آبادی ہے بہانہ، صرف مسلمان ہے نشانہ!... نواب علی اختر

خود آسام کے وزیراعلیٰ 6 بھائی سے زیادہ ہیں، سابق وزیر اعلیٰ سربا نند سونوال 8 بھائی ہیں۔ یہ اپنے گھر میں نہیں دیکھتے اور صرف مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہیں۔

تصویر نواب
تصویر نواب
user

نواب علی اختر

مسلمانوں کی آبادی کے تعلق سے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا کے بیان پر ابھی ہنگامہ جاری ہی تھا کہ اترپردیش کے اسٹیٹ لاء کمیشن نے ریاست میں آبادی کنٹرول کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنا شروع کرکے اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جب آبادی کا بہانہ بنا کر مسلمانوں پر نشانہ لگایا گیا ہو۔ تقریباً ہر الیکشن سے پہلے بی جے پی کی طرف سے اس طرح کے گڑے مردے اکھاڑنا عام بات ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کو لے کر کئی بار مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں جو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش اور آسام کا اکثر ذکر ہوتا ہے اور بنیاد پرست لوگ مسلمانوں کے نام کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔

آسام کے وزیراعلیٰ نے گزشتہ ہفتے اقلیتوں کی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی، آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’آبادی دھماکہ‘ کو روکنے کے لیے مہاجر مسلمانوں کو خاندانی منصوبہ بندی پرعمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی دھماکہ جاری رہا تو ایک دن کامکھیا مندر کی زمین پر بھی قبضہ کرلیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ جیسے عہدے پر براجمان شخص کی زبان سے اس طرح کا فرقہ وارانہ اور ایک خاص کمیونٹی کے خلاف بیان واضح کرتا ہے کہ بی جے پی کے رہنماﺅں میں اب ذرہ برابر ذمہ داری اور آئین کا پاس ولحاظ نہیں رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بناتے ہوئے شرما نے بیان دیا وہ یقینی طور پر ملک کی گنگا-جمنی تہذیب اور آئین کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک طرح سے دھمکی دی گئی ہے کہ دو سے زیادہ بچے پیدا ہونے پر انہیں سرکاری نظام سے باہر کر دیا جائے گا۔


جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی شرح گزشتہ سالوں کے مقابلے کافی کم ہوئی ہے۔ دوسری طرف خود آسام کے وزیراعلیٰ 6 بھائی سے زیادہ ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سربا نند سونوال 8 بھائی ہیں۔ یہ اپنے گھر میں نہیں دیکھتے اور صرف مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہیں۔ در اصل بی جے پی آسام میں جب سے این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور اس میں مسلمانوں سے زیادہ اکثریتی طبقہ کا نام آیا تو اب انہوں نے آبادی کو بنیاد بنا کر اقلیتی طبقے کو پریشان کرنے اور نشانہ بنانے کی مہم شروع کردی ہے۔ یہ دراصل ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی بہت پرانی ہے، ان پر کسی طرح کا سوال اٹھانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام سے زیادہ دوسرے صوبوں میں آبادی کی شرح زیادہ ہے۔ آسام میں آبادی میں اضافہ کی شرح 70 ہویں نمبر پر ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم دستاویز قومی فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کی تین دہائیوں پر محیط پانچ رپورٹیں ہیں۔ یہ بطور ثبوت بہت سارے زمینی حقائق پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق آسام کی شرح پیدائش ملک کی اوسط کے ساتھ تقریباً مطابقت رکھتی ہے۔ شرح پیدائش یعنی کسی آبادی میں 15 سے 49 سال کے درمیان کی کوئی عورت اوسطاً کتنے بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔ 2005-06 میں قومی سطح پر شرح پیدائش 2.7 تھی تو آسام میں یہ 2.4 تھی۔ تازہ ترین رپورٹ میں یہ شرح 1.87 پر پہنچ گئی ہے۔ یعنی شرح پیدائش 2.1 کی اس لکیر سے بھی نیچے چلی گئی جسے حاصل کرنے کی مستقل کوششیں ہو رہی ہیں۔


آسام میں مسلم آبادی کی حقیقت کا جائزہ لینے پر سوال اٹھتا ہے کہ جس ریاست میں تقریباً ایک تہائی آبادی مسلمانوں کی ہے، وہ شرح پیدائش کو قابو میں کرنے میں ایسی کامیابی کی طرف کیسے بڑھ گیا؟ آسام میں تقریباً تین دہائیوں کے دوران مجموعی طور پر شرح پیدائش نصف کم ہوچکی ہے۔ 1992-93 میں جہاں یہ شرح 3.53 تھی، این ایف ایچ ایس کی تازہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2019-20 میں یہ 1.87 پر پہنچ گئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی شرح پیدائش دوسرے مذاہب کی بہ نسبت زیادہ ہے لیکن اس شرح میں کمی کی رفتار بہت تیز ہے۔ آسام میں 15 سالوں میں ہندوؤں کی شرح پیدائش 0.36 فیصد کم ہوکر 2 سے 1.59 تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کی شرح پیدائش تقریباً سوا فیصد گھٹ کر 3.64 سے 2.38 تک پہنچ گئی ہے۔

این ایف ایچ ایس کی تازہ رپورٹ کے مطابق آسام میں عیسائیوں کی شرح پیدائش سب سے کم ہے۔ اس کے بعد درج فہرست قبائل اور درج فہرست ذات کی ہے پھر ہندو اور مسلمان آتے ہیں۔ چنانچہ پیدائش کی کم ہوتی شرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسام میں مسلمانوں کی شرح کہیں سے بڑھتی نظر نہیں آرہی ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی پیدائش کی شرح باقی لوگوں سے کہیں زیادہ ہے تو یہ سچ ہے لیکن اس کا تعلق کئی چیزوں سے ہے۔ ان میں سے ایک تعلیم ہے۔ دوسرا، مسلمانوں کی معاشی حالت، دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے مسلمان اس میں پیچھے ہیں۔ پیدائش کی شرح میں اضافہ اور کمی کا تعلق خواتین کی تعلیم سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ این ایف ایچ ایس 5 کے مطابق 12 ویں پاس خاتون کے مقابلے ان کے بچے زیادہ ہیں جو خواتین اسکول جانے سے محروم رہیں۔


مسلمانوں میں سال درسال کم ہوتی شرح پیدائش آبادی مستحکم ہونے کے اعداد و شمار تک پہنچ گئی ہے۔ پیدائش کی شرح میں یہ گراوٹ دیگر برادریوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ خواندگی کی شرح میں اتنے بڑے فرق سے پیچھے ہونے کے باوجود آسام میں مسلمانوں کی شرح پیدائش باقی کے مقابلے بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہی نہیں اس میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی گئی ایک اور غلط فہمی کو آسام دور کرتا ہے کہ مسلمان خاندانی منصوبہ بندی کے لیے جدید ذرائع استعمال نہیں کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تمام مذہبی گروہوں میں سب سے زیادہ مسلمان ہی جدید ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ آبادی کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والوں کو یہ سرکاری اعداد وشمار آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہیں پھر بھی حسب ضرورت ایسے مسائل اٹھائے جاتے رہیں گے کیونکہ اس سے ان کو سیاسی فائدہ لینا ہے۔

فی الحال ہم لوگ 2011 کی مردم شماری پر منحصر ہیں لیکن 2021 کی مردم شماری کی جو رپورٹ آئے گی اس میں فیصد کی بنیاد پر آسام میں مسلمانوں کی شرح نمو پہلے کے مقابلے کم ہوگی۔ بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود گزشتہ انتخابات میں 6 فیصد ووٹ ہی انہیں نصیب ہوا۔ حالانکہ حکمران بی جے پی کے اس فیصلے کو ریاست میں ان کی طویل سیاسی خواہشات سے بھی جوڑا جارہا ہے کیونکہ سال 2011 کی مردم شماری کے حساب سے آسام کی مجموعی آبادی 3 کروڑ 11 لاکھ 69 ہزار میں مسلمانوں کی آبادی 1 کروڑ 67 لاکھ 9 ہزار ہے یعنی ریاست کی کل آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 34.22 یعنی ایک تہائی سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے 33 میں 9 اضلاع مسلم اکثریتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔