رفیق حیات حسرت موہانی: گھر کی چہار دیواری سے نکل کر انقلابی پرچم بلند کرنے والی خاتون- بیگم نشاط

بیگم نشاط النساء 1885ء میں اناؤ میں پیدا ہوئیں اور 1901ء میں حسرت موہانی کی شریک حیات بن گئیں۔

بیگم نشاط، حسرت موہانی
بیگم نشاط، حسرت موہانی
user

شاہد صدیقی علیگ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

(علامہ اقبال)

قادر مطلق نے خواتین کو صنف نازک ضرور بنایا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ملک وقوم کو ان کی ضرورت پڑی تو انہوں نے روایتی رسم ورواج سے بغاوت کرتے ہوئے مختلف میدان عمل میں ایسے عظیم کارنامے انجام دیئے، جنہیں دیکھ کر حریفوں نے دانتوں تلے انگلی دبالی۔ بیگم نشاط النساء کا نام بھی ایسی خواتین کی سرفہرست میں اولیں حیثیت رکھتا ہے، جنہوں نے گھر کی چہار دیواری سے نکل کر انقلابی پرچم کو بلند کیا اور اپنے خاوند عظیم انقلابی حسرت موہانی کے شانہ بہ شانہ خار راہوں پر چلیں، جو نہ صرف ایک باوفا شریک حیات تھیں بلکہ ایک محب وطن خاتون بھی تھیں،جن کی زبان سے شکوہ شکایت تو دور کبھی اف بھی نہ نکلی۔

رفیق حیات حسرت موہانی: گھر کی چہار دیواری سے نکل کر انقلابی پرچم بلند کرنے والی خاتون- بیگم نشاط

خواجہ حسن نظامی نے بیگم نشاط النساء کو مشاہیر ہند میں شامل کیا ہے وہ لکھتے ہیں :’’حسرت موہانی کی بیوی ہند کی عورتوں میں بڑی وفا شعار اور شوہر پرست عورت ہے۔ ایام بلا میں بھی وفا شعاری اس عورت سے ایسے ظاہر ہوتی ہے جیسے سیتا جی نے رام چندرجی کے ساتھ کی تھی۔‘‘ بیگم نشاط النساء 1885ء میں اناؤ میں پیدا ہوئیں اور 1901ء میں حسرت موہانی کی شریک حیات بن گئی۔ 1908ء میں حسرت موہانی کی پہلی گرفتاری بیگم نشاط النساء کی سیاسی زندگی کا نقطہء آغاز بنی، جس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اپنے شوہر کے ہر سیاسی اور عوامی مشن میں معاون رہیں اور قدم بہ قدم ساتھ دیا۔


بقول حسرت موہانی: ’’گرفتاری کے وقت شیر خوار بچی نعیمہ بہت زیادہ علیل تھی اوراتفاق سے گھر پہ نعیمہ کی والدہ اور ایک خادمہ کے سوا کوئی موجود نہیں تھا لیکن ان کی ذات سے اس نازک وقت میں بربنائے سیادت وتائید ربانی حیرت انگیز حوصلہ اور استقلال کا اظہار ہوا، گرفتاری کے دوسرے ہی روز بذریعہ سپرنڈنٹ ایک ایسا ہمت افزا خط بھیجا جسے دیکھ کر تمام قیدی متحیر رہ گئے۔ مولانا کہتے ہیں بفضل خدا احقر کی ہمت حق کی پیروی کی وجہ سے اسے مردانہ وار برداشت کرو میرا یا گھر کا بالکل خیال نہ کرنا خبردار تم سے کسی کی قسم کی کمزوری کا اظہار نہ ہو‘‘۔

اپنے پاس انہوں نے اپنے بھائی کو بلوالیا لیا جن کے ہمراہ وہ جیل میں بھی مجھ سے ملنے آئیں اور جب تک مقدمہ چلتا رہا ہر ہفتہ آتیں رہیں، آخر تک ان کی جرات وہمت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ 13؍اپریل 1916ء کو حسرت دوسری مرتبہ تحفظ ہند کے تحت حراست میں لیے گئے۔ یہ تاریخ بیگم حسرت کی زندگی میں انقلاب آفریں بنی، کیونکہ بیک وقت انہوں نے خاتون خانہ کے ساتھ ساتھ شوہر کے مقدمہ کی ذمہ داری بھی سرانجام دی۔


نشاط النساء نے حسرت کے پبلک ریلیشن آفسر کی خدمت دینے کے علاوہ رسل گنج میں سودیشی اسٹور بھی پوری لگن کے ساتھ سنبھالا اور مقدمہ کی پیروی کے ساتھ ساتھ پریس کے ذریعہ تمام حالات سے عوام کو بھی باخبر رکھا۔ 1917ء میں لارڈ ماننگو ہندوستان آئے تو ہر وفد کو خبر دار کر دیا گیا کہ وہ آزادی اور نظربندوں کے متعلق کوئی یادداشت پیش نہ کریں لیکن خواتین کے ڈیلگیشن نے اس کی ذرا بھی پروا نہ کی۔ بیگم حسرت نشاط النساء نے بڑی بے باکی اور جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر ہند سے کہا جب آپ آئر لینڈ کے باغیوں کو رہا کرسکتے ہیں تو پھر ہندوستان کی آزادی کے متوالوں کو بھی نظر بندی سے نجات کیوں نہیں؟ یہ کہتے ہوئے بیگم نے ’’نیو ایر‘‘ اخبار کا شمارہ انہیں پیش کر دیا جس میں ’’ماننگو اورمسلمان‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون چھپا تھا اور جسے حکومت نے ضبط کرلیا تھا۔ نشاط النساء کی بے جگری اور حوصلہ کو بڑی قدر مزلت سے دیکھا گیا اور ان کی خدمت میں سب نے خراج تحسین پیش کئے۔ وفد میں نشاط النساء، سروجنی نائیڈ، مسز آر۔جی۔داس اور ڈاکٹر جوشی وغیرہ شامل تھیں۔ انہوں نے 1921 میں بیگم خورشید خواجہ (عبدالحمید خواجہ کی اہلیہ) کے ساتھ کانگریس سبجیکٹ کمیٹی کی نمائندگی بھی کی۔

جب حسرت موہانی نے 1921ء میں احمد آباد کے کانگرس اجلاس میں کامل آزادی اور چھاپہ مار لڑائی کی تجویز پیش کرنے کا پختہ ارادہ کیا تو نباص وقت حسرت موہانی کو معلوم تھا کہ ان کی تجویز کو سب کی تائیدو حمایت حاصل نہیں ہوگی چنانچہ وہ ا پنے ساتھ نشاط النساء کو بھی اجلاس میں لے گئے کہ ان کی تجویز میں کم از کم ایک ووٹ تو پڑے اور ایسا ہوا بھی، حسرت کی تجویز سے مہاتما گاندی خوف زدہ ہوگئے آخرکار ان کی تجویز خارج کردی گئی، لیکن ان کی تجویز کے حق میں واحد آواز نشاط النساء کی تھی۔


تیسری بار 1922ء میں جب حسرت کی گرفتاری عمل میں آئی اس وقت ان کی اکلوتی دختر نعمیہ کی شادی مقرر ہوچکی تھی۔ لیکن بیگم حسرت نے بیٹی کو باپ کی کمی کا ذرا بھی احساس نہ ہونے دیا بلکہ خوشی خوشی گھر سے رخصت کیا۔ اس دفعہ حسرت کے حصہ میں قید فرنگ بارانکوپرودا (پونہ) میں ہوئی تو بیگم صاحبہ معہ اپنی پیٹی و داماد کے پونا میں ہی مقیم رہیں۔ لیکن کسی کے آگے دست دراز ہونا اس غیور وخود دار خاتون نے گوارا نہ کیا۔ دسمبر 1922ء میں گیا کانگرس کے وقت حسرت جیل میں ہی تھے۔ چنانچہ بیگم حسرت تنہا اس اجلاس میں شریک ہوئیں۔ جس میں ترک موالات کی مخالفت اور کاؤنسلوں میں شرکت کے سوال زیر بحث رہے۔ بیگم نشاط نے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مکمل آزادی کے خواہاں ہیں،علمبردار ہیں اور اس پروگرام کو ترک نہیں کرسکتے جو لوگ جزوی آزادی کے خواہاں ہیں وہ کاؤنسلوں میں آئینی اصلاحات کی قسط وصول کرسکتے ہیں۔

بیگم نشاط النساء نے ہر نامساعد حالات کا سامنا بڑی بے جگری سے کیا اور راہ حق پہ ڈٹی رہیں۔ انہوں نے کل ہند زنانہ کانفرس کو فعال بنانے اور اردو پریس میں پیپر مین کی خدمت بھی انجام دی۔ مولانا آزاد انہیں حسرت کی کوہ عزم وثبات بیوی کہہ کر یاد کرتے تھے۔ کشن پرساد کول نے بیگم حسرت کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے:۔ بیگم حسرت میں وطن پرستی اتنی نہیں تھی جتنی حسرت میں، ان کی حیثیت جدوجہد آزادی میں منفرد تھی۔ ان کا دماغ بمقابلہ حسرت زیادہ سلجھا ہوا تھا۔ حسرت کی صحبت نے اس میں چار چاند لگا دیئے تھے۔


اگرچہ بیگم نشاط النساء مالی طور پر کمزور تھیں، لیکن اتنی خودار طبعیت کی مالک تھی کہ کبھی دوسروں کی مالی مدد قبول نہیں کی۔ وہ گھر کے تمام اخراجات، سفر کا انتظام کتابوں اور رسائل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی سے کرتی تھیں۔ لیکن حسرت موہانی کی طرح بیگم نشاط النساء کو بھی تاریخ ہند میں وہ مقام نہ مل سکا جس کی وہ حقدار تھیں۔ یہاں تک کہ ان کا اکلوتا فوٹو جسے حسرت موہانی کے عزیزوں نے لندن کی ایک لائبریری سے حاصل کیا تھا وہ بھی ملک کے کسی میوزیم میں نظر نہیں آتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔