لو جہاد قانون: آج تک ایک بھی شکایت نہیں ملی، پھر کیوں کھٹر حکومت بنا رہی قانون؟

ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کے ساتھ ساتھ قومی خواتین کمیشن نے بھی آر ٹی آئی کے تحت مطلع کیا ہے کہ پورے ملک میں اسے مبینہ لو جہاد کی کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ایک طرف ہریانہ کی کھٹر حکومت مبینہ ’لو جہاد‘ کو سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے سخت قانون بنانے میں مصروف ہے، اور وہیں دوسری طرف آر ٹی آئی قانون کے تحت طلب کی گئی جانکاری سے انکشاف ہوا ہے کہ خواتین پر استحصال، ظلم اور تشدد کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل ریاستی خواتین کمیشن کو اس بارے میں پوری ریاست سے آج تک ایک بھی شکایت نہیں ملی ہے۔ اس وجہ سے کمیشن نے اس ایشو پر نہ تو کبھی کوئی میٹنگ کی، نہ ہی حکومت کو کوئی سفارش بھیجی ہے اور نہ ہی کوئی سروے رپورٹ بنائی ہے۔

ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کے اس حیران کرنے والے جواب کی طرح قومی خواتین کمیشن نے بھی آر ٹی آئی کے تحت مطلع کیا ہے کہ پورے ملک سے اسے مبینہ لو جہاد کی کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔ اتنا ہی نہیں، ہریانہ کے مسلم آبادی والے اضلاع نوح، فرید آباد، پانی پت، جمنا نگر، انبالہ، گروگرام، ریواڑی اور ہسار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ دفاتر سے بھی آر ٹی آئی کے تحت اس بابت جانکاری مانگی گئی تھی۔ پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں مبینہ لو جہاد کے صرف چار کیس درج ہوئے ہیں۔ ان میں سے جانچ کے دورا دو کیس جھوٹے پائے جانے پر منسوخ کر دیے گئے۔ ایک کیس میں ثبوتوں کی کمی کے سبب ملزم عدالت سے بری ہو گیا، جب کہ ایک کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔


پانی پت کے آر ٹی آئی کارکن پی پی کپور کو گزشتہ سال 13 نومبر کو آر ٹی آئی کے تحت طلب کی گئی جانکاری کے جواب میں ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کے ریاستی عوامی اطلاعات افسر نے یہ حیران کرنے والی جانکاری دی ہے۔ پی پی کپور کا کہنا ہے کہ اس آر ٹی آئی انکشاف سے واضح ہو گیا ہے کہ مبینہ لو جہاد کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ سماج میں نفرت پھیلانے کا بی جے پی و آر ایس ایس کا یہ سیاسی ایجنڈا ہے۔

غور طلب ہے کہ ہریانہ حکومت لو جہاد قانون بنانے جا رہی ہے، جس کا ڈرافٹ تقریباً تیار ہو چکا ہے۔ ریاستی حکومت نے فرید آباد میں ہوئے مشہور نکیتا قتل واقعہ کے بعد یہ قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ریاست کے وزیر داخلہ انل ویج نے اس کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ داخلہ سکریٹری ٹی ایل ستیہ پرکاش کی صدارت والی کمیٹی میں ہریانہ کے اے ڈی جی پی (لاء اینڈ آرڈر) نودیپ وِرک اور ایڈووکیٹ جنرل دفتر کے نمائندہ کی شکل میں ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منچندا کو لیا گیا تھا۔


گزشتہ اسمبلی اجلاس میں ہی اس قانون کو عملی جامہ پہنانے کی پوری تیاری ہو چکی تھی، لیکن نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ کی طرف سے لو جہاد لفظ کو لے کر اعتراض ظاہر کیے جانے کے بعد اس پر شبہات کے بادل منڈلانے لگے تھے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ انل ویج نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون میں کہیں بھی ہندو یا مسلمان کی بات نہیں کہی گئی ہے۔ قانون کو ’لو جہاد‘ نام نہیں دیا گیا ہے بلکہ حکومت ’ہریانہ فریڈم آف رلیجن ایکٹ‘ لا رہی ہے۔ یہ قانون محبت کی آڑ میں لالچ یا دھوکہ دے کر یا پھر دباؤ بنا کر مذہب تبدیلی کے خلاف لایا جا رہا ہے۔

دشینت چوٹالہ نے کہا تھا کہ اگر وزارت داخلہ جبراً مذہب تبدیلی پر کوئی قانون لاتا ہے تو اسے ہماری پارٹی ضرور حمایت دے گی، لیکن اگر خاص طور سے ’لو جہاد‘ کے نام پر کوئی قانون آئے گا تو اس پر ہم اور ہمارے اراکین اسمبلی غور کریں گے۔ اگر قانون میں کسی خاص ذات یا مذہب سے متعلق لفظ لکھا گیا ہوگا تو بھی اس پر ہماری پارٹی غور کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔