رام مندر تعمیر: مسلمانوں کے لئے ہوش سے کام لینے کا وقت... ظفر آغا

اس وقت رام مندر تعمیر کی مخالفت میں مسلم اقلیت کا سڑکوں پر اتر کار یا جذباتی انداز میں مخالفت کرنا بے معنی ہے کیوں کہ مسجد ختم ہو چکی ہے۔

چناؤ سے قبل سنگھ اور بی جے پی کی ایسی فضا بنانے کی تیاری ہے کہ 1990 کے دور کی رام مندر تحریک کی ہولناک فضا دھومل پڑ جائے گی، یہ سخت امتحان کا وقت ہوگا جس میں میں صبر و تحمل ہی واحد چارہ ہے۔

مضمون نگار: ظفر آغا

جو پچھلے ہفتہ لکھا وہ صادق ہوا۔ اپنی سالانہ دسہرہ کی تقریب میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ اعلان کر دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنایا جائے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ سمیت 5 ریاستوں اور اگلے لوک سبھا چناؤ سے چند ماہ قبل موہن بھاگوت کو رام مندر کی تعمیر یاد آنا یقیناً ایک سیاسی چال ہے جو بہت سوچ سمجھ کر چلی جا رہی ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مودی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ ملک معاشی بحران کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔ ڈوبتا روپیہ، چڑھتی تیل کی قیمتیں، بڑھتی مہنگائی، کسانوں کی بے چینی، نوجوانوں کی بے روزگاری، شیئر بازار میں کھلبلی اور اس پر سرکار کے خلاف بڑھتا بدعنوانی کا شور، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ مودی کے لئے سن 2019 کا لوک سبھا چناؤ بے حد بھاری ثابت ہو سکتا ہے۔

زمینی حقیت تو مودی کو دوسری بار وزیر اعظم بننے کے حق میں نظر نہیں آتی۔ ادھر سنگھ کا مستحکم ارادہ ملک کو ہندوتوا راشٹر میں تبدیل کرنے کا ہے۔ اگر یہ کام سن 2019-24 کے درمیان نہیں ہو پاتا ہے تو شاید پھر کبھی نہ ہوسکے۔ اس لئے سنگھ کو مودی بحیثیت اگلا وزیر اعظم ہر صورت میں چاہیے۔ اس کا صرف ایک ہی چارہ ہے اور وہ یہ کہ عام ہندو دھرم کے جذبات میں بہہ کر نہ صرف اپنی پریشانیاں بھول جائے بلکہ نہ تو وہ دلت رہے اور نہ پسماندہ بچے۔ بس وہ اپنے کو محض بھگوان رام کا بھگت سمجھے اور اپنا ووٹ رام مندر کے حق میں بی جے پی کو ڈالے۔ اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ رام مندر مومنٹ دوبارہ شروع کیا جائے۔

جیسا راقم الحروف نے ابھی حال ہی میں لکھا کہ اس کی تیاری ہے۔ بھاگوت بھی رام مندر تعمیر کے لئے قانون سازی کا اعلان کر چکے ہیں۔ وشو ہندو پریشد سنتوں کی قیادت میں اس تحریک کو تیز کرنے کے لئے کمربستہ ہو چکی ہے۔ جنوری کے مہینے میں الہ آباد میں کمبھ میلے کے دوران مندر تحریک کا نقشہ تیار ہو جائے گا اور مودی یا پھر یوگی ان میں سے کوئی ایک پھر سے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بن جائے گا۔ پورا ہندوستان اور بالخصوص ہندی علاقہ مندر وہیں بنائیں گے جیسے نعروں سے گونج اٹھے گا۔ لیکن یہ حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں مسلم عنصر نہ جڑ جائے، یعنی رام مندر پر ہندو جذبات بھڑکانے کے لئے ایک مسلم مخالفت کا شور ضروری ہے۔ ملک کے جو سیاسی حالات ہیں ان میں عام مسلمان کی تو یہ جرآت نہیں بچی کہ وہ اب رام مندر کی مخالفت میں کھڑا ہو ۔اگر اب مخالفت ہو تو کاہے کی ہو! بابری مسجد مسمار ہو چکی ہے۔ اب وہاں کسی مسجد کا کوئی امکان نہیں بچا۔ ایک عدالت کا دروازہ بچا ہے سو سپریم کورٹ میں اس ماہ کے آخر تک اس معاملہ کی سنوائی شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ اب بابری مسجد تحفظ کے نام پر مسلم جذبات اور نعر ہ تکبیرکی گونج میں سن 1990 کی دہائی جیسی ریلیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

لیکن ہندو کو جذباتی بنانے کے لئے مسلم مخالفت ضروری ہے اس کام کے لئے کچھ نام نہاد مسلم قائدین کھڑے کئے جا سکتے ہیں۔ اگر مجمع نہیں اکٹھا ہوتا اور بڑی بڑی ریلی ممکن نہیں ہوتی تو ٹی وی پر کچھ ’قائدین ملت‘ ایسے بٹھائے جا سکتے ہیں جو رام مندر کے خلاف زہر افشانی کریں تاکہ ہندو جذبات بھڑک جائیں۔ سنگھ اور بی جے پی کا مقصد ہندو ووٹ بینک مستحکم کرنا ہے اور یہ مسلم منافرت کے بنا ممکن نہیں ۔ اس کے لئے ایک ہندوؤں کا ایک دشمن پیدا کرنا لازمی ہے جس سے مودی یا یوگی جیسا ’ہندو ہردے سمراٹ‘ ہندو ؤں کو نجات دلا سکے اور اس کام کے لئے سوداگر مسلم لیڈرشپ کھڑی کی جا سکتی ہے۔ اس لئے اب مسلم اقلیت کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اس مسئلہ میں جذبات سے پرے سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ ایک حکمت عملی بنانی چاہیے ۔

پہلی بات تو یہ کہ مسلم اقلیت کی جانب سے اس وقت رام مندر تعمیر کے لئے سڑکوں پر یا جذباتی انداز کی مخالفت کے کوئی معنی نہیں بچے ہیں، مسجد ختم ہو چکی ہے۔ وہاں رام مندر پوجا کے ساتھ 25 سالوں سے چل رہا ہے۔ بس اب عدالت میں مقدمہ ہے اور اس کے فیصلہ کا انتظار ہونا چاہیے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ یا بابری مسجد ایکشن کمیٹی یا پھر مسلم نام کے ساتھ کسی دوسری تنظیم کو اس معاملہ میں کسی قسم کے جذباتی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ تنظیموں کی قیادت اس وقت کے ناز ک حالات سے اچھی طرح واقف ہے۔ ان حالات میں مسلم تنظیمیں کوئی جذباتی قدم خود ہی نہیں اٹھائیں گی ۔ بس اب خود ساختہ قسم کے مسلم لیڈران ذاتی مفاد میں ٹی وی پر زہر افشانی کے لئے بٹھائے جاسکتے ہیں۔ جس کی سخت مذمت اور مخالفت ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ذمہ دار مسلم قیادت اس معاملہ میں اعلان کر چکی کہ بابری مسجد-رام مندر معاملہ میں عدالت کا جو فیصلہ ہوگا وہ مسلم قیادت کو منظور ہوگا۔ بس موجودہ حالات میں یہی سب سے بہتر مسلم حکمت عملی ہو سکتی ہے اور اسی پر عمل ہونا چاہیے۔

لیکن سنگھ اور بی جے پی رام مندر تعمیر کے لئے تیار ہیں۔ چناؤ سے قبل اس سلسلہ میں ایسی فضا بنائی جائے گی کہ سن 1990 کی دہائی کے دور کی رام مندر تحریک کی ہولناک فضا دھومل پڑ جائے گی۔ یہ سخت امتحان کا وقت ہوگا۔ اس دور میں صبر و تحمل ہی واحد چارہ ہے۔ اس لئے جوش نہیں اب محض ہوش کی ضرورت ہے اور صرف اسی میں بقا ہے۔

ظفر آغا کے دیگر مضامین:

یوگی جی، آپ نے تو ہماری پہچان ہی ختم کر دی... ظفر آغا

نریندر مودی اپنی اوقات پر لوٹے!... ظفر آغا

مودی راج مسلمانوں کے لئے سنہ 47 سے زیادہ خطرے کا دور .. ظفر آغا

مسلمانوں کو مودی کے خفیہ حلیف سے محتاط رہنے کی ضرورت... ظفر آغا

2019 کا لوک سبھا چناؤ مودی کے لئے مشکل ... ظفر آغا

سب سے زیادہ مقبول