یوگی حکومت نے واپس لیا 12 گھنٹے کام کا ظالمانہ نوٹیفکیشن

نوٹیفکیشن منسوخ کیے جانے کے بعد ایک بار پھر اتر پردیش کے رجسٹرڈ کارخانوں میں نوجوان مزدوروں کے کام کی مدت روزانہ 8 گھنٹے اور ہفتہ میں 48 گھنٹے ہو گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی یوگی حکومت نے اپنے قدم پیچھے کھینچتے ہوئے مزدوروں سے 12 گھنٹے کام کرائے جانے کو لے کر جاری نوٹیفکیشن واپس لے لی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ریاستی حکومت سے جواب طلب کیے جانے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا، حالانکہ اس تعلق سے آئندہ 18 مئی کو سماعت ہونی ہے۔ یوگی حکومت کے ذریعہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کیے جانے کی خبر سے مزدوروں میں خوشی کا ماحول ہے اور لگاتار یوگی حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہی مزدور تنظیموں نے بھی اس قدم کا استقبال کیا ہے۔ نوٹیفکیشن منسوخ کیے جانے کے بعد ایک بار پھر اتر پردیش کے رجسٹرڈ کارخانوں میں نوجوان مزدوروں کے کام کی مدت روزانہ 8 گھنٹے اور ہفتہ میں 48 گھنٹے ہو گئی ہے۔

دراصل لیبر ایکٹ کے تحت اتر پردیش کے رجسٹرڈ کارخانوں کو نوجوان مزدوروں سے کچھ شرطوں کے ساتھ ایک دن میں 12 گھنٹے تک کام کرانے کی چھوٹ دینے سے متعلق نوٹیفکیشن یوگی حکومت نے ایک ہفتہ قبل ہی جاری کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یوگی حکومت اپوزیشن پارٹیوں اور مزدور تنظیموں کی تنقید کا نشانہ بن رہی تھی۔ اس سلسلے میں ورکرس فرنٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی بھی داخل کی تھی جس پر سماعت کے دوران یوگی حکومت کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ میں داخل مفاد عامہ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کارخانہ ایکٹ کی جس دفعہ 5 کے تحت یوگی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا، وہ غیر آئینی ہے۔ لہٰذا اس دفعہ کا استعمال کر جاری کیا گیا نوٹیفکیشن بھی غیر آئینی ہے۔ عرضی دہندہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوٹیفکیشن سے مزدوروں کی زندگی کے بنیادی حقوق اور لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی اور زیادہ منافع کے لیے مزدوروں کا استحصال شروع ہو جائے گا۔ عدالت نے اس عرضی کے مدنظر مرکزی و ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عرضی پر آئندہ سماعت 18 مئی کو کیے جانے کی بھی بات کہی گئی۔ یہ حکم چیف جسٹس گووند ماتھر و جسٹس سدھارتھ ورما کی بنچ نے سنایا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 May 2020, 12:11 PM