مہاراشٹر بی جے پی: انگور مزید کھٹّے ہوگئے

مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے بی جے پی کے 12ممبران کی معطلی سے اپنے ان 12؍لوگوں کا حساب برابر کر دیاہے جوگورنر کے ذریعے نامزدہونے کے منتظر ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی فائل تصویر آئی اے این ایس
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

مہاراشٹر میں بی جے پی کی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک بار اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ اگرریاست میں جلد ازجلد بی جے پی کی حکومت نہیں بن سکی تو خدشہ ہے کہ کہیں اس کے کچھ لیڈران سورگ ہی نہ سدھار جائیں۔ کیونکہ بی جے پی پر ریاستی حکومت کو عدم مستحکم کرنے اور اقتدار کی ہوس و بوکھلاہٹ کاجنون جس طرح طاری ہوچکا ہے وہ کسی بھی ناگہانی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے یا اگر کچھ نہیں ہوا تو کم ازکم ان میں سے کوئی اپنا ذہنی توازن تو ضرور کھوسکتا ہے۔ اب اسے اتفاق کہیں یا بی جے پی کی بدقسمتی کہ ایک دو نہیں بلکہ درجن بھر بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی کا ذہنی توازن ایک ساتھ بگڑا اور ایسا بگڑا کہ اسمبلی میں حکومت سازی تو دوراب اسمبلی میں ایک سال تک نظر آنے کا اپنا حق تک گنوابیٹھے ہیں۔

بات بی جے پی کے ان 12؍ممبرانِ اسمبلی کی ہے جنہیں اسمبلی کے حالیہ مانسون اجلاس کے دروان معطل کردیا گیا ہے۔ ان کی معطلی سے اب اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد جوپہلے105تھی اب گھٹ کر 93ہوگئی ہے۔کہاں تو یہ امید تھی کہ 288سیٹوں والی اسمبلی میں بی جے پی شیوسینا کے 56ممبران کو ساتھ میں لے کر حکومت بنالے گی اور کہاں یہ کہ جو نقد تھا اس پر بھی شب خون پڑگیا۔ انگور کھٹے ہونے والی کہاوت تو آپ نے ضرور سنی ہوگی۔ کانگریس وشیوسینا کے درمیان لفظی جنگ سے اقتدار کے انگور کچھ نیچے ضرور آگئے تھے، مگر12 ممبران کی معطلی سے معلوم یہ ہوا کہ اب وہ مزید اوپر جاچکے ہیں اوراس قدر کھٹے ہوچکے ہیں کہ بی جے پی کے رہنما پھرسے مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں کے خلاف ہذیان بکنے کی اپنے پرانی روایت پر لوٹنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔


بی جے پی کے جن ممبرانِ اسمبلی کو معطل کیا گیا ہے اس میں بی جے پی کے ایسے رہنما بھی شامل ہیں جن کے ناتواں کندھوں پرریاستی بی جے پی کا بھاری بھرکم بوجھ تھا۔ ان پر یہ ذمہ داری تھی کہ وہ کسی بھی طرح ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنانے کی راہ ہموار کریں۔غالباً انہیں کوششوں کا نتیجہ تھا کہ کانگریس اور شیوسینا کے درمیان لفظی جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر ناناپٹولے اگر بلدیاتی انتخابات علاحدہ لڑنے کا اعلان کررہے تھے تو وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے جو شیوسینا کے سربراہ بھی ہیں، کانگریس کے علاحدہ الیکشن لڑنے کی صورت میں عوام کی جانب سے جوتوں سے پذیرائی کی کا بیان دے رہے تھے۔ ایسے میں شیوسینا کے ترجمان سنجے راؤت کا یہ بیان کہ ’بھلے ہی ہم بی جے پی کے ساتھ نہیں لیکن وہ ہماری دشمن نہیں ہے‘، ریاست میں سیاسی ہلچل کے لئے کافی تھا۔اس سے صورت حال کسی قدر بی جے پی کے موافق ہوچلی تھی اور یہ سگبگاہٹ سنائی دینے لگی تھی کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت گرسکتی ہے اور شیوسینا وبی جے پی دونوں مل کر دوبارہ حکومت سازی کر سکتے ہیں۔

سیاسی مفاد پرستی کا یہ ایک عجیب نمونہ ہے کہ بی جے پی جس شیوسینا کو اپنے ساتھ ملاکر حکومت سازی کا خواب دیکھ رہی تھی، اس کے ممبران نے اسی پارٹی کے اسپیکر کے ساتھ بدکلامی وبدتہذیبی کا مظاہرہ کیا۔بھاسکر راؤ جادھو پہلے شردپوار کے ساتھ این سی پی میں تھے۔وہ مہاراشٹر کے صدربھی رہے،لیکن 2019میں جب پارٹی سے وفاداری تبدیل کرنے کا بازار سجا تو یہ بھی این سی پی چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہوگئے۔ وہ شیوسینا کے ٹکٹ پر الیکشن میں کامیاب ہوئے اورحالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران انہیں عارضی اسپیکر بنایا گیا۔ بھاسکر جادھو کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ممبران نے نہ صرف ان کے ساتھ بدکلامی کی بلکہ ان کے چمبرمیں انہیں دھکے بھی دیئے۔ ریاستی پارلیمانی امور کے وزیرانل پرب نے فوری طور پرایکشن لیتے ہوئے ایوان میں ان ممبران کوسال بھر کے لئے معطل کرنے کی تجویز پیش کی جسے اکثریت کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔


ریاست کے عالیجناب گورنر بھگت سنگھ کوشیاری پر یہ الزام ہے کہ وہ بھی دراصل مبینہ طور پر حزبِ مخالف کے ایک اہم رکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔ گورنر صاحب حکومت کو ہدفِ تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ریاست میں اوبی سی ریزرویشن کا معاملہ گرم ہے، جسے بی جے پی کیش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس نے ریاست بھر میں احتجاج بھی کیا جس میں اس کا سارا بخار ریاستی حکومت کے خلاف اترا۔ گورنر صاحب نے بھی اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے وزیراعلیٰ کو مکتوب لکھ کر اوبی سی ریزرویشن پر فوری طور پرفیصلہ کرنے کی تاکید کردی۔ جب یہ مکتوب میڈیا کے ہاتھ لگا تو اس پر خوب تنقید ہوئی۔ اوبی سی ریزرویشن دراصل سپریم کورٹ کے حکم پر رد ہواہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے اوبی سی اعدادوشمار طلب کئے تھے اوراس کے فراہم نہ کرنے کی صورت میں ریزرویشن منسوخ کردیاگیا لیکن گورنر صاحب نے اس کی بحالی کا مطالبہ ریاستی حکومت سے کرکے اپنی باخبری سب پرظاہر کردی۔

گورنر محترم کے پاس مہاوکاس اگھاڑی کے 12لوگوں کے نام کونسل کی نامزدگی کے لئے گزشتہ سال بھر سے دھول کھارہے ہیں۔ چونکہ گورنر صاحب پر الزام ہے کہ وہ ہرفیصلہ دہلی سے دریافت کرنے کے بعد ہی کرتے ہیں، اس لئے ان ناموں پر ہنوز کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ اگر ان کی نامزدگی ہوجاتی تو مہاوکاس اگھاڑی کی تعداد میں 12؍کا مزید اضافہ ہوجاتا۔ ظاہر ہے کہ اس کے پسِ پشت اسی طرح بی جے پی کی مرکزی حکومت کی سیاست کارفرما ہے جس طرح سی بی آئی اور ای ڈی کی کارروائیوں کے پسِ پشت وہ موجودہے، اس لئے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے بی جے پی کے 12ممبران کی معطلی سے اپنا حساب برابرکردیا ہے۔ اب بی جے پی خود اپنی ہی سیاست کی شکار ہوگئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 Jul 2021, 9:11 AM