عرفان صدیقی: ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے...معین شاداب

عرفان صدیقی بے شمار لوگوں کے آئیڈیل شاعر ہیں، انہیں ہرمکتب و مسلک اور ہر طبقے کے لوگ پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر ادبی نظریے میں یکساں مقبول تھے۔ ان کی محبوبیت کی بنیاد صرف اور صرف ان کی شاعری ہے۔

عرفان صدیقی / بشکریہ archive.org
عرفان صدیقی / بشکریہ archive.org
user

معین شاداب

عرفان صدیقی کی شہرت اور مقبولیت کسی ’اشتہار‘ کی رہین منت نہیں ہے اور نہ ہی انھیں عرفان صدیقی بنانے میں کسی ناقد کا کوئی عمل دخل ہے۔ پیشہ کے اعتبار سے وہ اطلاعات ونشریات کے شعبے سے ضرور وابستہ رہے لیکن سیلف پبلسٹی کی جدید تکنیک سے وہ قطعی ناواقف تھے۔ خود نمائی میں وہ یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ بات ہنر سے نہیں عرض ہنر سے بنتی ہے:

تم بتاتے تو سمجھتی اسے دنیا عرفانؔ

فائدہ عرض ہنر میں تھا ہنر میں کیا تھا

لیکن ان کی بے نیازی انھیں خود تشہیری کے حربوں اور ہتھکنڈوں کے استعمال سے باز رکھتی ہوگی۔ شہرت، مقبولیت اور محبوبیت کی منزلیں انھوں نے ’عرض ہنر‘ سے نہیں ’ہنر‘ سے سر کی تھیں۔ عرفان صدیقی کو باربار یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی شہرت کچھ دیر سے ہوئی یا انھیں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حق دار تھے، جبکہ ان کی مقبولیت کا عالم تو یہ تھا کہ سرحدوں کے پار آباد دنیا کے مختلف ممالک میں انھیں ہمارے ملک کا نمائندہ شاعر تسلیم کیا جاتا۔


عرفان صدیقی کو اس بات کا احساس بھی کرایا گیا کہ انھوں نے کم لکھا ہے۔ حالانکہ پانچ شعری مجموعے، ایک دو اور کتابیں کسی شاعر کا مرتبہ طے کرنے یا کم ازکم اس کا محاکمہ کرنے کے لیے کم تو نہیں ہوتے اور وہ بھی ایسے شاعر کے جو طرح دار بھی ہو۔ بعد میں ان کا کلیات بھی شائع ہوا، ہندوستان سے بھی اور پاکستان سے بھی۔ عرفان صدیقی اپنے قارئین اور سامعین کے دلوں میں گھر کرچکے تھے۔ نہ ان کی شہرت میں کمی تھی اور نہ انھوں نے اتنا کم لکھا کہ اس کا تذکرہ ہی نہ ہو۔ عرفان صدیقی پر لکھا بھی گیا اور ان پر بات بھی ہوئی۔ البتہ یہ سچ ہوسکتا ہے کہ بڑے تنقید نگاروں نے ان پر قلم نہ اٹھایا ہو یا پھر ان پر دیانت کے ساتھ نہ لکھا گیا ہو۔

ماہنامہ ’نیا دور (لکھنؤ) کے عرفان صدیقی نمبر (شمارہ اکتوبر-دسمبر2010) میں شمس الرحمن فاروقی نے اپنے مضمون ’عرفان صدیقی کی غزل‘ میں بڑی دلچسپ بات لکھی ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری کا عرفان حاصل کرنے کے بعد انھوں نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ ’’کیا ہم لوگوں نے عرفان صدیقی کے ساتھ انصاف نہیں کیا؟‘‘


شمس الرحمن فاروقی اعتراف کرتے ہیں۔ ’’میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ عرفان صدیقی کے کلام کا ہزار قائل ہونے کے باوجود میں ان پر کبھی کوئی مضمون نہ لکھ سکا۔ ایک تبصرہ میں نے ضرور لکھا اور وہ تبصرہ خاصا مفصل تھا لیکن تبصرہ تو ایک ہی کتاب پر ہوتا ہے پوری شاعری کا حوالہ تبصرہ میں ممکن نہیں۔ کیا وجہ تھی کہ انھیں اور ان کے کلام کو بے حد چاہنے کے باوجود میں نے ان پر کچھ سیرحاصل لکھا نہیں۔۔۔‘‘

شمس الرحمن فاروقی کا یہ بیان بے حد اہم ہے اور فکر کی دعوت دیتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اپنے اسی مضمون میں عرفان صدیقی سے کیے گئے ایک انٹرویو میں نیر مسعود کے ایک سوال اور اس کے جواب کا بھی حوالہ دیا ہے۔ نیرمسعود کا سوال تھا ’’عرفان صاحب آپ کے سلسلے میں بات ہوتی ہے تو ہم لوگوں کو قائمؔ چاندپوری کا خیال آتا ہے جو میرؔ اور سوداؔ کا ہم پلّہ شاعر تھا، لیکن اسے وہ شہرت نہ مل سکی۔ آپ سے بھی جو لوگ واقف ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ سے بہتر شاعر ہندوستان، پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ آپ سے ہم کو یہی شکایت ہے کہ آپ عرض ہنر نہیں کر رہے ہیں۔ آپ کے دو مجموعے ’کینوس‘ اور ’شب درمیاں ‘چھپے لیکن تقسیم ٹھیک سے نہیں ہوئے، محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے تعارف میں بہت بڑا ہاتھ شاید اس کی شاعری کے ’وولیوم‘ کا بھی ہوتا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ ’پی آر‘ کے تقاضے کیا ہوتے ہیں مگر یہ کہ کچھ طبیعت ادھر نہیں آتی۔


اپنے حق میں’رابطہ عامہ‘ کے لیے عرفان صدیقی کو اپنے مزاج سے جنگ لڑنی پڑتی اور اگر وہ دن رات اسی میں لگے رہتے تو پھر وہ حروف کون روشن کرتا جو عرفان صدیقی کی شناخت کا حوالہ بنے۔ حکومت ہند کی مرکزی اطلاعاتی سروس جیسے اہم ادارے میں انھوں نے اہم مدارج طے کیے۔ وہ اگر اپنی شاعری کو پروجیکٹ کرنے میں لگے رہتے تو کیا اپنے فرائض منصبی کے ساتھ انصاف کر پاتے؟ کیا پھر وہ کالی داس کی نظم ’رِتوسمہارم‘ کا اردو میں منظوم ترجمہ اس شان کے ساتھ کر پاتے۔ کالی داس کے ڈرامے ’مالویکا اگنی متر‘ کا براہ راست سنسکرت سے اردو میں منظوم اور منثور ترجمہ بھی انہیں کا حصہ تھا۔ مراقش کے ادیب محمد شکری کے سوانحی ناول کا اردو ترجمہ عرفان صدیقی کے ہنر کی ایک اور مثال ہے۔ انھوں نے ادب، صحافت اور ثقافت پر متعدد مضامین قلم بند کیے اور ریڈیو، ٹی وی کے لیے فیچرنگاری بھی ان کی مصروفیت کا حصہ بنی رہی۔

عرفان صدیقی کو جتنا پڑھا اور سمجھا گیا ہے یا ان پر جو کچھ لکھا گیا ہے، اور اس حوالے سے جو رائے قائم ہوتی ہے، اس کی روشنی میں اگر بات کی جائے تو عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے معماروں میں شامل ہیں۔ وہ نئی غزل کی آبرو بن گئے ہیں۔ موضوع اور اظہار کی سطح پر اردو غزل کو نیا چہرہ دینے کا جو سلسلہ مجازؔ، فیضؔ، جذبیؔ، مجروحؔ، جان نثار اخترؔ، مخدومؔ محی الدین، ناصرؔکاظمی اور ابن انشاء وغیرہ سے شروع ہوتا ہے، وہ زیبؔ غوری اور بانیؔ سے ہوتے ہوئے عرفانؔ صدیقی تک پہنچتا ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری پر بات کرنے کے لیے ناسخؔ و آتشؔ کے لہجے اور انیسؔ و دبیر ؔکے آہنگ سے واقفیت ضروری سمجھی گئی ہے۔ متقدمین سے استفادے کو سمجھ دار اور بیدار چشم شعرا کی خصوصیت مانا جاتا ہے۔ اپنے پیش رو اساتذہ فن سے فیض اٹھاتے ہوئے موضوع کو وسعت اور اظہار کو ندرت بخش کر ہی کسی طرز کو پایا جاسکتا ہے۔ عرفان صدیقی نے اس نکتہ پرعمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تازہ کار بنائے رکھا۔ اپنے عصر کی سچائیوں سے باخبری کے ساتھ ساتھ اساطیر، تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے واقفیت ان کے کلام کو آفاقیت عطا کرتی ہے۔ مزاج کی درویشی اور طبیعت کی تمکنت ان کی شاعری کو قلندری سے ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ عشق کا صحت مند اور باوقار تصور، غزل کو عرفان صدیقی کی دین ہے۔ عرفان صدیقی کی غزلوں میں ان کا عصر اس طرح بولتا ہے کہ وہ اپنے عہد کی آواز بن گئے ہیں۔


ذہن کے اختراع، فکر کی سنجیدگی، لہجے کے وقار، زبان کے انفراد، اسلوب کی تازگی، کلام کے رچاؤ، احساس کی شدت، اشعار کی تہہ داری، جذبات کی وارفتگی، اظہار کے بانکپن، ابہام سے پاک رمزیت، روشن علامات، خوش رنگ تشبیہات، جدید ترلفظیات اور خود کلامی کی لذّت سے عرفان صدیقی کے یہاں جو تحیر آمیزشعری فضا قائم ہوتی ہے اسی سے ان کا تخلیقی شناخت نامہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری کا ایک اور امتیازی وصف کربلا کا موضوع ہے۔ جو اپنے آپ میں ایک مکمل باب ہے۔ انھوں نے تخلیقی استعارہ کے طور پر سانحۂ کربلا کو جس انداز سے استعمال کیا ہے وہ مثالی ہے۔ کسی شاعر کے یہاں بیک وقت اتنی خوبیاں اسے اپنے عہد کا بڑا شاعر بنانے کے لیے بہت ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔