’پیگاسس جاسوسی‘ جمہوریت سے کھلواڑ، امت شاہ کو برخاست کیا جائے: کانگریس

رندیپ سرجے والا کا کہنا ہے کہ جاسوسی کرنے کرانے کی بی جے پی کی پرانی تاریخ رہی ہے۔ اقتدار میں رہنے کے بعد بھی خوف ان پر اتنا حاوی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی بھی جاسوسی کروا رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں اسرائیل کے پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعہ اپوزیشن لیڈروں، صحافیوں اور یہاں تک کہ مودی حکومت کے وزراء کی فون ٹیپنگ کا انکشاف کرنے والی رپورٹ پر ہنگامہ برپا ہے۔ اس جاسوسی معاملہ کو لے کر پیر کے روز کانگریس نے مودی حکومت پر زبردست حملہ کیا۔ کانگریس نے راہل گاندھی سمیت اپوزیشن لیڈروں اور صحافیوں کی جاسوسی کروانے کو لے کر وزیر داخلہ امت شاہ کو برخاست کرنے کے ساتھ ہی پی ایم مودی کے خلاف جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پیگاسس معاملہ کو لے کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی حکومت نے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی، ان کے اسٹاف کی، خود کے کابینہ وزراء کی، صحافیوں کی اور سماجی کارکنان کی جاسوسی کروائی گئی، کیا یہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہے؟


رندیپ سرجے والا نے کہا کہ پیگاسس پر انکشاف کے بعد مودی حکومت کے چہرے پر ڈر صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ملک کو اس ڈر کا سبب پتہ ہے۔ بی جے پی کو جواب دینا ہی ہوگا۔ یہ جاسوسی معاملہ بی جے پی کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جاسوسی کرنے اور کرانے کا ان لوگوں کی پرانی تاریخ اور فطرت ہے۔ اقتدار میں رہنے کے بعد بھی ان لوگوں پر خوف اتنا حاوی ہے کہ مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی بھی جاسوسی کروا رہے ہیں۔ بی جے پی کو اب اپنا نام بدل کر ’بھارتیہ جاسوسی پارٹی‘ رکھ لینا چاہیے۔

کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے پیگاسس رپورٹ پر وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ راہل گاندھی، صحافیوں اور یہاں تک کہ مرکزی وزراء سمیت اپوزیشن لیڈروں کی جاسوسی کرنے میں شامل ہیں۔ جانچ سے پہلے امت شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے اور مودی صاحب کے خلاف بھی جانچ ہونی چاہیے۔


پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ پی ایم مودی کہتے ہیں وہ ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دیتے ہیں، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ سرویلانس انڈیا ہے۔ این ایس او کہہ رہا ہے کہ اس کی مصنوعات کا استعمال حکومت کے ذریعہ خصوصی طور سے جرائم اور دہشت گردی سے لڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ پیگاسس کا استعمال ان لوگوں کے خلاف کر رہے ہیں جو مودی کے خلاف بولتے ہیں۔ ادھیر رنجن چودھری نے مزید کہا کہ ہم کل پارلیمنٹ میں سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ اس پیگاسس پروجیکٹ رپورٹ کے معاملے کو اٹھائیں گے۔

کانگریس لیڈروں نے اس جاسوسی واقعہ پر مرکزی حکومت سے 6 سوالوں کے جواب بھی مانگے ہیں جو اس طرح ہیں...

  1. ملک میں سیکورٹی فورسز، چیف الیکشن کمشنر، راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے لیڈروں، کابینہ وزراء، صحافیوں، سماجی کارکنان کی غیر ملکی اسپائی ویئر سے جاسوسی کروانا وطن سے دشمنی اور قومی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑی نہیں تو کیا ہے؟

  2. کیوں مودی حکومت 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے دوران اور اس سے پہلے اور آج بھی اپنے ملک کے لوگوں اور لیڈروں کی جاسوسی کروا رہی تھی؟

  3. حکومت ہند میں کس نے اسرائیلی کمپنی این ایس او سے پیگاسس سافٹ ویئر خریدا اور غیر قانونی طریقے سے لگوایا؟ اس کی اجازت پی ایم مودی یا امت شاہ میں سے کس نے دی؟ اور اس کے لیے کتنا خرچ آیا؟

  4. اگر حکومت کو اپریل-مئی 2019 سے پیگاسس سافٹ ویئر کی غیر قانونی خریداری اور لگانے کی جانکاری تھی تو اب تک اس پر خاموشی کیوں اختیار کیے تھی؟

  5. ملک میں داخلی سیکورٹی کے ذمہ دار امت شاہ کو کیا برخاست نہیں کیا جانا چاہیے؟

  6. کیا وزیر اعظم کے کردار کی جانچ نہیں ہونی چاہیے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔