’آبادی کنٹرول پالیسی‘ یو پی کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی سازش... نواب علی اختر

بظاہر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ یہ قانون سب کے لیے ہو گا تاہم اس کا مرکزی ہدف مسلمان ہیں اور اگر اسے نافذ کیا گیا تو سب سے زیادہ غریب طبقے کے لوگ متاثر ہوں گے۔

یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

اترپردیش سمیت بی جے پی کی متعدد حکمرانی والی ریاستوں میں ان دنوں آبادی کنٹرول سے متعلق قوانین بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کے کچھ ممبران پارلیمنٹ بھی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس سلسلے میں نجی بل لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بی جے پی اس معاملے کو جارحانہ انداز میں اٹھا رہی ہے۔ حالانکہ زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر اب تک غیر جانبدارانہ موقف اختیار کر رکھا ہے۔ در اصل یہ مسئلہ بی جے پی کے اگلے ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آرٹیکل 370 اور رام مندر کے مسئلے ختم ہونے کے بعد یہ ایسا معاملہ ہے جس پر برسوں سے بحث کی جا رہی ہے۔ حالانکہ آبادی پر قابو پانے سے متعلق معاملہ بے حد حساس ہے اور بی جے پی کو اس پر آگے کئی طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کورونا کے وبائی عہد میں مرکز کی مودی حکومت کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی سرکاری مشینری کی ناکامی، کسانوں کے بنیادی مسائل سے عدم توجہی، روز بہ روز افزودہ مہنگائی اور عام آدمی کے روز مرہ کے مسائل سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے بی جے پی نے ایک بار پھر ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے آبادی کنٹرول پالیسی کا شوشہ چھوڑ کر نفرت آمیز انتخابی لائحہ عمل کے ساتھ تقسیم کی سیاست شروع کرنے کے اشارے دے دیئے ہیں۔


ویسے بھی بی جے پی کے پاس انتخابی مہم کے لیے کوئی ایسی اہم حصولیابی نہیں ہے جس کا ذکر کیا جاسکے۔ اس لیے ریاست کو مزید نفرت آمیز سیاست کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اب رام مندر کی سیاست بھی دم توڑ چکی ہے۔ اس لیے یوگی مہاراج پریشان ہیں کہ اترپردیش میں انتخابی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے کس لائحہ عمل پر کام کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ وزیر اعلیٰ انتخابی مہم کے دوران سرکار کی حصولیابیوں پر بات کریں تاکہ ان کی کارکردگی عوام کے سامنے آسکے۔

حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان میں قانون سازی کے ذریعہ آبادی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے کیونکہ جب تک عوام میں بیداری پیدا نہیں کی جائے گی آبادی پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جس طرح جبری نس بندی کے ذریعہ آبادی کو قابو نہیں کیا جاسکتا۔ نس بندی مہم کے تحت نہ جانے کتنے لوگوں کی جبری نس بندی کی گئی مگر کیا ہندوستان میں آبادی پر قابو پایا جاسکا؟ یہی حال مجوزہ ’نئی آبادی پالیسی‘ کا بھی ہوگا۔


قانون سازی سے زیادہ خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں عوامی بیداری موثر ثابت ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ اگر حکومت کے ذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے گاﺅں در گاﺅں جاکر بیداری مہم چلائی جائے، کیونکہ شہروں سے زیادہ آبادی کا تناسب دیہی علاقوں میں ہے۔ ماہرین کے مطابق بظاہر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ یہ قانون سب کے لیے ہوگا تاہم اس کا مرکزی ہدف مسلمان ہیں اور اگر اسے نافذ کیا گیا تو سب سے زیادہ غریب طبقے کے لوگ متاثر ہوں گے۔

اگر اترپردیش میں آبادی پر قابو پانے سے متعلق نیا قانون متعارف کرایا جاتا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوںکہ عوام کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ انتخابات کے پیش نظر ایک خاص طبقہ کو خوش کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ یوپی لاء کمیشن کے ذریعہ تیار کیے گئے مسودے پر جب تنازعہ شروع ہوا تب یوگی حکومت نے کہا کہ وہ اس کے تحت ریاست میں مختلف برادریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی بھی کوشش کرے گی اور جس برادری میں شرح پیدائش زیادہ ہے وہاں بیداری مہم شدت سے چلائی جائے گی۔


بعض مبصرین کے مطابق اس توازن کا اشارہ مسلم برادری کی جانب ہے، جس کے بارے میں اکثر بی جے پی رہنما الزام تراشی کرتے رہتے ہیں کہ ان میں پیدائش کی شرح زیادہ ہے اور اس پر سختی سے کنٹرول کی ضرورت ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ سالوں میں آئے تمام سروے بھگوا الزام کی نفی کرتے ہیں۔

عیاں رہے کہ یو پی کی بی جے پی حکومت نے آئندہ انتخابات کے پیش نظر یہ شوشہ چھوڑا ہے تاکہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس مجوزہ قانون کا مرکزی ہدف مسلمان ہیں اور کوشش یہ ہے کہ انتخابات سے قبل ریاست کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا جا سکے۔ انتخابات کے پیش نظر ہندو مسلم بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر قائم کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے اور بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے یہ قانون لایا جا رہا ہے۔


حال ہی میں لکھنؤ سے دو مسلم نوجوانوں کی شدت پسند تنظیم القاعدہ سے وابستگی کے الزام میں گرفتاری بھی اسی کوشش کا حصہ بتایا جارہا ہے اور یو پی میں یہ سب آئندہ انتخابات تک چلتا رہے گا۔ مسلمانوں کو اس بل پر بہت زیادہ تشویش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مسلمان تو پہلے سے ہی بہت سی سہولیات سے محروم ہیں اس لیے ان پر اس کا کم اثر پڑے گا اور دیگر وہ برادریاں زیادہ متاثر ہوں گی جو پسماندہ ہیں یا جن کا قبائل سے تعلق اور ان کے لیے حکومتی سطح پر روزگار جیسے مواقع پہلے سے محفوظ ہیں۔

یوگی حکومت کی نیت سے صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ صرف اور صرف اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ سب سے زیادہ آبادی کا مسئلہ کم تعلیم یافتہ اور غریب سماج میں ہے جو حکومت کی امداد و رعایات سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر انہیں اس کے سبب روزگار اور امداد سے محروم کر دیا گیا تو اس سے سماج کا سب سے زیادہ پسماندہ طبقہ متاثر ہو گا اور اس سے سیاست میں ان کی نمائندگی مزید کم ہو جائے گی جو پہلے سے ہی حاشیے پر ہے۔


حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف بی جے پی کی ہم خیال وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس جیسی سخت گیر تنظیمیں ہندوستان میں ہندووں کے درمیان آبادی بڑھانے کی مہم چلاتی ہیں اور وشو ہندو پریشد نے بھی اس پالیسی پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ آبادی کم کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یو پی حکومت کے اس مجوزہ ڈرافٹ کے سامنے آنے کے فوری بعد اس کے خلاف بعض علاقوں میں مظاہرے بھی ہوئے تھے کیونکہ اس مجوزہ قانون کو خواتین مخالف کہا جارہا ہے اس لئے کہ ملک میں بچوں کی پیدائش کے معاملات میں بیشتر خواتین پر دوسروں کی مرضی مسلط ہوتی ہے۔ اس لیے اگر انہیں اس کی وجہ سے حکومتی امداد سے محروم رکھا گیا تو پھر سب سے زیادہ وہی متاثر ہوں گی کیونکہ غریب سماج میں ایسی خواتین ہی حکومتی امداد کی سب سے زیادہ مستحق ہیں اور وہی سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔