پی ایم مودی بےحال عوام کے تئیں ’ماں‘ والا رویہ اپنائیں ’ساہوکار‘ والا نہیں: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا سے پیدا ملک کے حالات سے سبھی واقف ہیں اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی ماں کا بیٹا تکلیف میں ہے تو ماں اسے قرض نہیں بلکہ فوراً امداد کرے گی۔

user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ریجنل میڈیا سے پریس کانفرنس کے دوران کئی اہم باتیں ملک کے سامنے رکھیں اور پی ایم مودی سے عوام کے حق میں کئی گزارشات بھی کیں۔ پریس کانفرنس کی شروعات کرتے ہوئے انھوں نے سب سے پہلے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے جو معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے اس پر از سر نو غور کریں اور قرض فراہمی کی جگہ بطور مدد پیسے ڈائریکٹ ضرورت مندوں کی جیب میں ڈالنے کے بارے میں سوچیں۔

راہل گاندھی نے ریجنل میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کورونا سے پیدا ملک کے حالات سے سبھی واقف ہیں اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی ماں کا بیٹا تکلیف میں ہے تو ماں اسے قرض نہیں دے گی بلکہ فوراً مدد کرے گی۔ ٹھیک اسی طرح اس وقت ہندوستان کے کسانوں، غریبوں، مہاجر مزدوروں کو قرض کی نہیں بلکہ امدادی پیکیج کی ضرورت ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ڈائریکٹ ان کی جیب میں پیسے ڈالے جائیں۔

کانگریس لیڈر نے پریس کانفرنس میں پی ایم مودی سے اس بات کی بھی گزارش کی کہ وہ قرض ضرور دیں لیکن ضرورت مندوں کی مالی امداد کی طرف بھی دھیان دیں۔ انھوں نے کہا کہ "میں گزارش کرتا ہوں کہ آپ قرض ضرور دیجیے لیکن یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ بھارت ماتا اپنے بچوں کے لیے ساہوکار کی طرح کام نہیں کر سکتی۔ بھارت ماتا کو اپنے بچوں کو فوراً پیسہ دینا چاہیے کیونکہ آج انھیں پیسے کی ضرورت ہے۔ جو مہاجر مزدور سڑک پر چل رہے ہیں اسے قرض نہیں پیسے کی ضرورت ہے۔ جو کسان مسائل سے تڑپ رہے ہیں اسے قرض نہیں بلکہ پیسے کی ضرورت ہے، اور پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔"

راہل گاندھی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ "جب ماں اپنے ضرورت مند بیٹے کو پیسہ دیتی ہے تو اس کے دو اسباب ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے محبت۔ والدین بچے سے محبت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پیسہ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کے مستقبل ہوتے ہیں۔ یہ جو لوگ سڑک پر بھوکے پیاسے چل رہے ہیں وہ ہندوستان کے مستقبل ہیں۔ یہ ہمارے بھائی ہیں، ہماری بہنیں ہیں، ہمارے ماں باپ ہیں، ان کی ہمیں پوری مدد کرنی ہے۔ صرف حکومت کو نہیں بلکہ ہم سب کو مدد کرنی ہے۔ لیکن میں گزارش کرتا ہوں حکومت سے کہ آج لوگوں کو پیسے کی ضرورت ہے اور جو معاشی پیکیج کا انھوں نے اعلان کیا ہے اس پر دوبارہ سوچنا چاہیے اور ڈائریکٹ ٹرانسفر کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ پی ایم مودی کسانوں، مزدوروں کے بارے میں سوچیں کیونکہ انھوں نے ہی ہندوستان کو کھڑا کیا ہے۔"

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ "میں نے سنا ہے کہ پیسے نہ دینے کی وجہ ریٹنگز ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے آج تھوڑا ڈیفیسٹ بڑھا دیا تو باہر کی جو ایجنسیاں ہیں وہ ہندوستان کی ریٹنگ ڈاؤن کر دیں گی اور ہمارا نقصان ہوگا۔ لیکن میں پی ایم مودی جی سے پیار سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری جو ریٹنگ ہے وہ ہندوستان بناتی ہے، ہماری جو ریٹنگ ہے اس کو ہمارے کسان، مزدور اور چھوٹے بزنس والے بناتے ہیں۔ آج ان کو ہماری ضرورت ہے، ان کو پیسے کی ضرورت ہے، ریٹنگ کے بارے میں آج مت سوچیے، دوسرے ممالک کے بارے میں مت سوچیے۔ ہندوستان کے بارے میں سوچیے، اور جیسے ہی یہ لوگ کام کرنا شروع کریں گے، ریٹنگ بالکل درست ہو جائے گی۔ ریٹنگ میں کوئی دقت نہیں آئے گی۔ ہمیں ہندوستان کے دل کو دیکھ کر فیصلہ لینا ہے، غیر ممالک کو دیکھ کر فیصلہ نہیں لینا ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 May 2020, 1:11 PM