اترپردیش: ’کھُلّا کھیل فروخ آبادی‘... اعظم شہاب

بی جے پی اور یوگی جی بھلے ہی دیگر پارٹیوں کے چند سو ممبران کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ریاست کے عوام ان کے اس’کھُلّا کھیل فروخ آبادی‘ کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

اترپردیش ضلع پنچایت صدور کے انتخاب میں دھاندھلی، غنڈہ گردی، خریدوفروخت اور سرکاری مشینری کے علانیہ طور پر غلط استعمال کا جومظاہرہ سامنے آیا ہے اسے دیکھ کر ڈائریکٹر ایشور نواس کی 2001 میں بنی فلم یاد آجاتی ہے جس کا نام تھا ’لو کے لئے کچھ بھی کرے گا‘۔ یعنی چاہے پورا ملک بی جے پی اور یوگی جی پر ’آخ تھو‘ کرے، پوری ریاست میں یوگی جی کے خلاف ناراضگی پھیل جائے، ہر بوتھ پر مارپیٹ ہوجائے، ووٹروں اورامیدواروں کا اغواء تک کرنا پڑے، مگر پاور، پیسہ اور اقتدار کے ذریعے اپنے امیدواروں کو کامیاب کرنے کے لئے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔ آخر ایسا ہو بھی کیوں نا؟ جب بی جے پی ملک ہی نہیں دنیا کی سب سے بڑی اور سنسکاری پارٹی ہے تو پھر بھلا یوپی میں اس کے سنسکار کا مظاہرہ کیوں نہ ہو، جہاں چند ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور جہاں کی کامیابی پر ہی دہلی کی کامیابی منحصر ہے۔ لیکن اس کامیابی سے کیا وہ اسمبلی انتخاب میں بھی کامیاب ہوجائے گی؟ اس پر ہم آگے بات کریں گے، پہلے ذرا بی جے پی کی کامیابی پر ایک عمومی نظر ڈال لیتے ہیں۔

ضلع پنچایت صدور کی کل 75سیٹوں میں سے بی جے پی نے 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے یعنی کہ اس کے67 ضلع پنچایت صدر کامیاب ہوئے ہیں۔ ان 75 سیٹوں میں سے 22 پر امیدواروں کا انتخاب بلا مقابلہ ہوا ہے جن میں سے 21 سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور اٹاوہ کی ایک سیٹ پر سماج وادی پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی کے پہلے ہفتے میں ہونے والے ضلع پنچایت ارکان کے انتخاب میں جو بی جے پی 3050 سیٹوں میں سے صرف 764سیٹوں پر سمٹ گئی تھی اور مودی جی کے حلقہ انتخاب ورانسی اور یوگی جی کے شہر گورکھپورسمیت متھرا، ایودھیا ولکھنؤ جیسے اضلاع میں اسے بری طرح ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہ دو ماہ بعد ہونے والے ضلع پنچایت صدور کے انتخاب میں اس قدر اکثریت کے ساتھ کیسے کامیاب ہوگئی؟


اس کا جواب ضلع پنچایت صدر کے انتخابی عمل کے ابتدائی ایام سے ہی ملنے ہی شروع ہوگئے تھے جب یہ خبریں آنے لگی تھی کہ بی جے پی کو سخت ہزیمت سے دوچار کر دینے والی سماج وادی پارٹی کے بیشتر امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی خارج کر دیئے گئے ہیں۔ اس کے بعد سلسلہ شروع ہوا خریدووفروخت کا جس میں غیر بی جے پی ارکانِ پنچایت کی بہت بڑی تعداد بازار کا مال بن گئی۔ اس کے بعد بھی جب کچھ کسر باقی رہ گئی توامیدواروں کا اغواء کرلیا گیا۔ جبکہ پولیس وانتظامیہ کی جانبداری کی شکایت اکھلیش یادو تک کرچکے ہیں۔ پرتاپ گڑھ میں بی جے پی کے لوگوں پر تو گیٹ توڑ کر بیلٹ باکس کو لوٹنے تک کا الزام لگا۔ رام پور میں ایس پی کے لیڈر رام گووند چودھری نے تو اپنے دو پنچایت ارکان کے اغواء کیے جانے پر دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ بی جے پی کے لوگوں نے ان کے دو ممبران کا اغواء کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ اوریّا میں سماج وادی پارٹی نے ڈی ایم اور ایس پی پر بی جے پی کی حمایت میں ووٹنگ کرانے کا الزام لگایا۔ ایس پی کے ضلع پنچایت صدر روی تیاگی نے جب اس کی مخالفت کی تو انہیں کمرے میں بند کرکے مارا پیٹا گیا۔ سون بھدر میں سماج وادی پارٹی کے لوگوں نے پولیس کی جانبداری اور بی جے پی کی حمایت میں ووٹنگ کروانے کے الزام میں کلکٹر گیٹ پر دھرنا دیا۔ مظفرنگر میں آزاد امیدوار ستیندربالیان نے حکومت پر ووٹنگ میں دھاندھلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر سنجیو بالیان کے ذریعے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس الزام کے بعد بھارتیہ کسان یونین اور راشٹریہ لوک دل کے کارکنان نے وہاں مظاہرہ کیا۔ اس طرح کی شکایتیں ایودھیا، بریلی، جونپور سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ سماج وادی پارٹی نے علی الاعلان کہا ہے کہ بی جے پی نے پولیس وانتظامیہ کی مدد سے اس کے امیدواروں اور ارکان کو توڑ کر یا ڈرا کر بی جے پی کے حق میں ووٹنگ کروایا ہے۔


مودی اور یوگی کے درمیان اختلاف کی خبر ابھی پرانی نہیں ہوئی ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت اور یوگی جی کے درمیان دھواں ابھی تک اٹھ رہا ہے۔ یہ اختلاف ضلع پنچایت انتخابات میں بی جے پی کی ہزیمت کے بعد شروع ہوا تھا جس کے بعد یہ خبریں آنے لگی تھیں کہ یوگی جی کی قیادت میں بی جے پی ریاستی اسمبلی کا انتخاب نہیں لڑنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد لکھنؤ سے لے کر دہلی تک یوگی جی کو جس ذلالت کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کا دل ہی جانتا ہوگا۔ اس کے بعد اب ان کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ وہ ضلع پنچایت ممبران کے انتخاب میں بی جے پی کی ہزیمت کا جواب دہلی کو ضلع پنچایت صدور کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے دیں، سو انہوں نے اس کے لئے اپنی پوری صلاحیت اور ساکھ ہی داؤ پر لگادی اور 75 میں سے 67 سیٹوں پر قبضہ کرتے ہوئے 2016 میں سماج وادی کی کامیابی کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔

اب یہ سوال کہ کیا بی جے پی یا یوگی جی اس کامیابی سے چند ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخاب جیت سکیں گے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو بی جے پی کے 100سیٹوں تک سمٹنے کی پیشین گوئی یقین میں بدل جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی اور یوگی جی نے بھلے ہی اپنے بے پناہ پیسوں، اقتدار اور غنڈہ گردی کے ذریعے حزبِ مخالف کے چند سو ممبران کو خریدنے اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں، مگر کیا ریاست کی عوام یہ سب نہیں دیکھ رہے ہیں؟ کیا اس کی سمجھ میں بی جے پی کا یہ کھلا کھیل فروخ آبادی نظر نہیں آرہا ہے کہ جن لوگوں کو انہوں نے ووٹ دیا تھا، بی جے پی انہیں ڈرا دھمکار کر جیت حاصل کر رہی ہے؟ ضلع پنچایت کے الیکشن میں نہ صرف براہمن بلکہ دلتوں نے بھی بڑے پیمانے پر بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اگر چند ماہ بعد ہونے والے انتخاب میں بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ ٹھاکرسمیت تمام برادری کے لوگ اسے ووٹ دیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی نے اپنی اس دھاندھلی سے اپنے مخالفین کی تعداد مزید بڑھالی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔