احمد پٹیل اور ترون گگوئی کی غیر وقتی موت کی تلافی ممکن نہیں: ارشاد احمد

ارشاد احمد نے احمد پٹیل اور ترون گگوئی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس اور عوام کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی پیروی کرنے کی کوشش کریں گے۔

ترون گگوئی، احمد پٹیل، تصاویر بشکریہ ٹوئٹر @INCIndia
ترون گگوئی، احمد پٹیل، تصاویر بشکریہ ٹوئٹر @INCIndia
user

پریس ریلیز

سپریم کورٹ کے وکیل اور کانگریس لیڈر ارشاد احمد نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کانگریس کے دو سینئر رہنماؤں احمد پٹیل اور ترون گگوئی کی غیر وقتی موت پر بہت ہی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ارشاد احمد نے ان دونوں رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس اور عوام کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی پیروی کرنے کی کوشش کریں گے۔احمد پٹیل اور ترون گگوئی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ارشاد احمد نے پریس ریلیز میں کہا کہ احمد پٹیل کانگریس کے ایک سینئر رہنما تھے ، جو گجرات کے مختلف علاقوں سے تین بار لوک سبھا کے ممبر اور پانچ بار راجیہ سبھا کے ممبر رہے۔ اس وقت وہ راجیہ سبھا کے رکن تھے۔ اگست 2017 میں وہ پانچویں بار راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ سونیا گاندھی نے انہیں اگست 2018 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا خزانچی مقرر کیا تھا۔احمد پٹیل 1976 سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بھروچ میں لوکل باڈی انتخابات میں فتح کے ساتھ کیا۔

پریس ریلیز میں مزید لکھا گیا کہ مرکز میں یو پی اے حکومت کے دوران، احمد پٹیل ہر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو حل کرنے میں آگے تھے۔ خاص طور پر پارٹی اور حکومت کے مابین اختلافات کے وقت۔ کچھ لوگوں تو انہیں کانگریس میں نمبر 2 پر مانتے تھے۔

ترون گگوئی کے تعلق سے ارشاد احمد نے بتایا کہ وہ آسام کے سب سے طویل عرصے تک خدمت کرنے والے وزیر اعلی رہے اور 2001 سے 2016 تک آسام کے وزیر اعلی رہے۔ انہوں نے آسام میں کانگریس پارٹی کو مسلسل تین انتخابات تک کامیابی دلائی۔2001 سے آسام اسمبلی نے اسمبلی سے انتخابات جیتے اور آسام کے وزیر اعلی بنے۔ گگوئی نے لوک سبھا سے ممبر پارلیمنٹ (رکن پارلیمنٹ) کی حیثیت سے چھ مدت تک خدمات انجام دیں۔1979 سے 1985 تک گگوئی نے حلقہ جورہاٹ کی نمائندگی کی۔

ارشاد احمد نے احمد پٹیل کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ایک خط لکھا اور کہا کہ وہ اس دکھ میں ان کے ساتھ ہیں۔دوسرا خط ترون گگوئی کے اہل خانہ کو انھوں نے لکھا ہے اور ان کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار کیاگیا ہے اور کہا ہے کہ اس افسوسناک وقت میں ان کے ساتھ ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین