دہلی میں شدید بارش کے سبب غیر منظور شدہ کالونیوں، جے جے کلسٹرس اور دیہی عوام کو سخت تکالیف کا سامنا: دیویندر یادو
دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ غریب عوام کو مانسون کی مستقل بارش کے سبب سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریکھا گپتا مانسون کے مسائل کو دور کرنے کے لیے فوری قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے دہلی میں مانسون کی بارش سے پیدا مختلف طرح کے مسائل پر اپنی فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے شہر میں مسلسل ہونے والی بارش نے جے جے کلسٹرس، باز آبادکاری اور غیر منظور شدہ کالونیوں، شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والے غریب لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ مانسون کی بارش میں دہلی پوری طرح سے زیر آب ہو چکی ہے اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کہیں دور لوگوں سے مل کر فوٹو شوٹ کروا کر یہ بیان دے رہی ہیں کہ ہم نے پانی جمع ہونے کا مسئلہ حل کر لیا ہے۔ حقیقت کیا ہے، یہ دہلی کے لوگ جانتے ہیں۔ دہلی کی عوام کو اپنے گھروں سے باہر قدم رکھتے ہی پانی میں ڈوبنے کا خوف لاحق ہے۔ دیویندر یادو نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی مارچ کے مہینے میں دعویٰ کیا تھا کہ دہلی میں پانی جمع نہیں ہوگا اور دہلی کی عوام کو پانی بھرنے کے مسئلے سے نجات دلانا بی جے پی حکومت کی پہلی ترجیح ہوگی۔
دہلی کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے مانسون کی ہر بارش میں دہلی کی سڑکیں، کالونیاں اور بازار 2 سے 3 فٹ پانی میں ڈوب جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ادھر طغیانی کھاتی ہوئی جمنا ندی کے خطرے کے نشان کو عبور کرنے کے بعد سیلاب کا خوف دہلی والوں پر ایک دوہرا بحران مسلط کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر مجاز کالونیاں، دہلی دیہات، باز آبادکاری کالونیوں، جے جے کلسٹرس اور جھگی جھونپڑیوں میں بارش کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ ایسی حالت میں بی جے پی کی دہلی حکومت کچھ ریلیف فراہم کرنے کے بجائے کھوکھلے دعوے کر رہی ہے کہ پانی جمع ہی نہیں ہو رہا۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ایک طرف کناٹ پلیس، چانکیہ پوری، جنوبی دہلی اور این ڈی ایم سی علاقوں میں بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے لوگ شدید مشکلات اور ٹریفک جام کا سامنا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف آنند وہار آئی ایس بی ٹی، اکشر دھام، منڈکا، گیورا، نجف گڑھ، پیراگڑھی جیسے علاقوں میں شدید پانی جمع ہونے اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے لوگوں کا گھنٹوں وقت ضائع ہو رہا ہے۔ بارش کے پانی کے ساتھ لوگ گندگی سے بھی سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ سیوریج پمپنگ اسٹیشن کی کمی اور میونسپل کارپوریشن کی ڈیسلٹنگ (گاد نکالنے) میں بدعنوانی کی وجہ سے دہلی میں پانی جمع ہونا ایک بڑا بحران بن چکا ہے۔
دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو کے مطابق بی جے پی حکومت نے ڈیسلٹنگ کا کام کیا ہی نہیں، کیونکہ پی ڈبلیو ڈی نے مکمل ڈیسلٹنگ کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کی تھی، اور مانسون کی آمد کے بعد اس بارے میں کوئی بیان نہیں آیا۔ مانسون کی بارش میں ڈوبتی دہلی نے بی جے پی حکومت کی ڈیسلٹنگ میں ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگر ڈیسلٹنگ ہوئی ہے تو دہلی کے لوگ پانی جمع ہونے سے کیوں پریشان ہیں؟ پانی جمع ہونے کے بعد ڈیسلٹنگ میں ہونے والی بدعنوانی بھی ظاہر ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کریں کہ آخر نالوں سے گاد نکالنے کا کام مکمل کیوں نہیں ہوا؟ جن ٹھیکیداروں اور ایجنسیوں نے گاد نکالنے کا کام کیا ہے، ان کی جانچ ہونی چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔