چار بچوں کے باپ دو بچوں والا بل لائیں گے... سہیل انجم

اچھے کام کا آغاز گھر سے کیا جانا چاہیے۔ یعنی بی جے پی پہلے ایسے ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ پر جن کے دو سے زائد بچے ہیں الیکشن لڑنے پر پابندی عاید کرے اس کے بعد پنچایتی انتخابات لڑنے پر پابندی لگائے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن / تصویر آئی اے این ایس
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن / تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

آج کل اترپردیش حکومت کے مجوزہ آبادی بل پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ یہ بحث ٹی وی چینلوں پر بھی ہو رہی ہے، اخباروں میں بھی ہو رہی ہے اور سوشل میڈیا میں بھی ہو رہی ہے۔ چینلوں پر یکطرفہ اور جھوٹی ہوا چلائی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے جسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اگلے سال کے اوائل میں پانچ ریاستوں اور بالخصوص یو پی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے کی نیا کسی طرح پار لگائی جاسکے۔

اخباروں میں چلنے والی بحث سنجیدہ ہے۔ مضامین اور رپورٹوں کے اشاعت ہو رہی ہے اور مجوزہ بل یا مسودے کی جانچ پرکھ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے یا یہ محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔ ان مضامین میں بیشتر حقائق پر مبنی ہیں اور یو پی حکومت کی نیت کو اجاگر کرنے والے ہیں۔ ان میں اس پروپیگنڈے کی ہوا نکالی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں حقائق قارئین کے سامنے رکھے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چین میں چلنے والی آبادی کنٹرول پالیسی کے منفی اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔


سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث بہت مزیدار ہے۔ خوب لطیفے بنائے جا رہے اور ان کی مدد سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مرد کتنے بچے پیدا کریں اس کا فیصلہ وہ لوگ کریں گے جن کا اپنا کوئی بچہ نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑا مذاق ہے کہ یوگی ایسا بل لا رہے ہیں۔ انھیں کیا معلوم کہ بچے کیا ہوتے ہیں اور بچے قدرت کا کتنا بڑا عطیہ ہیں۔ اس سے بھی بڑا مذاق یہ ہے کہ گورکھپور سے بی جے پی کے ایم پی روی کشن دو بچوں کی پالیسی والا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں جن کے خود چار بچے ہیں۔

آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس بل میں کیا کہا گیا ہے۔ بل کے مطابق جن کے یہاں دو بچوں سے زائد اولاد ہوگی ان کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔ جو لوگ سرکاری ملازمت کر رہے ہیں ان کو پروموشن نہیں ملے گا اور انھیں حکومت کی 77 فلاحی اسکیموں کے فائدوں سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جن کے یہاں دو سے زائد بچے ہوں گے وہ پنچایت انتخابات نہیں لڑ سکیں گے۔ البتہ جو سرکاری ملازمین دو بچہ پالیسی کو اختیار کریں گے ان کو ملازمت کے دوران اضافی انکریمنٹ ملے گا، زمین یا مکان کی خرید پر مراعات دی جائیں گی اور ان کے پراویڈنٹ فنڈ میں تین فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔


مجوزہ مسودے کے مطابق جو سرکاری ملازمین ایک بچہ پالیسی اختیار کریں گے یعنی صرف ایک بچے پر قناعت کریں گے ان کی تنخواہوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور ان کی اولاد کو بیس سال کی عمر تک مفت صحت و تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ جو لوگ سرکاری ملازمت میں نہیں ہیں اور پھر بھی دو بچہ پالیسی اختیار کرتے ہیں انھیں پانی اور بجلی کے بلوں، ہاوسنگ ٹیکس اور مکان بنانے کے لیے بینک سے قرض لینے میں چھوٹ دی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس قسم کے قانون سے آبادی پر کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کی وجہ سے صنفی امتیاز پیدا ہوگا۔ سال 2015-16 میں کیے جانے والے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق اترپردیش میں مجموعی شرح پیدائش 2-7 فیصد ہے جبکہ قومی شرح پیدائش 2-1 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق کوئی بھی قانون شرح پیدائش کو نیچے نہیں لا سکتا۔ بارہ ریاستوں میں پہلے سے ہی ایسا قانون موجود ہے لیکن بچوں کی پیدائش سے متعلق لوگوں کی ذہنیت میں کسی مثبت تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔


ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت کی سہولتوں کی وجہ سے لوگ کچھ اقدامات کرتے ہیں تو اسے ’دباو‘ مانا جائے گا اور کسی بھی قسم کا دباو قبول نہیں ہے۔ ریاستیں ایسے اہم معاملے پر قومی پالیسی سے الگ ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ریاستی حکومت کا یہ قدم سیاسی شعبدہ بازی ہے۔ اس کا مقصد ریاست کو درپیش مسائل اور چیلنجوں سے عوام کی توجہ دوسری جانب مبذول کرانا ہے۔ ان کے مطابق سال 2000 سے ملک میں قومی پاپولیشن پالیسی کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اس نئی پالیسی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اور پھر وزیر اعلیٰ کو الیکشن سے عین قبل اس کا خیال کیوں آیا۔ حکومت کا یہ قدم مکمل طور پر سیاسی ہے۔

دائیں بازو کے لوگوں کا یہ ایک پرانا پروپیگنڈہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور اگر اسے قابو میں کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو مسلمانوں کی آبادی غیر مسلموں سے زیادہ ہو جائے گی۔ اس لیے وہ غیر مسلموں کو مسلمانوں کے نام پر ڈراتے اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر چہ مجوزہ مسودے میں مسلمانوں یا اقلیتوں کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن قومی سطح پر جو بحث ہو رہی ہے وہ یہی ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔


جہاں تک مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی بات ہے تو 1951 سے لے کر 2011 کی مردم شماری تک مسلمانوں میں شرح پیدائش میں اضافہ ہوا تھا۔ وہ 9-8 سے بڑھ کر 14-2 ہو گئی تھی۔ لیکن اب اس میں تیزی سے گراوٹ آرہی ہے۔ مسلمانوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ چار چار شادیاں کرتے اور پچیس پچیس بچے پیدا کرتے ہیں بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں بچیوں کی شرح پیدائش گر رہی ہے۔ بہت سے لوگ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ شکم میں بچی پل رہی ہے حمل ضائع کروا دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی ریاستوں میں مردوں کو شادی کے لیے عورتیں نہیں مل رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق شرح پیدائش میں سب سے زیادہ گراوٹ مسلمانوں میں آرہی ہے۔ لیکن یو پی لا کمیشن نے اس پر غور نہیں کیا۔ ہندی روزنامہ ’بھاسکر‘ نے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے پانچ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جموں و کشمیر، کیرالہ اور مغربی بنگال سمیت جن پانچ ریاستوں میں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے وہاں شرح پیدائش قومی شرح پیدائش سے 1-8 فیصد نیچے ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 96 فیصد مسلم آبادی والے صوبے لکش دیپ اور 68 فیصد آبادی والے جموں و کشمیر میں شرح پیدائش 1-4 فیصد ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے مسلمان ہندووں سے زیادہ تیزی سے فیملی پلاننگ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بچے کا جو فرق تھا اب گھٹ کر آدھے بچے کے فرق تک آگیا ہے۔ یعنی مسلمانوں میں شرح پیدائش ہندووں کے مقابلے میں صرف آدھہ بچہ زیادہ ہے۔ جبکہ پروپیگنڈہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہندووں کے یہاں ایک بچہ ہے تو مسلمانوں کے یہاں دس ہیں۔

اگر حکومتیں اس معاملے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ دو سے زائد بچوں کے والدین پر پنچایتی الیکشن لڑنے پر ہی کیوں پابندی عاید کرتی ہیں، اسمبلی اور پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔ بلکہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو ایک پالیسی لانی چاہیے۔ ذرا یہ بھی دیکھیں کہ وزیر اعظم مودی خود سات بھائی بہن ہیں اور وزیر اعلیٰ یوگی چھ بھائی بہن۔


صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس وقت اترپردیش میں بی جے پی کے پچاس فیصد سے زیادہ ارکان اسمبلی کے دو سے زائد بچے ہیں۔ انگریزی روزنامہ ’ٹائمس آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے 304 ارکان اسمبلی میں سے 152 کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں۔ حکومت کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ایک بی جے پی ایم ایل اے کے آٹھ بچے ہیں جبکہ ایک کے سات اور آٹھ ارکان کے چھ چھ اور 15 کے پانچ پانچ بچے ہیں۔ بی جے پی کے 44 ارکان اسمبلی کے چار چار بچے اور 83 ارکان کے تین تین بچے ہیں۔ اگر مذکورہ قانون اسمبلی میں نفاذ ہو جائے تو یہ تمام ارکان نااہل قرار دے دیئے جائیں گے۔

تقریباً یہی صورت حال پارلیمنٹ میں بھی ہے۔ گورکھپور سے بی جے پی کے رکن اسمبلی روی کشن آبادی کنٹرول کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک پرائیوٹ ممبر بل پیش کرنے والے ہیں اور ان کے خود چار بچے ہیں۔ لوک سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق 168 موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 105 ہے۔


کہتے ہیں کہ اچھے کام کا آغاز گھر سے کیا جانا چاہیے۔ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر سے اس کام کا آغاز کرے۔ پہلے ایسے ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ پر جن کے دو سے زائد بچے ہیں الیکشن لڑنے پر پابندی عاید کرے اس کے بعد پنچایتی انتخابات لڑنے پر پابندی لگائے۔ لیکن وہ لوگ ایسا نہیں کریں گے۔ ان میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھاری ہوئی ہے جس کا مظاہرہ وہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں اور یہ بھی ان کی ایک سیاسی منافقت ہے اور کچھ نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔