اتر پردیش میں جمہوریت کا ننگا ناچ... نواب علی اختر

ضلع پنچایت صدر منتخب کرنے والے ضلع پنچایت ممبران کو ایک ایک ووٹ کے عوض لاکھوں روپے دیئے گئے ہیں۔ ضلع پنچایت ممبران کے غائب ہونے یا پھر انہیں یرغمال بنائے جانے کی بھی خبریں ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

الیکشن یا انتخابات جمہوریت اور سیاست کا اہم بنیادی ستون ہے جس کے ذریعہ لوگ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد ملک میں انتخابات نے ایک طویل راستہ طے کیا ہے۔ انتخاب کے ذریعہ ہی جدید جمہوریتوں کے عوام مقننہ (اور کبھی کبھی عدلیہ اور ایکزیکیوٹیو) کے مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے لیے افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ انتخاب کے ذریعہ ہی علاقائی اور بلدیہ کے لیے بھی افراد کا انتخاب ہوتا ہے تاکہ کام کرنے والے ایماندار شخص کو لوگ اپنا نمائندہ بنا سکیں۔ اسی لیے موجودہ وقت میں انتخاب کا استعمال وسیع پیمانے پر ہونے لگا ہے اور یہ نجی اداروں، کلبوں، یونیورسٹیوں، مذہبی اداروں وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جمہوریت کے لیے انتخاب کے عمل کو انتہائی معتبر اورغیر جانبدار مانا جاتا ہے مگر موجودہ وقت میں اسی انتخابات کو اپنی طاقت دکھانے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔

اس کا تازہ ثبوت ہفتہ کو اترپردیش میں اختتام پذیر ہوئے ضلع پنچایت صدور کا انتخاب ہے۔ مذکورہ انتخابات کے لیے ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ جو پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے اس کو فائدہ ملا ہے اور نتائج حکمراں پارٹی کے حق میں آئے ہیں لیکن جمہوریت کا ایسا ننگا ناچ شاید ہی پہلے کہیں دیکھا گیا ہوگا، جب طاقت کے زور پر دوسری پارٹی کے امیدوار کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روک دیا جائے یا نامزدگی کرنے کے بعد ووٹنگ سے عین قبل خرید لیا جائے یا نامزدگی کے بعد حکمراں پارٹی میں شامل ہوجائے۔ جمہوریت میں اس صورتحال کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا ہوگا۔ اسی طرح گورکھپور میں حکمراں پارٹی کے لوگوں نے اپوزیشن پارٹی کے امیدواروں کو نامزدگی داخل کرنے سے روک دیا۔ یہاں خرید و فروخت اور بلیک میلنگ کا جم کر ننگا ناچ ہوا، جس کی وجہ سے سماجوادی پارٹی نے اپنے 11 ضلع صدور کو پارٹی سے باہر کر دیا۔


انتخابات میں اس سے پہلے بھی جمہوریت کے خلاف کئی طرح کی باتیں ہوتی رہی ہیں، مگر تازہ پنچایت کے ضلع صدور کے انتخابات میں جس قدرجمہوریت کا ننگا ناچ ہوا ہے اس سے وطن عزیز کے باوقار جمہوری عمل کا سرشرم سے جھُک گیا ہے۔ اترپردیش میں ضلع پنچایت صدور کا انتخاب یوں تو ہفتہ کو ختم ہوا، لیکن تقریباً ایک تہائی اضلاع کے پنچایت صدور نام واپسی کی تاریخ گزرنے کے بعد ہی بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے جاچکے تھے۔ بلا مقابلہ طریقے سے ہونے والے اس الیکشن پر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے ہیں اور براہ راست طور پرانتظامیہ پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ حکمراں پارٹی کے امیدواروں کے حق میں کام کیا ہے۔ انتخابات کے لیے نامزدگی کی آخری تاریخ 26 جون تھی، جس کے ختم ہونے بعد 22 اضلاع کے پنچایت صدور بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

22 اضلاع میں بلا مقابلہ انتخاب کے بعد ہفتہ کو 53 اضلاع میں پنچایت صدور کے عہدے کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر نشستیں ایسی تھیں جہاں مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان ہی تھا۔ مجموعی طور پر یہ سامنے آرہا ہے کہ بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کے امیدواروں کو نامزدگی ہی نہیں کرنے دی۔ اس کے علاوہ پہلے سے اس بار کچھ زیادہ ہی خرید وفروخت کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ضلع پنچایت صدر منتخب کرنے والے ضلع پنچایت ممبران کو ایک ایک ووٹ کے عوض لاکھوں روپے دیئے گئے ہیں۔ ضلع پنچایت ممبران کے غائب ہونے یا پھر انہیں یرغمال بنائے جانے کی بھی خبریں ہیں۔


مرزا پور ضلع میں تقریباً ایک درجن ضلع پنچایت ممبران نے نوٹوں کی گڈیاں لے کر پولس سپرنٹنڈنٹ کے پاس پہنچ گئے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ کسی امیدوار نے انہیں مٹھائی بھیجی تھی لیکن مٹھائی کے ڈبے میں نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ دراصل اتر پردیش میں ضلع پنچایت صدور کا انتخاب اضلاع کے دیہی علاقوں کے ووٹروں سے سیدھے طور پر منتخب کیے گئے ضلع پنچایت ممبران کرتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران ہوئے ان ضلع پنچایت ممبروں کے انتخاب میں بی جے پی، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کے علاوہ عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔

سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی نے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ سب سے زیادہ پنچایت ممبر انہیں کی پارٹیوں سے جیتے ہیں۔ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں آزاد امیدوار سب سے زیادہ تھے جن پر سماجوادی اور بی جے پی دونوں ہی اپنے حامی ہونے کا دعویٰ کر رہی تھیں۔ ضلع پنچایت صدر کے عہدے کے لیے خریدو فروخت کا الزام لگاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور کانگریس پارٹی نے بھی ایک یا دو جگہ کے علاوہ امیدوار نہیں اتارے تھے۔اس طرح اہم مقابلہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی امیدوار ایسے کئی اضلاع میں بھی صدرعہدے پر بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں جہاں ان کی پارٹی کے محض دوچار ضلع پنچایت ممبر ہی جیتے تھے۔


ریاست کے ضلع پنچایت صدر کا انتخاب ایسا ہوگیا ہے جس میں ووٹ حاصل کرنے سے زیادہ اس بات پر زور رہا کہ کوئی بھی حریف الیکشن نہ لڑ پائے۔ یعنی پہلے تو پرچہ ہی داخل نہ کرپائے اور اگر کسی طرح پرچہ داخل بھی کردے تو اسے پرچہ واپس لینے پر مجبور کردیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنا سب ہونے کے باوجود الیکشن تو ہوگا ہی۔ لیکن اگر انتخابی عمل اس طرح کا ہے تو رائے دہند گان کے لئے غیر جانبدار ہوکر اپنے حق کا استعمال کر پانا کتنا آسان ہوگا؟ حالیہ انتخابات کے منصفانہ ہونے کی بات کہنا سراسر مذاق ہوگا کیونکہ بڑی تعداد میں ضلع پنچایت ممبر لاپتہ تھے۔ ان انتخابات میں ووٹروں کو خوش کرنے اور اپنی طرف کرنے کے لیے جو ہتھکنڈے اپنائے گئے وہ جمہوری عمل کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

ضلع پنچایت انتخابات کے دوران باغپت میں ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ دیکھنے کو ملا جب راشٹریہ لوک دل کی امیدوار کی نامزدگی کسی اور نے جاکر واپس لے لی۔ آر ایل ڈی امیدوار نے ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تو راجستھان میں ہیں۔ جب ہنگامہ ہوا تو ان کی نامزدگی پھر منظور ہوگئی۔ یہاں بی جے پی کے پاس کوئی امیدوار نہیں تھا، سماجوادی اور آرایل ڈی کے درمیان مقابلہ تھا مگر بی جے پی نے الیکشن کی حوس میں یہاں کے آر ایل ڈی امیدوار کو پارٹی میں شامل کرالیا۔ اس دوران ایسا پریشر پڑا کہ آرایل ڈی امیدوار پھر واپس اپنی پارٹی میں چلی گئیں۔


پھر بی جے پی نے سماجوادی لیڈر کو اپنے پالے میں لے کر الیکشن لڑایا اور جیت حاصل کی۔ یعنی امیدوار نہیں ہے پھر بھی سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلی گئی ہے، حالانکہ جیت کا ٹائٹل آرایل ڈی کو ہی ملا ہے۔ یعنی آپ انگوٹھا لگاتے ہیں لیکن گریجویٹ والی نوکری کے لیے۔ انتخابات میں اس طرح کی سرگرمیوں سے جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد کمزور ہوگا۔ اس طرح کی شفاف بدعنوانی جمہوریت پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرے گی۔ حکومت بدلتے ہی انہی ممبران کی وفاداری پھر بدل جاتی ہے اور راتوں رات حکومت کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ اس کا واحد علاج یہی ہے کہ انتخابات براہ راست کرائے جائیں۔ اگر شہروں میں میئر کا انتخاب براہ راست طریقہ کار کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ضلع پنچایت صدر کا کیوں نہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔