نریندر مودی اپنی اوقات پر لوٹے!... ظفر آغا

آر ایس ایس اور بی جے پی نریندر مودی کی قیادت میں ایک بار پھر ملک کے اندر رام مندر کے نام پر مذہبی منافرت کی وہ آگ لگا سکتے ہیں جس کے آگے بابری مسجد کے شعلے بھی مدھم پڑ جائیں گے۔

By ظفر آغا

مودی اپنی اوقات پر آ گئے! جی ہاں، مودی کی سیاسی اوقات ہندو-مسلم فساد تک ہی ہے اور اب وہ اسی کی طرف تیزی سے لوٹ رہے ہیں۔ سنہ 2014 کے چناؤ میں نریندر مودی نے مسلم منافرت کی سیاست کے اوپر ترقی کا لبادہ پہن لیا تھا۔ لیکن سنہ 2018 آتے آتے ملک کو مودی کی حقیقت پتہ چل گئی۔ وہ وعدے جن کی آڑ میں سنہ 2014 میں مودی نے ہندوستان کا دل جیت لیا تھا، وہ جھوٹے ثابت ہوئے۔ نہ تو کسی کے بینک کھاتوں میں 15 لاکھ روپے آئے، نہ ہی 2 کروڑ نوجوانوں کو ہر سال روزگار ملا، نہ ہی ملک میں اسمارٹ سٹی کی چمک دمک نظر آئی، نہ بیٹیوں کی پڑھائی کا کوئی انتظام ہوا۔ سوچھ بھارت کے نام پر ملک کے زیادہ تر حصے کھُد گئے اور سڑکوں پر چلنا دشوار ہو گیا۔ الغرض سنہ 2019 کے چناؤ آتے آتے مودی کی قلعی کھل گئی۔

اب کیا ہو! پھر کیسے مودی اقتدار میں واپس لائے جائیں! سنگھ سے لے کر بی جے پی تک پورے سنگھ پریوار میں کھلبلی مچ گئی، تب سنگھ کو یہ سمجھ میں آیا کہ اب بھگوان رام کے علاوہ کوئی اور سہارا نہیں رہ گیا ہے۔ بس دیکھتے دیکھتے وشو ہندو پریشد نے سنت سمیتی کی بیٹھک بلائی اور رام مندر ایودھیا میں بنانے کا اعلان ہو گیا۔ سنت سمیتی نے یہ اعلان کیا ہے کہ یہ ملک اب اس معاملے میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا بھی انتظار نہیں ہوگا۔ جہاں جہاں بی جے پی حکومتیں ہیں وہاں وہاں سَنت گورنر سے مل کر حکومت پر دباؤ بنائیں گے۔ آخر میں جنوری کے مہینے میں الٰہ آباد میں ہونے والے کمبھ میلے میں مندر تعمیر کا اعلان ہو سکتا ہے اور مودی حکومت سے کہا جائے گا کہ وہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر ایک آرڈیننس پاس کرے تاکہ فوراً عالی شان رام مندر تعمیر کا کام شروع ہو سکے۔

لب و لباب یہ ہے کہ سنگھ اور بی جے پی مودی کی قیادت میں ایک بار پھر ملک اور خاص طور سے ہندی بولنے والی یو پی جیسی ریاستوں میں رام مندر کے نام پر منافرت کی سیاست کی وہ آگ لگا سکتے ہیں کہ جس کے آگے بابری مسجد کو گرائے جانے والے وقتوں کی منافرت کے شعلے بھی مدھم پڑ جائیں گے۔ جی ہاں، نریندر مودی ہندو-مسلم خلیج سیاست کے بادشاہ ہیں۔ سنہ 2002 کے گجرات فسادات سے قبل مودی کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ فسادات نے مودی کو ہندو ہردے سمراٹ بنا دیا اور بس مودی کا قد اتنا بلند ہوا کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ بھلا وہ مودی اب سنہ 2019 میں ملک کا دوبارہ وزیر اعظم بننے کے لیے واپس اپنی اوقات یعنی ہندو-مسلم منافرت کی سیاست پر واپس کیوں نہیں چلے جائیں گے۔ سَنگھ پریوار پہلے اسی طرح فضا بنائیں گے جیسے کہ سنہ 92-1991 کے وقت لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کے لیے بنائی تھی۔ اس یاترا کا اختتام بابری مسجد کے انہدام پر ہوا تھا۔ لیکن وہ فضا بنانے میں اس ملک کی مسلم اقلیت پر جو گزاری جائے گی اس کا اندازہ لگانا ابھی بہت مشکل ہے۔ سنہ 1992 میں بابری مسجد گرائے جانے سے قبل پورے اتر پردیش میں فسادات کا جو سلسلہ چلا تھا، اس بار اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر کچھ ہو سکتا ہے۔ ہندو-مسلم منافرت کی آگ کے شعلے اس قدر بلند کیے جائیں گے کہ دلت اور پسماندہ ذات کا عام اور غریب انسان یہ بھول جائے گا کہ وہ دلت یا پسماندہ ہے۔ بس وہ اپنے کو رام بھگت سمجھے اور ہندو ہردے سمراٹ نریندر مودی کو رام کے نام پر اپنی تمام پریشانیاں بھلا کر ’شردھا‘ (عقیدت) سے ووٹ ڈال دے۔ اس لیے پہلے ملک میں منافرت کی لپٹیں اٹھیں گی، پھر مودی جی غالباً کسی رتھ پر سوار ہو کر اڈوانی کی طرح رام مندر تعمیر کی شروعات کروانے ایودھیا جا سکتے ہیں۔ الغرض مودی جی نے گجرات میں ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بننے سے قبل گجرات فسادات کے ذریعہ جو فضا بنائی تھی، پھر وہی فضا بنائی جا سکتی ہے۔ اور پھر ہندو ہردے سمراٹ مودی جی چناؤ میں ’ہم اور تم‘ یعنی ہندو-مسلم کے نام پر ووٹ بٹورنے کی تیاری کریں گے۔

اس ماحول اور فضا میں آخر مسلم اقلیت کی کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے! حقیقت تو یہ ہے کہ فی الحال محض خاموشی کے علاوہ ہندوستانی مسلمان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے سنہ 92-1986 تک جو کیا اور ملک میں نعرۂ تکبیر کی شور میں مسجد کے تحفظ کے نام پر جو سیاست کی اس کے بدلے میں سنگھ نے ’ہندو رد عمل‘ پیدا کر دیا۔ اسی رد عمل میں مسجد تو گئی، ہزاروں مسلمانوں کی جانیں الگ گئیں۔ یعنی اللہ اکبر کا نعرہ لگتا ہے تو جے شری رام کا نعرہ زور شور سے لگے گا اور آخر مسلم جانیں جائیں گی۔ اس لیے یہ سمجھ لیجیے کہ اگر اس وقت بابری مسجد ایکشن کمیٹی جیسی کوئی سیاست مسلمانوں کی جانب سے ہوتی ہے تو وہ بی جے پی کی مدد کے لیے ہی ہوگی۔ ان حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہوگا وہی ان کو منظور ہوگا۔ کسی قسم کے مسلم جلسے جلوس اور نعرہ محض ہندو رد عمل ہی پیدا کریں گے۔ اس لیے خاموشی کے علاوہ اس وقت کوئی اور چارا نہیں ہے۔ قوموں کی زندگی میں اکثر وہ مقام آتے ہیں کہ جب صبر ہی بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔ رسول کریم ؐکے اولین مکی دور میں رسول ؐنے بھی صرف صبر سے کام لیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان پر کوڑا پھینکا گیا لیکن رسول ؐنے اُف تک نہیں کی۔ بس ہندوستانی مسلمان کے لیے اس وقت وہی سنت اپنانے کا وقت ہے۔

لیکن یاد رکھیے کہ یہ وقت ملک کی سیاست کے لیے انتہائی نازک وقت ہے اور اگلے چند ماہ ہندوستان میں رام مندر کے نام پر ملک کو ہندو-مسلم منافرت کی آگ میں جھونکا جا سکتا ہے، کیونکہ نریندر مودی کی سیاسی اوقات اس منافرت کی سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ اور اب مودی سنہ 2019 کا چناؤ اسی حکمت عملی پر لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں جس حکمت عملی نے سنہ 2002 گجرات فسادات نے ان کو ہندو ہردے سمراٹ بنا دیا تھا۔