کھٹر حکومت مظاہرین کسانوں کے ساتھ تصادم کی حالت پیدا نہ کرے: بھوپندر ہڈا

ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا ہے کہ ہریانہ حکومت کو کسانوں کے ساتھ ٹکراؤ کی حالت پیدا کرنے کی جگہ ان کے مطالبات کی حمایت کرنی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور حزب مخالف لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے ریاست کی کھٹر حکومت پر قصداً کسانوں کے ساتھ ٹکراؤ کے حالات پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کرنال کے کیملا گاؤں میں وزیر اعلیٰ کی کسان مہاپنچایت کو لے کر حزب مخالف لیڈر نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب مرکز اور کسانوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے تو اس درمیان وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایسے پروگراموں کا کیا مطلب ہے؟ جب خود علاقے کے کسان وزیر اعلیٰ کے پروگرام کی مخالفت کر رہے تھے تو انھوں نے یہ تقریب منعقد کرنے کی ضد کیوں کی؟

ہڈا نے کہا کہ حکومت چاہتی تو مخالفت کو دیکھتے ہوئے وقت رہتے ہی اس تقریب کو منسوخ کر کے حالات کو بے قابو ہونے سے روک سکتی تھی، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ حکومت اکسانے والا قدم اٹھا کر ریاست کو انارکی کی طرف نہ دھکیلے، کیونکہ ریاست میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے ہی نظام قانون کی حالت خراب ہے۔ ایسے میں کسان تحریک کے دوران حکومت کو صبر رکھنا چاہیے اور کوئی بھی اکسانے والی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔


بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو کیملا جیسے انعقاد کرنے کی جگہ مرکزی حکومت سے بات کرنی چاہیے اور اسے تینوں زرعی قوانین واپس لینے کے لیے منانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ عوام کے نمائندہ ہیں اور انھیں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کسانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ تحریک کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ بتانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہڈا نے کہا کہ یہ پوری طرح سے کسانوں کی تحریک ہے۔ کسانوں کے مطالبات پوری طرح جائز ہیں، اسی لیے ہم کسانوں کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔ حکومت کو بھی تعصب چھوڑ کر ان کے مطالبات کو قبول کرنا چاہیے۔

ہڈا نے کہا کہ کسان تحریک کے لیے کانگریس نہیں بلکہ بی جے پی کی غلط پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت نے بار بار کسانوں پر بوجھ ڈالنے کا کام کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے کھاد کے کٹّے کا وزن تو کم کر دیا گیا، لیکن قیمت بڑھا دی گئی۔ اتنا ہی نہیں حکومت نے زرعی مشینوں پر بھی ٹیکس لگا دیا۔ پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔ اس نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی جگہ لاگت بڑھانے کا کام کیا۔


ابھے چوٹالہ کے ذریعہ استعفیٰ دینے کی پیشکش پر ہڈا نے کہا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں کانگریس اتحاد حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے جا رہی ہے۔ اگر تحریک عدم اعتماد کے دوران حکومت کے خلاف ووٹ ڈالنے کی جگہ ابھے چوٹالہ رکن اسمبلی عہدہ سے استعفیٰ دیتے ہیں تو اپوزیشن کی ایک سیٹ کم ہو جائے گی اور یہ بلاواسطہ طور پر حکومت کی مدد ہوگی۔ 3 زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والے اراکین اسمبلی کو استعفیٰ دینے کی جگہ متحد ہو کر ایوان میں حکومت کے خلاف ووٹ کرنا چاہیے۔ اس سے عوام کو بھی پتہ چل جائے گا کہ کون کسانوں کے ساتھ ہے اور کون حکومت کے ساتھ ہے۔

اس دوران ہڈا نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ تحریک کو اسی طرح پرامن اور منظم طریقے سے چلائیں جیسا کہ اب تک انھوں نے چلایا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت میں عدم تشدد ہی تحریک کا سب سے بڑا اسلحہ ہوتا ہے۔ اس لیے امید ہے کہ آخر میں کسانوں کے جدوجہد کی فتح ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔