گردابی طوفان ’یاس‘ کی تباہی میں 4 افراد جاں بحق، اڈیشہ اور بنگال کے کئی علاقے زیر آب

بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ریاست میں تقریباً ایک کروڑ لوگ متاثر ہوئے اور 3 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گردابی طوفان کے سبب ریاست ’سب سے زیادہ‘ متاثر ہوا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

آج اڈیشہ اور بنگال دونوں ہی ریاستوں کے ساحلی علاقوں میں گردابی طوفان ’یاس‘ نے جو تباہی مچائی، اس میں لاکھوں لوگوں متاثر ہوئے ہیں۔ بنگال حکومت نے تو صرف اپنی ریاست میں تقریباً ایک کروڑ لوگوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یاس کی تباہی میں اب تک چار افراد کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق تین اموات اڈیشہ میں ہوئی ہے جب کہ بنگال میں ایک شخص کے موت کی خبر ملی ہے۔

گردابی طوفان یاس 26 مئی (بدھ) کو 130 سے 145 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار والی ہواؤں کے ساتھ ہندوستان کے مشرقی ساحلوں سے ٹکرایا، اور پھر موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ اس طوفان اور بارش میں کئی مکان منہدم ہو گئے۔ گردابی طوفان کی وجہ سے اڈیشہ کے دھامرا بندرگاہ کے پاس ذیلی علاقوں میں پانی بھر گیا۔ ان علاقوں سے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔


اڈیشہ کے اسپیشل ریلیف کمشنر (ایس آر سی) پی کے جینا نے بتایا کہ بالاسور ضلع کے بہناگا اور ریمونا بلاک، اور بھدرک ضلع کے دھامرا اور باسودیو پور کے کئی گاؤوں میں سمندری پانی گھس گیا۔ انھوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ مقامی لوگوں کی مدد سے گاؤں سے پانی نکالنے کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔ جینا نے بتایا کہ میوربھنج ضلع کے سملی پال نیشنل زولوجیکل گارڈن میں زبردست بارش کے سبب بدھ بلنگ ندی میں اچانک سیلاب آنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوپہر میں ندی کی آبی سطح 27 میٹر کے خطرے کے نشان کے مقابلے 21 میٹر پر تھی۔ انھوں نے کہا کہ صورت حال خراب ہوتا دیکھ کر میوربھنج ضلع انتظامیہ نے ندی کے دونوں طرف واقع کچھ علاقوں اور باریپدا شہر کے کچھ ذیلی علاقوں کو خالی کرانا شروع کر دیا۔ لیکن بعد میں جب طوفان کا اثر کم ہوا تو باز آبادکاری کا کام شروع کیا گیا۔

جہاں تک مغربی بنگال میں اس طوفان کے اثر کی بات ہے، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ریاست میں تقریباً 3 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گردابی طوفان کے سبب ریاست ’سب سے زیادہ‘ متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس قدرتی آفت سے بنگال میں کم از کم ایک کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ راحت کاری سے متعلق کاموں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ لاکھوں لوگوں کو ذیلی مقامات سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور متاثرہ علاقوں میں 10 کروڑ روپے کی راحتی اشیاء بھیجی گئی ہے۔


ایک دفاعی افسر نے بتایا کہ اڈیشہ کے بالاسور ضلع کے ساتھ ملحق سرحدی علاقہ والے شمالی میدنی پور کا دیگھا پوری طرح سے پانی میں ڈوب گیا ہے اور راحت و بچاؤ کام کے لیے فوج کو بلایا گیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ فوج نے ریاستی انتظامیہ کی مدد کے لیے مغربی بنگال میں 17 کالم تعینات کیے ہیں۔ دفاعی افسر نے یہ بھی کہا کہ فوج کے ذریعہ راحت اور بچاؤ مہم ہوڑہ ضلع کے آرفولی میں بھی چلائی جا رہی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس مشکل وقت میں سبھی لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’تقریباً پورے مغربی بنگال میں پانی بھر گیا ہے۔ کئی پشتے ٹوٹ گئے ہیں اور سمندر کا پانی جنوبی 24 پرگنہ کے ساگر اور گوسابا جیسے علاقوں اور شمالی میدنی پور کے مندارمنی، دیگھا اور شنکر پور جیسے ساحلی علاقوں میں گھس گیا ہے۔ ذیلی علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘‘


اس درمیان گردابی طوفان یاس نصف شب کے بعد جھارکھنڈ کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ رانچی میں افسران نے بتایا کہ اس اندیشہ کو دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ریاست کے ذیلی علاقوں کو خالی کرایا جا رہا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سکریٹری امیتابھ کوشل نے بتایا کہ ’یاس‘ کے مدنظر کچھ دیگر اضلاع کے علاوہ شمالی اور مغربی سنگھ بھوم کے حساس علاقوں میں جنگی سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔