کورونا بحران میں ’فلپکارٹ‘ کی چاندی، تین مہینے میں 23 ہزار لوگوں کو دی ملازمت

فلپکارٹ کے ذریعہ جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مارچ سے مئی 2021 میں اس نے ڈلیوری ایگزیکٹیو سمیت اپنی سپلائی چین میں مختلف شعبوں میں ملکی پیمانے پر 23000 لوگوں کو کام پر رکھا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

کورونا بحران میں ایک طرف جہاں کئی کمپنیاں بند ہونے سے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی کمپنیوں نے ملازمین کی تعداد میں تخفیف کی ہے، وہیں فلپکارٹ لگاتار اپنے ملازمین کی تعداد کو بڑھا رہا ہے۔ فلپکارٹ نے اپنے ایک تازہ بیان میں بتایا ہے کہ گزشتہ تین مہینے میں 23 ہزار لوگوں کو ملازمت پر رکھا گیا ہے۔ فلپکارٹ نے یہ بیان 25 مئی کو دیا ہے اور ملازمین میں اضافہ کی وجہ لگاتار بڑھ رہی طلب کو بتایا گیا ہے۔

فلپکارٹ کے مطابق مارچ سے مئی 2021 میں اس نے ڈلیوری ایگزیکٹیو سمیت اپنی سپلائی چین میں مختلف شعبوں میں ملکی پیمانے پر 23000 لوگوں کو کام پر رکھا۔ کمپنی کے ذریعہ جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ای کامرس خدمات کی بڑھتی طلب کو دیکھتے ہوئے یہ تقرریاں کی گئیں۔ فلپکارٹ میں سپلائی چین کے سینئر وائس پریسیڈنٹ ہیمنت بدری کا کہنا ہے کہ لوگ کورونا انفیکشن سے بچنے کے لیے گھروں میں ہی رہ رہے ہیں اور اس وجہ سے ملک بھر میں ای کامرس خدمات کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سپلائی چین بھی بڑھی ہے جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔


بہر حال، کمپنی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپلائی چین کے لیے ڈائریکٹ ہائرنگ کرنے کے مقصد سے ٹریننگ پروگرام بھی چلا رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلاس روم اور ڈیجیٹل ٹریننگ دونوں کے ذریعہ سے سپلائی مینجمنٹ کے ذریعہ ان کی سمجھ کو بڑھاتے ہوئے، یہ ٹریننگ واٹس ایپ، زوم اور ہینگ آؤٹ جیسے موبائل ایپلی کیشن کے ساتھ ساتھ فلپکارٹ کے اپنے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعہ سے کرائی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔