2019 کا لوک سبھا چناؤ مودی کے لئے مشکل ... ظفر آغا

راہل گاندھی، نریندر مودی

کارپوریٹ اور اعلیٰ ذات سماجی نظام میڈیا کی پیٹھ پر سوار ہو کر مودی کے لیے پھر سے پوری طاقت جھونکے گا۔ اس صورت میں بھی سیاسی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی اپنے دم خم پر حکومت نہیں بنا پائے گی۔

سیاست وہ ہرجائی کھیل ہے کہ جس کا مزاج کب بدل جائے کوئی کہہ نہیں سکتا۔ ذرا سنہ 2014 پر پلٹ کر نگاہ ڈالیے تو آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ نریندر مودی کا عروج اللہ کی پناہ! ہندوستان گویا سب بھول کر مودی پر مر مٹا تھا۔ مودی کا ہر جھوٹ عام ہندوستانی کو اپنی زندگی کا ایک خواب نظر آتا تھا اور مودی اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا واحد ذریعہ لگتا تھا۔ مودی نے کہا کہ ہر غریب کے بینک میں 15 لاکھ روپے آئیں گے اور ہندوستانی غریب نے خواب دیکھ ڈالا کہ وہ بس اپنا قرض ادا کر دے گا، بیٹی کی شادی کر لے گا یا جلد ایک ہی کمرے کا سہی اپنا مکان بنا لے گا۔ مودی بولے روزگار کی بھرمار ہوگی اور بس ہر نوجوان کو لگا کہ انتخابات ختم اور تنخواہ ہاتھ میں، اور پھر مزے۔ چھوٹے بڑے تاجر کو مودی نے یقین دلایا کہ اس کے تو مزے ہوں گے، بینک کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوں گے۔ لون اور روزگارملے گا۔ مڈل کلاس یہ خواب دیکھنے لگا کہ ہندوستان اسمارٹ سٹی اور بلیٹ ٹرین جیسے چمک دمک سے ایک دوسرا دوبئی بن جائے گا۔ کسان کو لہلہاتے کھیتوں میں فصل نہیں دولت ٹپکتی نظر آنے لگی۔

لیکن خواب آخر خواب ہی تو ہوتے ہیں۔ اگر شرمندہ تعبیر نہ ہوئے تو چکناچور ہو جاتے ہیں۔ اور جب خواب ٹوٹتے ہیں تو ایک عجب مایوسی کا عالم ہوتا ہے۔ مودی راج کے چار برس بعد مودی کے سجائے خواب چکناچور ہو چکے ہیں اور اب ہندوستان ایک عجیب و غریب مایوسی کے عالم میں ہے۔ بس یہی مایوسی سنہ 2014 کے ہیرو مودی کو سنہ 2019 کا ویلن بنا سکتی ہے۔ گو ابھی لوک سبھا انتخابات کو تقریباً دس ماہ بچے ہیں، لیکن مودی کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے اور اس کے آثار اب نمایاں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات سے لے کر اب تک مودی کے لیے کوئی خوش آئند بات نہیں ہوئی ہے۔ گجرات مودی کے ہاتھوں سے جاتے جاتے بچا۔ چند ماہ بعد کرناٹک آخر ہاتھ سے نکل ہی گیا۔ اب گر انتخابی سروے کی مانیں تو نومبر-دسمبر 2018 میں ہونے والے تین صوبوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی ہار یقینی ہے۔ اگر 2018 دسمبر تک ہندی بیلٹ کے یہ تین اہم صوبے ہاتھ سے نکل گئے تو مئی 2019 میں لوک سبھا انتخابات میں مودی کی واپسی کتنی یقینی ہوگی اس بات پر کم از کم کوئی ذی ہوش شرط لگانے کو تو نہیں تیار ہوگا۔

اور تو اور، پچھلے چار چھ ماہ میں ہندوستانی سیاسی افق پر دو اہم تبدیلیاں بالکل واضح ہیں۔ پہلی، کل تک جس راہل گاندھی کا مذاق یہ ہندوستان بنا رہا تھا، آج اسی راہل گاندھی کی بات پر لوگ یقین کر رہے ہیں۔ پچھلے دو ماہ میں جتنے بھی سیاسی سروے آئے ہیں ان میں مودی کا ’پاپولیرٹی گراف‘ تیزی سے گھٹا ہے اور راہل کا گراف اوپر گیا ہے۔ اور ایک بڑے صحافی نے مجھ سے باتوں کے درمیان یہ بتایا ہے کہ یہ گراف مودی کے تعلق سے ہر ماہ ایک فیصد کم ہو رہا ہے جب کہ راہل کا گراف 2 فیصد بڑھ رہا ہے۔ بات صاف ہے، اور وہ یہ کہ آج کے ہندوستان میں مودی کا قد گھٹ رہا ہے اور راہل کا قد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ تب ہی تو کرناٹک الیکشن سے اب تک ملک میں سیاسی ایجنڈا مودی نہیں بلکہ راہل طے کر رہے ہیں اور بی جے پی ان کے حملوں کا جواب دیتی پھر رہی ہے۔ یہ کم و بیش وہی صورت حال ہے جو سنہ 2013 میں بی جے پی کے مقابلے کانگریس کی تھی، اب پانسہ پلٹ گیا ہے۔ اس وقت بی جے پی بھاگ رہی ہے اور اپوزیشن، بالخصوص کانگریس صدر راہل گاندھی بی جے پی کو دوڑا رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات سے چھ آٹھ ماہ قبل مودی کا یہ زوال اور راہل کا یہ اُبھار بی جے پی کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

پھر دوسری اہم تبدیلی گورکھپور اور پھول پور کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد آئی۔ گویا ان دو ضمنی انتخابات نے سیکولر اپوزیشن پارٹیوں کو گہری نیند سے جگا دیا۔ ان انتخابات میں مایاوتی اور اکھلیش نے ہاتھ کیا ملایا کہ جیسے تمام سیکولر اپوزیشن کو یہ سمجھ میں آ گیا کہ اگر ہم اکٹھا ہو گئے تو سارا ہندوستان گورکھپور اور پھول پور اور اگر ایک نہیں تو پھر مودی اور بس پھر باقی سب ختم۔ آج کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ مودی اور امت شاہ لاکھ کوششیں کر لیں، ہندوستان کی 90 فیصد سے زیادہ سیکولر اپوزیشن متحد ہو کر انتخابات لڑیں گے۔ سنہ 2014 میں اس بکھری ہوئی اپوزیشن کو 69 فیصد ووٹ ملے تھے جب کہ بی جے پی کو اتنی بڑی جیت کے باوجود محض 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اب آپ ہی سوچیے کہ مودی لہر کے خاتمے کے بعد متحدہ اپوزیشن بی جے پی کے لیے کتنی منحوس ثابت ہو سکتی ہے۔

پھر ہندو سماج کا وہ سماجی ڈھانچہ جس کو مسلمانوں کا حوا کھڑا کر نریندر مودی اور سنگھ نے ایک مضبوط ہندو ووٹ بینک میں تبدیل کر دیا تھا، آج وہ ووٹ بینک چرمرا رہا ہے۔ آج کسان پہلے کسان، دلت پہلے دلت اور زیادہ تر پسماندہ ذاتیں پہلے اپنی اپنی ذات پر واقع ہیں اور ہندو بعد میں ہیں۔ آخر اونا، سہارنپور، میرٹھ اور نہ جانے کتنی جگہوں پر ہونے والے دلت مظالم کے بعد بھلا کب تک دلت اپنے کو دلت نہیں محسوس کرے گا۔ بس یہی حال عام کسان کا ہے کہ جو سڑکوں پر اتر چکا ہے۔ پسماندہ ذاتیں بھی نیند سے جاگ رہی ہیں۔ تاجروں کا ایک بڑا طبقہ نوٹ بندی کی مار سے پریشان ہو کر پناہ مانگ رہا ہے۔ وہ نوجوان جس کی زبان ’مودی، مودی‘ کے نعروں سے سوکھی جاتی تھی وہ بھی اب بے روزگاری کی مار سے ’ہر ہر مودی‘ کے بجائے ’مودی ہراو‘ کی سمت بڑھ رہا ہے۔

لب و لباب یہ کہ سنہ 2014 کا خمار ٹوٹ گیا اور بس اسی کے ساتھ مودی بھی ٹوٹنا شروع ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کا کارپوریٹ اور اعلیٰ ذات سماجی نظام میڈیا کی پیٹھ پر سوار ہو کر سنہ 2019 میں مودی کے لیے پھر سے پوری طاقت جھونکے گا۔ اس صورت میں بھی سیاسی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی اپنے دم خم پر حکومت نہیں بنا پائے گی۔ ان حالات میں مودی کی واپسی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

آج کا ہندوستان مودی کا ہندوستان نہیں رہا۔ اربن نکسل واد کے نام پر پانچ لوگوں کی گرفتاری نے ملک کی سول سوسائٹی کا ضمیر جھنجھوڑ دیا۔ آج کے ہندوستان میں 69 فیصد غیر بی جے پی ووٹر نے یہ عہد کر لیا ہے کہ اس کو مودی کو ہر حال میں ہرانا ہے۔ ملک کے عوام کا یہ سیاسی دباﺅ اپوزیشن کے لیے سنہ 1977 جیسی فضا بنا رہا ہے کہ جہاں اپوزیشن کے پاس اتحاد کے سوا کوئی چارہ نہیں بچ رہا ہے۔ اور اگر یہ ہو گیا تو نریندر مودی نہیں، راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نیا ہندوستان سنہ 2019 میں پھر سے ابھر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول