’عدالت کی تنقید کے بعد مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں سے معافی مانگیں‘

ایک پریس کانفرنس میں کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’عدالت کو حکومت کو کہنا پڑا کہ اگر آپ کچھ نہیں کرسکتے تو عدالت قانون کو روک سکتی ہے۔ عدالت نے حکومت کی ناکامی پر مہر ثبت کردی ہے۔‘‘

رندیپ سنگھ سورجے والا، تصویر یو این آئی
رندیپ سنگھ سورجے والا، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ کسان تحریک کے خاتمے کے لئے کسانوں سے مذاکرات کی حکومت کی کوششوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کو سامنے آکر احتجاج کے دوران شہید کسانوں کو خراج تحسین پیش کرکے ان سے معافی مانگنی چاہیے۔

کانگریس کے میڈیا انچارچ رندیپ سنگھ سورجے والا نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج پر حکومت سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت کو حکومت کو کہنا پڑا کہ اگر آپ کچھ نہیں کرسکتے تو عدالت قانون کو روک سکتی ہے۔ عدالت نے حکومت کی ناکامی پر مہر ثبت کردی ہے اور کسانوں سے مذاکرات میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو آکر زراعت مخالف تینوں قوانین کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔


حکومت خود ان قوانین میں بہت ساری ترمیم کرنے کے لئے تیار ہے، لہذا یہ بات واضح ہے کہ قانون میں بہت ساری خامیاں ہیں اور حکومت سرمایہ داروں کی حمایت کر رہی ہے اور ان کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ کسان کو ان قوانین میں دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئے ان تینوں قوانین کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے بتایا کہ کسانوں کے احتجاج کے دوران اب تک 67 کسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکومت کی کسانوں کے ساتھ ہر مرتبہ بات چیت ناکام ہو رہی ہے اور حکومت کسانوں کے مطالبے کو قبول نہیں کرنے پر بضد ہے۔ ہی ایم مودی کو آگے آکر شہید کسانوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔

وزیر داخلہ امت شاہ، ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تین لوگوں کی وجہ سے کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لئے سردی میں سڑکیں کھودی گئیں، پانی کی بوچھاریں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو ان تینوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔