دم توڑ رہا یوگی حکومت کا ’لو جہاد قانون‘، جھوٹے معاملوں سے لگاتار ہو رہی فضیحت

عروسہ رانا کا کہنا ہے کہ لو جہاد معاملے میں وہی ہو رہا ہے جس کا اندیشہ پہلے سے تھا۔ یہ قانون صاف نیت کے ساتھ نافذ ہی نہیں کیا گیا۔ اتر پردیش ریاست کے وزیر اعلیٰ محبت کو پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہیں۔

لکھنؤ میں لو جہاد قانون کے خلاف منعقد ایک تقریب کا منظر
لکھنؤ میں لو جہاد قانون کے خلاف منعقد ایک تقریب کا منظر
user

آس محمد کیف

اتر پردیش حکومت میں ’لو جہاد‘ کے نام پر ہوئے استحصال کی کہانیاں اب جانچ میں دم توڑ رہی ہیں۔ اس قانون پر خاص مذہب کے لوگوں کو ہدف بنانے اور انھیں ظلم کا شکار بنائے جانے کا الزام لگ رہا ہے۔ لو جہاد قانون کے تحت اب تک کل درج ہوئی 16 ایف آئی آر میں 86 لوگوں کو ملزم بنایا جا چکا ہے۔ لیکن یکے بعد دیگرے کئی معاملوں میں عدالت میں پولس کو فضیحت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ مراد آباد، بریلی، بجنور اور اب مظفر نگر کے معاملے میں عدالت کے فیصلوں نے اس قانون کے پیروکاروں کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ ان فیصلوں کے بعد سے لو جہاد کے درج ہو رہے معاملوں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

اس درمیان اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئے مذہب تبدیلی قانون کا استعمال کسی خاص مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کر رہی ہے۔ حالانکہ ملزم بنائے گئے 86 لوگوں میں سے 79 کا تعلق مسلم طبقہ سے ہے۔ جن چار معاملوں میں عدالت نے اتر پردیش حکومت کو آئینہ دکھایا ہے ان سبھی میں پولس کے ذریعہ کی گئی کارروائی کو غلط ٹھہرایا گیا ہے۔


پہلا معاملہ مراد آباد کا ہے جہاں عدالت کے حکم پر پنکی کو راشد کے پاس جانے کی اجازت مل گئی۔ مراد آباد کی جس لڑکی کی بجرنگ دل کارکنان کے ذریعہ جبراً اسقاط حمل کی بات کہی جا رہی ہے، عدالت نے اسے شوہر راشد کے حوالے کر دیا۔ پولس نے پنکی کے عدالت میں بیان ہونے کے بعد راشد اور اس کے بھائی کو بھی جیل سے آزاد کر دیا۔ پنکی اب اپنے سسرال میں ہے۔ مراد آباد ضلع کے کانٹھ تھانہ میں پہلے ماں نے پولس سے شکایت کی تھی کہ اس کی بیٹی کے ساتھ ’لو جہاد‘ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد پولس نے راشد اور اس کے بھائی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا، لیکن سچائی سامنے آنے کے بعد دونوں آزاد ہو چکے ہیں۔

دوسرا معاملہ بریلی کے فرید پور تحصیل کے رہنے والے ابرابر کے خلاف درج ہوا تھا اور یہ بھی جانچ میں جھوٹ نکلا۔ فرید پور میں نرسنگ کی ایک طالبہ نے ابرار پر الزام عائد کیا تھا کہ ابرار نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے طمنچے کی نوک پر روکا اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بنایا۔ ملزم کئی مہینوں سے طالبہ کا پیچھا کر رہا تھا۔ اتنا ہی نہیں، جب اس نے اپنے مذہب کے لڑکے سےش ادی کر لی تو ملزم نے اس کی سسرال جا کر شادی تڑوانے کی بھی کوشش کی۔ اس پورے معاملے کی شکایت طالبہ کی طرف سے فرید پور تھانہ میں کی گئی تھی اور پولس نے تحریری شکایت کی بنیاد پر لو جہاد کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔ اس پورے معاملہ کی تفتیش کے بعد بریلی ایس ایس پی روہت سجوان نے بتایا کہ طالبہ نے جس دن کا تذکرہ کیا ہے، اس دن ابرار جائے وقوع پر موجود ہی نہیں تھا۔ جھوٹا الزام عائد کرنے کے سبب شکایت دہندہ کے خلاف دفعہ 182 کے تحت کارروائی کیے جانے کی بات بھی کی گئی۔ پولس کے مطابق اس معاملہ میں تین ملزمین تھے جنھیں پولس کلین چٹ دے رہی ہے۔


مظفر نگر میں بھی لوجہاد کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جو کہ جھوٹا ثابت ہوا۔ حکومت نے عدالت میں خود کہا کہ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ دراصل مظفر نگر باشندہ مزدور ٹھیکیدار اکشے کمار تیاگی نے 29 نومبر 2020 کو ہریدوار باشندہ ایک مسلم نوجوان ندیم کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ اس نے الزام عائد کیا تھا کہ ندیم نے اس کی بیوی کو اپنے جال میں پھنسا کر اس کا مذہب تبدیل کرانا چاہا تاکہ شادی کر سکے۔ اس کے بعد نئے متنازعہ قانون کے تحت ندیم اور سلمان نامی شخص کے خلاف مظفر نگر واقع منصور پور تھانہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ مظفر نگر پولس نے نئے آرڈیننس ’لو جہاد‘ قانون کی دفعہ 3 اور 5 کے علاوہ تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت دھمکی دینے اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد ندیم نے گزشتہ مہینے ایف آئی آر کو رد کرنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ملزم ندیم کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس کے خلاف کسی طرح کے استحصال پر مبنی کارروائی نہ کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ یو پی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ تفتیش کر کے اپنا جواب داخل کرے۔ اس تعلق سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں یوگی حکومت کی طرف سے جوائنٹ ڈائریکٹر اودھیش پانڈے نے حلف نامہ داخل کیا۔ حلف نامہ میں کہا گیا کہ جانچ افسر کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے دونوں ملزمین کے خلاف لو جہاد قانون کے تحت معاملہ درج کیا جا سکے۔ گویا کہ کیس پوری طرح سے جھوٹ پر مبنی تھا۔


اس درمیان بجنور میں سنگیتا سے شائستہ بنی لڑکی کو اب اس کے اہل خانہ پریشان نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی ان کے خلاف اب لو جہاد کا کیس درج ہو سکے گا۔ بجنور میں سنگیتا سے شائستہ بنی لڑکی کو شریک حیات چننے کے حق کے تحت سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سنگیتا کو اس کے مسلم شوہر کی طرف سے 3 لاکھ روپے کی معاشی سیکورتی دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ سنگیتا اب شائستہ بن چکی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مہر کی رقم کم ہے اس لیے وہ ایسا کر رہے ہیں۔ سنگیتا کے اہل خانہ لگاتار اس کے شوہر اور سسرال والوں کے خلاف پولس میں مذہب تبدیلی کی شکایت کر رہے تھے جس کے بعد وہ خود عدالت پہنچ گئی تھی۔ اس کے علاوہ جسٹس سرل شریواستو نے یہ بھی کہا کہ دونوں بالغ ہیں اور لڑکی کے گھر والوں کو اب ان کی زندگی میں کوئی دخل نہیں دینا چاہیے۔

کانگریس کی اتر پردیش خاتون نائب صدر عروسہ رانا کہتی ہیں کہ اس معاملے میں وہی ہو رہا ہے جس کا اندیشہ پہلے سے تھا۔ یہ قانون صاف نیت کے ساتھ نافذ ہی نہیں کیا گیا۔ اتر پردیش ریاست کے وزیر اعلیٰ محبت کو پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہیں، وہ لو جہاد کے نام پر غلط فہمی کو بڑھا رہے ہیں۔ ان کا مقصد سماج کو تقسیم کرنا ہے۔ وہ دلوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہی ہو رہا ہے اور قانون کی کمزور گانٹھیں کھل رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔