جہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں… اعظم شہاب

رام مندر کے لیے 3 ہزار کروڑ کی رقم تو موجود ہے، مگر غریبوں کے لیے ایک دھیلہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ کیسا رام راج ہے؟

پارلیمٹ، تصویر آئی اے این ایس
پارلیمٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

کورونا کی وباء کے پہلی اور دوسری لہر کے درمیان 10 دسمبر سنہ 2020 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے علاوہ ایک نیا رہائشی کمپلکس، جس میں وزیراعظم اور نائب صدر کے لئے رہائش گاہ کو شامل کیا گیا ہے، نیز کئی سرکاری عمارتیں اور وزارت کے دفاتر کو یکجا کر کے ایک سنٹرل سکریٹریٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کانگریس رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا تھا کہ ’پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی بنیاد لبرل ڈیموکریسی کے ملبے پر رکھی گئی ہے۔‘ ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا کے لوگ کورونا کی وبا سے پریشان تھے اس پروجیکٹ کا اعلان موجودہ سرکار کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر آنے والے اخراجات کو ’مجرمانہ ضیا‏ع‘ قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’ایک نئے گھر کے لیے اپنے غرور کے بجائے لوگوں کی زندگی بچانے کو توجہ کا مرکز بنائیں‘ لیکن راہل گاندھی کی یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔

حزبِ اختلاف نے اس منصوبے پر عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو یہ اپیل مسترد کر دی گئی۔ عدالت عظمیٰ کے تین ججوں کی بنچ نے 5 جنوری 2021 کو پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے زمین کے استعمال اور ماحولیاتی قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کا حوالہ دے کر پروجیکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو خارج کر دیا۔ اس طرح سپریم کورٹ کی منظوری لینے کے بعد کام شروع ہو گیا۔ کووڈ وبا کی دوسری لہر کے بعد اس کی تعمیر کو روکنے کے لیے لوگ پھر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہائی کورٹ میں گہار لگائی کہ لاک ڈاون کے دوران مرکزی حکومت کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا سرکلر صرف ہنگامی یا لازمی خدمات کی اجازت دیتا ہے اس لیے ان تعمیرات سے اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں گیا مگر اس نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، مگر عرضی گزاروں کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔


سپریم کورٹ سے بھی لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس نے جہاں وزیر اعظم کے گھر سے اس قدر ہمدردی کا مظاہرہ کیا وہیں اس کو دہلی کے قریب کھوڑی نامی بستی کی مسماری پر رحم نہیں آیا۔ اس کے حکم سے راجدھانی کے قریب واقع اس بستی میں ہزارہا لوگوں کے گھروں پر بلڈوزروں اور ملبہ ہٹانے والی مشینوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس علاقے میں موجود جنگل کو کئی دہائیاں قبل وہاں کانکنی کرنے والوں نے تباہ کردیا تھا اس کے باوجود سپریم کورٹ نے اس زمین کو محفوظ جنگلاتی زمین قرار دے کر وہاں موجود بستی کو ہٹانے کا فیصلہ کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد وہاں 30 برس سے بھی زائد عرصے سے رہائش پذیر کم از کم پانچ ہزار غریبوں اور مزدوروں کے گھروں پر تلوار لٹکنے لگی۔ وہاں موجود اسکول اور عبادت گاہیں اپنی مسماری کا انتظار کرنے لگیں۔

16 ؍جولائی 2021 کو اس فیصلے کے بعد سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اس بستی کی طرف جانے سے روک دیا تاکہ 19 ؍جولائی تک اس زمین کو صاف کیا جا سکے۔ وہاں کے لوگوں کو بستی چھوڑنے پر مجبور کرنے کی خاطر بجلی اور پانی کی سپلائی روک دی گئی ہے اور حد تو یہ ہے پانی کے ٹینکروں کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہزاروں میل دور بیٹھے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کو تو ان لوگوں پر رحم آگیا مگر چند میل کے فاصلے پر موجود ہمارے حکمراں بالکل سنگدل بن گئے۔ ان بے یارو مددگار لوگوں کے ساتھ نہ سرکار ہے اور نہ انتظامیہ ہے۔ ان کے لیے عدالت کے دروازے بھی بند ہوچکے ہیں اور میڈیا کو ان کی حالت زار میں کوئی دلچسپی ہے نہیں۔ رام مندر کے لیے 3 ہزار کروڑ کی رقم موجود ہے، مگر ان غریبوں کے لیے ایک دھیلہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ کیسا رام راج ہے؟


راجدھانی دہلی جہاں سے یہ دل دہلا دینے والی خبر آئی تو وہیں عروس البلاد ممبئی میں بارش کے سبب ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 26 ؍افراد ہلاک ہوگئے۔ متاثرہ چمبور اور و کرولی کے علاقوں میں راحت رسانی کا کام ہنوز جاری ہے۔ چمبور میں پہاڑی پر واقع ایک دیوار کچھ مکانات پر گر گئی اور 17 ؍افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ وکرولی میں 7 جھونپڑی مکین ہلاک ہو گئے نیز قریب کے بھانڈوپ علاقہ میں بھی ایک 16 ؍سالہ لڑکے کی موت ہو گئی۔ ان درد ناک واقعات کو پڑ ھنے کے بعد سینٹرل وسٹا پروجکٹ پر راہل گاندھی کا ٹوئٹ یاد آتا ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’سینٹرل وسٹا کے لیے مختص 13 ؍ہزار 450 کروڑ روپے میں انڈیا کے 45 کروڑ لوگوں کا ویکسینیشن مکمل ہو جائے گا، یا ایک کروڑ آکسیجن سیلنڈر آ جائیں گے، یا دو کروڑ خاندان کو نیائے اسکیم کے تحت 6000 روپے ماہانہ مل جائيں گے۔ لیکن وزیر اعظم کی انا تو لوگوں کی زندگی سے بڑھ کر ہے۔‘ وزیر اعظم نے خود کو چائے والا کہہ کر بہت ووٹ بٹورے مگر غریبوں کا بالکل خیال نہیں رکھا۔ مودی یگ میں سارے سرکاری اداروں نے امبانی اور اڈانی جیسے لوگوں کے مفاد میں ہی کام کیا اور دلّی کی جو صورت حال بنائی اس پر ملک زادہ منظور کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

چہرے پہ سارے شہر کے گردِ ملال ہے

جو دل کا حال ہے وہی دلّی کا حال ہے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔