نواز دیوبندی: سخن کا مثالی ضابطہَ اخلاق... معین شاداب

نواز دیو بندی غزل کی داخلیت اور ایمائیت جیسی اعلیٰ خصوصیات کا لحاظ بھی رکھتے ہیں لیکن بات آپڑے تو برہنہ گفتاری میں بھی انہیں کوئی عار نہیں ہے۔

نواز دیوبندی، تصویر فیس بک
نواز دیوبندی، تصویر فیس بک
user

معین شاداب

بعض لوگ شخصی طور پر اتنے دل آویز ہوتے ہیں کہ ان کے فن پر بات کرنے بیٹھو تو پہلے ان کی شخصیت سامنے آکھڑی ہوتی ہے، جس کے حصار سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ ہمہ جہات اور ہمہ صفات ڈاکٹر نواز دیوبندی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آگہی کے اجالوں سے روشن ان کی شخصیت با وقار بھی ہے اور معتبر بھی۔ تجربات کی آنچ میں تپا ہوا وجود، فکر میں توازن، عمل میں اعتدال، گفتگو میں احتیاط، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کا اکرام اور ایسی ہی دوسری کئی وضع داریاں ان کے خوش رنگ وجود کا حصہ ہیں۔ ان کی ذات کا یہی حسن ان کی شاعری میں بھی روشن ہے۔

بامقصد اور اصلاحی شاعری نواز دیوبندی کا مطمح نظر ہے۔ پاکیزہ خیالی سے انہوں نے اپنے شعروں میں حسن آفرینی کی ہے۔ وہ نہ لفظوں کی مینا کاری کرتے ہیں اور نہ بیانیے کو غیر ضروری طور پر رنگین بناتے ہیں البتہ خیال کی تازگی اور لفظوں کی پرکاری سے اپنا سخن بناتے ہیں۔ اپنی شاعری میں انہوں نے نہ تو کسی حسینہ کی آنکھ کا کاجل چرانے کی کوشش کی ہے اور نہ بازار سخن میں کھوٹے سکّے چلانے کے حربے آزمائے ہیں۔ نواز دیو بندی غزل کی داخلیت اور ایمائیت جیسی اعلیٰ خصوصیات کا لحاظ بھی رکھتے ہیں لیکن بات آپڑے تو برہنہ گفتاری میں بھی انہیں کوئی عار نہیں ہے۔ غزل کا روایتی حسن بھی ان کے یہاں خوب رعنائی بکھیرتا ہے۔ ان کی بہت سی غزلیں کلاسیکی رویّوں سے بھری ہوئی ہیں۔


ڈاکٹر نواز دیوبندی کی شاعری کی اساس وہی درد مندی اور دل سوزی ہے جو حالی، اکبر اور اقبال کے سخن کی بنیاد ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان مشاہیر نے اپنی نظموں میں اس درد اور دل سوزی کی آبیاری کی ہے جبکہ نواز دیو بندی اپنی غزلوں میں انہیں بروئے کار لاتے ہیں۔

ڈاکٹرنواز دیو بندی نے اپنی شاعری کے لیے ایک مثالی ضابطہَ اخلاق وضع کیا ہے۔ کسی مہذب فردیا سماج کی جتنی ارفع قدریں اور فنون لطیفہ کی جتنی اعلیٰ روایات ہو سکتی ہیں ان کی یکجائی سے انہوں نے اپنی شاعری کا بلیو پرنٹ تیار کیا ہے۔ نواز دیوبندی کی تمام شاعری مثبت سوچ سے بندھی ہوئی ہے۔ رجائیت کا اجالا انہیں تاریکیوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ ان کی نظر گلوں پر رہتی ہے خاروں پر نہیں۔ یہ رویہ کانٹوں کی چبھن کو احساس فرحت میں بدل دیتا ہے۔ نواز دیوبندی کے پورے فکری سفر میں گرد سفر تو آپ کو مل سکتی ہے لیکن مسافت کی تھکن کہیں نظر نہیں آئے گی:

انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کر کے دیکھ

بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کر کے دیکھ


نواز دیو بندی کا سینہ ملّت کے درد سے روشن ہے۔ قوم کی المناک صورت پر وہ بے حدفکرمند ہیں۔ لوگوں کی کوتاہی اور تساہلی انہیں سونے نہیں دیتی۔ خوابیدہ ذہنوں کو بیدار کرنے کے لیے وہ اپنی شاعری کو نغمہَ سحر گاہی بنا دیتے ہیں :

خوابوں کے شوق میں کہیں آنکھیں گنوا نہ دیں

ہم سو رہے ہیں نیند نہ آنے کے با وجود

نواز دیوبندی کی شاعری معاشرے میں پھیلی خرابیوں کے خلاف ایک احتجاج ہے۔ نا انصافی، نا برابری اور تفریقی رویّے کے نتیجے میں نقص امن کے اندیشے سے وہ صاحبان اقتدار واختیار کو آگاہ کرتے ہیں :

میرے پیمانے میں کچھ ہے اس کے پیمانے میں کچھ

دیکھ ساقی ہو نہ جائے تیرے مے خانے میں کچھ


ڈاکٹر نواز دیو بندی نے اپنا قصر سخن جن بنیادوں پر تعمیر کیا ہے ان میں مذہبی فکر کو مرکزیت حاصل ہے۔ ان کی شاعری کا قابل ذکرحصّہ اسلامی تعلیمات سے روشن ہے:

مت کرو ظلم کے محل تعمیر

زلزلے بے سبب نہیں آتے

ستایا تھا جنہوں نے باپ کو کل

وہ برخوردار سے تنگ آگئے ہیں

ہمیشہ باپ نے نقلی دوائیں بیچی ہیں

تو بیٹا کیسے پھر اصلی دوا سے بچ جاتا

تنبیہ بھرے یہ اشعار بھی دیکھیں :

امیرو! کچھ نہ دو طعنے تو مت دو ان فقیروں کو

ذرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا

بد نظر اٹھنے ہی والی تھی کسی کی جانب

اپنی بیٹی کا خیال آیا تو دل کانپ گیا

اسلامی عقائد اور ایمان کی روشنی میں نواز دیوبندی بہت سے مسائل کا حل بھی لوگوں کو بتاتے ہیں :

کلام اللہ جب سے پڑھ رہا ہوں

مری بینائی بڑھتی جا رہی ہے

بلا سبب ہی میاں تم اداس رہتے ہو

تمہارے گھر سے تو مسجد کا فاصلہ کم ہے

نواز دیوبندی کی غزلیں اپنے عصر کے انحطاط، وقت کی چیرہ دستیوں،حالات کی ستم ظریفیوں، سیاسی سفّاکیوں اور سماجی جبر اور معاشرے کے دیگر بہت سے مسائل کی عکّاسی کرتی ہیں۔


ڈاکٹر نواز دیو بندی کے متعدد شعر ایسے ہیں جنہیں جدید تر غزل کے ذیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ جن میں انہوں نے اپنے اور اپنے عہد کے احساس کی تصویریں بنائی ہیں۔ خوابوں، خواہشوں اور تمنّاؤں کی سج دھج رکھنے والے ان کے اشعار جدید عصری میلانات اور تازہ ترحسیّت سے پر ہیں۔

حسن وعشق اور رومان اردو غزل کا مقبول رجحان اور بنیادی موضوع رہا ہے۔ نواز دیوبندی نے دائرہ موضوعات میں رومان اور جمالیات کا عنصر بھی شامل کرکے کلاسیکی غزل کے بنیادی تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔ انہوں نے عشق اور اس کی مختلف کیفیتوں اور لوازمات اور ان سے وابستہ لطیف جذبے اور جمالیاتی احساس کا بے، محابہ اظہار کیا۔ لیکن انھوں نے عشق کے تقدّس اور تکلّف کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار میں روحانی یا متصوفانہ جذبات بھی کار فرما ہیں۔

ڈاکٹر نواز دیوبندی نے اپنی شاعری میں کسی ظاہری آرائش کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ سادہ زبان اور لہجے کی سلاست ان کی شاعری کی زیبائش ہے۔ کمال یہ ہے کہ لفظوں کی سادگی اور راست بیانیے کے ساتھ انہوں نے اسلوب میں شوکت اور لہجے میں کھنک پیدا کی ہے۔ کوئی غیر ضروری لسانی تجربہ کیے بغیر یاکسی خاص ترکیب سازی کے بنا مفاہیم کی سطح پر غزل کی روایت کو استحکام بخشا ہے۔ ان کے یہاں جو علامتیں، تلازمے استعارے یا کنائے استعمال ہوئے ہیں وہ موضوع اور خیال کے فطری بہاوَ کے ساتھ آئے ہیں۔ تاریخی اشارے اور تلمیحات ان کے سخن کو خوش آئند بناتی ہیں۔


نواز دیو بندی کے بہت سے اشعار خواص وعوام میں مقبول ہیں۔ اشعار ہی کیا ان کی پوری پوری غزلیں مشہور ہیں۔ ان کے کئی اشعار میں حوالہ بننے کی صلاحیت ہے۔ ان کے ایسے ہی کچھ شعر پیش ہیں جو ضرب المثل بن گئے ہیں :

زندگی ایسی جیو کہ دشمنوں کو رشک ہو

موت ہو ایسی کہ دنیا دیر تک ماتم کرے

مزہ دیکھا میاں سچ بولنے کا

جدھر تم ہو ادھر کوئی نہیں ہے

اگر بکنے پہ آجاوَ تو گھٹ جاتے ہیں دام اکثر

نہ بکنے کا ارادہ ہو تو قیمت اور بڑھتی ہے

دینے کو تو میں بھی اسے دے سکتا ہوں گالی

لیکن مری تہذیب اجازت نہیں دیتی

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں

صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ

گنگناتا جا رہا تھا اک فقیر

دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دیر تک

بادشاہوں کا انتظار کریں

اتنی فرصت کہاں فقیروں کو

اس آدمی سے بڑی تمکنت سے ملتا ہوں

جو عاجزی کو خوشامد سمجھنے لگتا ہے

شہروں میں کرائے کے مکاں ڈھونڈ رہے ہو

یہ گاؤں کا گھر چھوڑ کے آنے کی سزا ہے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔