شاہجہاں کے بنوائے لال قلعہ سے وزیر اعظم کا نیا ہندوستان تعمیر کرنے کا عزم...سید خرم رضا

مغل شہنشاہ شاہجہاں کے بنوائے لال قلعہ سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے نئے ہندوستان کی تشکیل کی بات تو کی لیکن ساتھ ہی 75 سال پہلے ہونے والی ملک کی تقسیم کی یادوں کو بھی پھر سے تازہ کرنے کی کوشش کی

وزیر اعظم نریندر مودی / بشکریہ ٹوئٹر @narendramodi
وزیر اعظم نریندر مودی / بشکریہ ٹوئٹر @narendramodi
user

سید خرم رضا

ہر سال کی طرح اس سال بھی نئے رنگ اور انداز کی پگڑی پہنے وزیر اعظم نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے پرانے نعرے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس (ترقی)، سب کا وشواس (اعتماد) میں سب کا پریاس یعنی سب کی کوشش کو بھی جوڑ دیا۔ انہوں نے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر ہندوستان سے محبت کرنے والے امن پسند لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے جہاں ملک کی فوج، سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خاں، امبیڈکر اور سردار پٹیل وغیرہ کو یاد کیا وہیں انہوں نے ملک کے پہلے وزیر اعظم نہرو کو بھی یاد کیا اور کہا کہ قوم ان عظیم شخصیات قرضدار ہے۔ ویسے وزیر اعظم نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے خطاب میں ملک کی خرابیوں کے حوالہ سے گزشتہ 70 سالوں کا ہی ذکر کیا۔

وزیر اعظم خود بھی زیادہ جوش میں نظر نہیں آئے اور اپنے خطاب سے موجود مہمانوں میں بھی جوش نہیں بھر پائے جس کی وجہ شاید کا تقریر کو پرچے پر دیکھ کر پڑھنا رہا ہوگا۔ ان کے خطاب میں زیادہ تر ان منصوبوں کا ذکر تھا جو مختلف وزارتوں میں چل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کچھ باتوں کا جو ذکر کیا اس سے یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ یہ کئی سالوں سے انہوں نے کیوں نہیں کہی جیسے انہوں نے کہا کہ اب کھیلوں کو تعلیم کے مرکزی نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات اولمپک کھیلوں کے حالیہ اختتام کی وجہ سے کہی لیکن اس بات کو تو پہلے ہی سمجھنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اولمپک میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کا استقبال تالی بجا کر کیا اور کہا کہ ’’ان کھلاڑیوں نے ہمارا دل ہی نہیں جیتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔‘‘


وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا کے دور میں جس انداز میں ہندوستان نے اس وبا کا سامنا کیا وہ قابل تعریف ہے لیکن ہمیں اپنی پیٹھ تھپ تھپانی نہیں چاہئے۔ کورونا کی وبا کی دوسری لہر کے دوران حکومت کی خراب کارکردگی پر پوری دنیا میں سوال کھڑے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی وزیر اعظم نے حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی۔ ایک جانب پارلیمنٹ میں حکومت یہ کہتی ہے کہ ملک میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہوئی دوسری جانب وزیر اعظم نئے آکسیجن پلانٹ لگانے کی بات کر رہے ہیں! وزیر عظم نے اپنی تقریر میں یہ ضرور اعتراف کیا کہ ہندستان میں دوسرے ممالک کے مقابلہ طبی وسائل کم ہیں۔

مغل شہنشاہ شاہجہاں کے بنوائے لال قلعہ سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے نئے ہندوستان کی تشکیل کی بات کی اور 25 سال کے لئے ’امرت کال‘ کے منصوبہ کا ذکر کیا لیکن انہوں نے 75 سال پہلے ہونے والی ملک کی تقسیم کی یادوں کو پھر سے تازہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ انہوں خطاب میں بتایا کہ کل ہی حکومت نے ایک جذباتی فیصلہ لیا ہے کہ تقسیم کی یاد میں 14 اگست کو ’تقسیم کی ہولناک یادوں کے دن‘ کے طور پر ہر سال منایا جائے گا۔


وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے اور اس نئے عہد کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور کچھ ہی سالوں میں ہمیں اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہوگا۔ کئی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر انہوں نے ریزرویشن کے مدے کو بھی بھنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ملک کی ترقی میں کوئی پیچھے نہیں رہنا چاہیئے۔ اس موقع پر انہوں نے شمال مشرق، کشمیر، لداخ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ دور کنکٹیوٹی (روابط) کا دور ہے جس میں دلی کنیکٹوٹی کے ساتھ زمینی کنیکٹیوٹی بھی ضروری ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران اقتصادی چیلنجز کا ذکر ضرور کیا لیکن ہمیشہ کی طرح نئی اصلاحات بھی پیش کیں۔ اس موقعہ پر انہوں نے سب سے بڑے مسئلہ کسانوں کے احتجاج کا ذکر نہ کرتے ہوئے صرف یہ ذکر کیا کہ حکومت کسانوں کے لئے کیا کر رہی ہے۔ چھوٹے کسانوں کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انہیں کسانوں کے احتجاج سے دور رکھنے کی کوشش کی یعنی کسانوں کے احتجاج میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے چھوٹے کسانوں کو مضبوط بنانے کی تو بات کی لیکن جو کسان دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ 9 مہینوں سے احتجاج کر رہے ہیں، ان کے لئے ایک لفظ نہیں کہا۔


وزیر اعظم نے آخر میں چند لائن پڑھیں کہ ترقی کا یہی صحیح وقت ہے اور اس سے پہلے انہوں نے بہت خوبصورتی سے دفعہ 370، جی ایس ٹی، رام جنم بھومی، سرجیکل اسٹرائک وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان بدل رہا ہے، ہندوستان بدل سکتا ہے، ہندوستان کڑے سے کڑے فیصلے لینے سے چوکتا نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے بہت سے منصوبوں کا ذکر کیا لیکن وہ لوگوں میں وہ جوش نہیں بھر پائے جو ہر بار بھرتے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔