یوگی حکومت قانون کی بالادستی ختم کرنے پرآمادہ!... نواب علی اختر

ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ نے چند روز قبل اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ستائش کرکے مظلوم اور استحصال کے شکارعوام کا ایک بار پھر مذاق اڑایا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

اترپردیش میں ویسے تو اکثر و بیشتر قانون کی دھجیاں اڑانے کے بے شمار واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ کہیں سیاستدانوں کی جانب سے تو کہیں خود پولیس افسران کی جانب سے متنازعہ اقدامات کئے جاتے رہے ہیں جس سے عوام میں ڈر اور خوف پیدا ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں ماضی میں کئی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت اکثریتی طبقے کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکا کر محض اپنا ووٹ بینک محفوظ رکھنا چاہتی ہے اسے ریاست کے نظم ونسق یا عوامی فلاح وبہبود سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بھگوا پارٹی کے دور اقتدار میں ایسی سرگرمیاں ہو رہی ہیں جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ ’راشٹرواد اور راشٹر بھکتی‘ کے نام پر ریاست کا ستیا ناش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ریاست میں انتخابات کے وقت تشدد عام بات ہوگئی ہے۔ حالیہ دنوں میں اختتام پذیر ہوئے پنچایت انتخابات میں کرسی کے لیے جس بے شرمی کے ساتھ تشدد کا ننگا ناچ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اپوزیشن کو لاٹھی ڈنڈوں کے زور پر کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکا گیا یہاں تک کہ ’ماؤں بہنوں‘ کی پجاری حکمراں پارٹی کے حامی غنڈہ عناصر نے خاتون لیڈر کو بھی نہیں بخشا۔ اس خاتون امیدوار کی تائید میں پرچے داخل کرنے سے روک دیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ سر عام اس خاتون کی ساڑی تک کھینچی گئی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا جس کے بعد ریاستی حکومت نے 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے اپنا فرض پورا کرنے کی رسم ادا کردی، جب کہ غنڈہ عناصر کو کھلے عام چھوڑ دیا گیا تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ان کا استعمال کیا جاسکے۔


جہاں تک اترپردیش میں نظم و نسق کی صورتحال کا مسئلہ ہے وہ تشویشناک ہی رہا ہے۔ کہیں ارکان اسمبلی پر لڑکیوں اور خواتین کی عصمت ریزی کا الزام عائد ہوتا ہے تو کہیں ایسے ہی مقدمات میں متاثرین کے رشتہ داروں کو حوالات میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ کہیں غنڈہ عناصر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے مخالفین کو دھمکایا جاتا ہے تو کہیں پولیس والے خود قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ جب سے آدتیہ ناتھ حکومت نے ریاست میں اقتدار سنبھالا ہے خود پولیس پر کئی واقعات میں قانون کی پاسداری کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے لوگوں کو ٹھکانے لگانے کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ ریاست میں انکاونٹر کا ایک سلسلہ چل پڑا تھا جس میں کئی افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر ہمیشہ ہی ایک انتہائی اہمیت کا حامل اور حساس مسئلہ رہا ہے۔ سیاستدانوں کی غلامی کرنے کی بجائے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اپنی پیشہ وارانہ دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری سے اپنا فریضہ نبھانا چاہئے۔ خواتین کی عزت و احترام سے کھلواڑ کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دی جانی چاہئیں تاکہ بی جے پی لیڈران کے ذریعہ خواتین کو با اختیار بنانے کی قسمیں کھانے، ان کی حفاظت کے دعوے پر یقین کرکے عوام حکمرانوں کے قول وفعل پر بھروسہ کرسکیں۔ کیونکہ عوام میں اپنی حفاظت اور ترقی کا اعتماد ہی کسی حکومت اور انتظامیہ کی سب سے بڑی کامیابی شمار کی جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بی جے پی کسی کی تجویز یا مشورے سے زیادہ اپنے طریقے پر ہی یقین رکھتی ہے۔


اترپردیش میں نظم ونسق کے حالات دگرگوں ہیں۔ مختلف گوشوں سے اس تعلق سے حکومت کی توجہ مبذول کرائی جاتی رہی ہے تاہم ریاستی حکومت ان حالات کو سدھارنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار نظر نہیں ہے۔ اس کے برخلاف ایسا لگتا ہے کہ حکومت قانون مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ریاست میں حالیہ دنوں میں جس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں، انہوں نے قانون کی بالادستی پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ کئی گوشوں کی جانب سے اس پر تنقیدیں ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان حالات کو واضح طور پر پیش کیا گیا ہے اس کے باوجود حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ یوگی حکومت کے اسی رویئے سے عاجز آکر حال ہی میں 74 سابق بیورو کریٹس نے وزیراعلیٰ کو مکتوب ارسال کرکے ریاست میں قانون کی حکمرانی ٹھپ ہوجانے کی بات کہی ہے۔

تقریباً 200 معروف شخصیات کے دستخط شدہ مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح ریاست میں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قومی سلامتی قانون کا بیجا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ گئو کشی کے نام پر الگ سے مسلمانوں کو اور دلتوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست میں کورونا بحران کے دوران ریاستی حکومت نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کئے ہیں اور حکومت کی جانب سے مزید بہتر انداز میں نمٹا جاسکتا تھا۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں برسر اقتدار پارٹی نے ایسا طرز حکمرانی اختیار کیا ہے جس سے دستور کی اقدار کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور قانون کی بالا دستی پرسوال پیدا ہو رہے ہیں۔


اب جب کہ ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، ایسے میں بی جے پی کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اترپردیش میں اقتدار برقرار رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنو سے لے کر دہلی تک تمام رہنماؤں نے اپنی پوری توجہ اترپردیش پر مرکوز کر دی ہے۔ ریاست میں وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ سے پارٹی ارکان اسمبلی کو جو شکایات ہیں ان کی پرواہ کئے بغیر آدتیہ ناتھ کی کٹر ہندوتوا امیج پر ہی ایک بار پھر ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ اس طرح ریاست میں بی جے پی کے لیے ایک عجیب صورتحال بن گئی ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی اور اس کے قائدین بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ نے چند روز قبل اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ستائش کرکے مظلوم اور استحصال کا شکارعوام کا ایک بار پھر مذاق اڑایا ہے۔ شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ریاست میں لا اینڈآرڈر کی صورتحال کو بہتری کے معاملے میں سارے ملک میں سرفہرست مقام دلا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو ملک کے وزیر داخلہ کو کم از کم نہیں بولنا چاہئے تھا۔ سارا ملک جانتا ہے اور خود نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار اس بات کے ثبوت ہیں کہ ریاست میں جرائم کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ اس پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کی ہدایت کرنے کی بجائے امت شاہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ستائش کرکے ریاست میں جاری بد نظمی سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔