یوم آزادی: تجدید عہد کا دن!... نواب علی اختر

یہ وہ ہندوستان ہرگز نہیں ہوسکتا جس کی ہمارے مجاہدین آزادی نے خواہش کی تھی۔ وہ ایک پھلتا پھولتا اور ہنستا کھیلتا ہندوستان چاہتے تھے اور ایسے ہندوستان کی تعمیر ہم سب کا فرض ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

آج (15اگست) ہندوستان کا یوم آزادی ہے۔ ہم آزادی کے 74 سال کا سفر طے کرکے 75ویں سال میں داخل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ اس جشن آزادی کے موقع پر ہمارا دل باغ باغ ہے، ہماری امنگوں کی کوئی حد نہیں ہے، ہرطرف قومی ترانے کی گنگناہٹ تمام محبان وطن کو مسحور کر رہی ہے۔ آخر ہمارا ملک اپنی آزادی کے 75 سال میں جو قدم رکھ رہا ہے۔ پھر یہ احساس تو ایک فطری عمل بھی ہے جس کا براہ راست رشتہ ہر ہندوستانی سے بلا تفریق جڑ جاتا ہے اور جڑتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ وہی موقع ہے جب ہم مادر وطن کی زرخیز اور محبتوں سے لبریز مٹی میں انگریزوں کے زہریلے پودے اگانے کی غیر انسانی کوششوں کے دلخراش اور پرفریب مظالم کے خلاف بلا تفریق ہر ہندوستانی کے کھڑے ہو جانے کو یاد کرتے ہیں۔

وطن عزیز کے جشن آزادی کے موقع پر ہم اپنی زرخیزی اور توانائی کو بحال کرنے میں تمام دقت طلب کوششوں سے نبرد آزما ہونے والی اور کبھی نہیں بھولنے والی ہزارہا غیرمعمولی اور مثالی کہانیوں کو بھی باربار دہراتے ہیں۔ ہماری زبانیں جنگ آزادی کے مجاہدین اور ان کی قربانیوں کے تذکرے سے ہرگز بھی نہیں تھکتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر تذکرے ہوتے ہیں اسی قدر ہماری توانائی اور لذت میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ بلاشبہ ہماری یہی کیفیت بلا تاخیر ہر پل حب الوطنی کے سانچے میں ڈھلتی رہتی ہے اور ملک وبیرون ملک میں یہ پیغام بھی پہنچاتی رہتی ہے کہ سارے جہاں سے اچھا ہمارا پیارا ملک ہندوستان ہی ہے۔ یہ جشن کا خوشگوار لمحہ صدیوں کی تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔


ہندوستان کی آزادی انتہائی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد حاصل کی گئی ہے اور ہمارے مجاہدین آزادی نے بخوشی اور ہنستے ہنستے موت کو گلے لگا کر ہمیں یہ آزادی فراہم کی ہے اور انگریزی سامراج کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس آزادی کی قیمت کو سمجھیں اور مجاہدین آزادی کو حقیقی معنوں میں خراج عقیدت پیش کریں۔ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کی تصاویر پر پھول مالا چڑھائیں یا ان کی شان میں دو جملے کہہ دیں۔ اتنا کرنا حقیقی خراج نہیں ہوسکتا۔ حقیقی معنوں میں خراج عقیدت وہ ہوگا کہ ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کو پورا کریں، انہیں شرمندہ تعبیر کریں اور انہوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا اس کو حقیقت کا روپ دینے میں اپنی کوشش کو آگے بڑھائیں۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری آزادی کو کئی اطراف سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ آزادی کی 7 دہائیوں کے طویل عرصہ کے بعد بھی ہندوستان میں بھکمری اور بیروزگاری بہت زیادہ ہے۔ آج بھی دلتوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ آج بھی اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے حقوق کو سلب کرنے کی سازشوں اور کوششوں میں مزید تیزی آگئی ہے۔ آج غریب اور بھی غریب ہوتا جا رہا ہے اور امیر اور بھی امیر ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کی دولت چند مٹھی بھر تاجروں کے ہاتھ لگتی جا رہی ہے اور غریب کو دو وقت کی روٹی کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سماج میں مساوات کا گلا گھونٹ کر ہندوستان کی حقیقی روح کو فرقہ واریت اور تنگ ذہنیت سے مجروح کیا جا رہا ہے۔


آج کا ہندوستان ہمارے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان ہرگز نہیں ہوسکتا۔ آج ملک میں جو حالات پیدا کئے جا رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہیں۔ آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حالات کو تبدیل کیا جائے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ جس آزادی کو ہمارے آبا و اجداد نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا، اس کا بہر قیمت تحفظ کیا جائے گا۔ جس ہندوستان کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا، اس کو پورا کرنے کے لیے ہم بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ آج ملک کو فرقہ واریت سے آزادی دلانے کی ضرورت ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ہندوستان کی روح کو متاثر کرنے پر آمادہ ہیں۔ ہذیان اور جنون کی کیفیت پیدا کرتے ہوئے سڑکوں پر قتل و خون کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔

حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ محض شک و شبہ کی بنیاد پر بے گناہ اور معصوم افراد کو سرعام موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ہم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے دست و گریباں رہتے ہوئے ملک کی روح کو کس حد تک متاثر کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی نیک نامی کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہندوستان کی جو شبیہ تھی وہ بگڑتی جا رہی ہے اور اس کے لیے چند مٹھی بھر عناصر ہی ذمہ دار ہیں۔ ان عناصر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور یہی بات سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ یہ وہ ہندوستان ہرگز نہیں ہوسکتا جس کی ہمارے مجاہدین آزادی نے خواہش کی تھی۔ وہ ایک پھلتا پھولتا اور ہنستا کھیلتا ہندوستان دیکھنا چاہتے تھے اور ایسے ہندوستان کی تعمیر ہم سب کا فرض ہے۔


ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی کے ثمرات پر سب کا حق ہے۔ ترقی کے ثمرات سب میں مساوی انداز میں تقسیم کئے جانے چاہئیں۔ چند مٹھی بھر تاجروں کو ملک کی دولت پر قبضہ کرنے کا موقع دیدیا گیا ہے۔ اس سے جو محنت کش ہندوستانی ہیں وہ محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سماجی عدم مساوات کو روکنا ہے۔ اس کے خلاف جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ہندوستان بھر میں خوشحالی آئے، ملک مثالی ترقی کرے اور اس کی ترقی کے ثمرات سے محض چند مٹھی بھر تاجر گھرانے ہی نہیں بلکہ ہر ہندوستانی مستفید ہو۔ ہر ہندوستانی یہ محسوس کرے کہ وہ حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔ جب سماج فرقہ پرستی، بیروزگاری، عدم مساوات سے آزاد ہوگا، تبھی ہم اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان بنا سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔