’جمہوریت کی گردن مروڑ کر رکھ دی، پرخچے اڑا دیئے صاحب‘

ہندوستان میں مرکزی وزرا، ججوں، صنعت کاروں، اپوزیشن لیڈروں کے علاوہ کئی صحافیوں کی جاسوسی کرنے کے معاملے کو لے کر اب مودی حکومت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

پیگاسس پروجیکٹ معاملہ نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ہندوستان میں مرکزی وزرا، ججوں، صنعت کاروں، اپوزیشن لیڈروں کے علاوہ کئی صحافیوں کی جاسوسی کرنے کے معاملے کو لے کر اب مودی حکومت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ سابق آئی اے ایس افسر سوریہ پرتاپ سنگھ نے سوشل میڈیا پر ’پیگاسس‘ معاملہ کو لے کر ایک پوسٹ لکھی ہے۔ اس پوسٹ کے ذریعہ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوریہ پرتاپ سنگھ نے ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اچھے اچھے پھنسے تھے جاسوسی کے جال میں- بڑے بڑے صحافی، اپوزیشن لیڈر، صنعت کار، سپریم کورٹ کے جج تک کو نہیں بخشا۔‘‘

اپنے ٹوئٹ میں سوریہ پرتاپ سنگھ نے یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ ’’آخر ان سب کی فون ٹیپنگ کیوں کرائی جا رہی تھی؟ کیا خطرہ تھا؟ آواز پر پہرے لگا دیئے۔ جمہوریت کی گردن مروڑ کر رکھ دی، پرخچے اڑا دیئے، صاحب۔‘‘ دراصل کئی ممالک کے میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او کے اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعہ دنیا بھر کی حکومتیں صحافیوں، قانون کے شعبہ سے جڑے لوگوں، لیڈروں اور یہاں تک کہ لیڈروں کے رشتہ داروں کی مبینہ طور پر جاسوسی کرا رہی ہے۔ اس کے بعد سے مودی حکومت لگاتار نشانے پر ہے۔


بہر حال، کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا کا بھی اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ سامنے آیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ٹیپنگ جیوی جی، سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ اب صحافی، جج، صنعت کار، خود کے سینئر وزراء اور یہاں تک کہ آر ایس ایس کی لیڈرشپ کو بھی نہیں بخشا آپ نے تو۔ ٹھیک ہی کہا- اب کی بار، جاسوس سرکار۔‘‘

یوتھ کانگریس لیڈر شرینواس بی وی نے بھی پیگاسس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’جب انگریز تھے، تب بھی ’جاسوسی‘ ان کا دھندا تھا۔ آج جب نہیں ہیں، تب بھی ’جاسوسی‘ کا دھندا جاری ہے، سدھرو گے کب؟‘‘ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں وزراء، ججوں، صحافیوں اور لیڈروں کی نگرانی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپائی ویئر کا استعمال صرف حکومتیں ہی کر سکتی ہیں۔ حالانکہ حکومت ہند نے جاسوسی کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 Jul 2021, 4:11 PM