازی آباد اور ٹکری پر کسانوں نے الگ الگ قسم کے خیمے نصب کیے ہوئے ہیں۔ کہیں عارضی خیمے ہیں تو کہیں مستقل۔ کہیں پنکھے سے کام چلایا جا رہا ہے تو کہیں کولر سے اور کہیں کہیں تو اے سی بھی نصب ہیں۔

کسانوں نے اس دوران خاصی پریشانیاں بھی اٹھائی ہیں۔ کڑاکے کی سردیوں میں بھی وہ جمے رہے اور موسلا دھار بارشوں میں بھی اور اب تپتی گرمی کے بعد حبس زدہ گرمی میں بھی اور دہلی میں ہونے والی بارش میں بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جتنی پریشانیاں اٹھائی ہیں وہ واپس جانے کے لیے نہیں اٹھائی ہیں۔ ان کے مطابق اس دوران آندھیاں بھی آئیں جو ان کے خیموں کو کئی کئی کلومیٹر تک اڑا لے گئیں۔ لیکن انھوں نے ان خیموں کو پھر اکٹھا کیا اور پھر سے نئی زندگی کا آغاز کیا۔ بالکل اسی طرح جیسے طوفان باد و باراں پرندوں کے گھونسلے اڑا لے جائے۔ وہ اپنے نشیمن سے محروم ہو جائیں اور پھر ایک ایک تنکہ اکٹھا کرکے نیا نشیمن بنائیں اور رہنا شروع کر دیں۔


حالانکہ اب کسانوں کی خبریں میڈیا سے غائب ہو گئی ہیں یا غائب کر دی گئی ہیں۔ اب گودی میڈیا ان کی خبریں نہیں دکھاتا۔ لیکن سوشل میڈیا پر اب بھی ان کی خبروں کی بھرمار ہے۔ گزشتہ دو تین مہینوں کے دوران ایسا لگتا تھا کہ کسانوں کی تحریک کمزور پڑ رہی ہے۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اب ایک بار پھر ان میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے گزشتہ دنوں جو مرحلہ آیا تھا وہ ’’آگے بڑھیں گے ذرا دم لے کر‘‘والا معاملہ تھا۔ ایک بار پھر کسان تحریک میں جان آگئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگلے سال کے اوائل میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ یہ لڑائی ان پانچوں ریاستوں میں ہوگی جہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اور یوگی جی یہ نہ سمجھیں کہ وہ کسانوں کو زیر کر لیں گے۔ کسانوں سے پنگا لینا بہت بھاری پڑے گا اور اس کا نتیجہ اگلے سال کے اسمبلی انتخابات میں نظر آجائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔