نکوبار پروجیکٹ کی سماعت رکوانے کے لیے مرکز سپریم کورٹ پہنچا، کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور

جئے رام رمیش نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں 5 درخواستیں زیر التوا ہونے کے باوجود حکومت پروجیکٹ کو آگے بڑھا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

نکوبار جزیرہ پر مجوزہ تقریباً 92 ہزار کروڑ روپے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ معاملہ پر مرکزی حکومت اور ماحولیاتی و قبائلی حقوق سے متعلق درخواست گزاروں کے درمیان قانونی جنگ مزید تیز ہوگئی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق مرکز نے سپریم کورٹ سے کلکتہ ہائی کورٹ میں اس پروجیکٹ سے متعلق جاری سماعتوں پر روک لگانے کی درخواست کی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’دی ہندو‘ کی اس خبر کا تراشہ شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جئے رام رمیش نے اپنی طویل پوسٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت 92 ہزار کروڑ روپے کے گریٹ نکوبار جزیرہ کے پروجیکٹ کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ اس پروجیکٹ پر پہلے 72 ہزار کروڑ روپے خرچ بتایا گیا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر 92 ہزار کروڑ روپے کردیا گیا۔ ان کے مطابق ماحولیاتی اور جنگلات سے متعلق قوانین کے تحت حاصل کی گئی مختلف منظوریوں میں سنگین خامیاں ہیں اور پروجیکٹ کے اثرات کے جائزے سے متعلق رپورٹس پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتی ہیں، اس لیے ان کی افادیت پر سوال اٹھتے ہیں۔


تاہم، جئے رام رمیش نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ایک معمولی سی امید کلکتہ ہائی کورٹ میں زیر التوا 5 الگ الگ درخواستوں سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ درخواستیں عوامی مفاد رکھنے والے شہریوں اور سول سوسائٹی گروپوں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک درخواست میں 2006 کے ’فاریسٹ رائٹس ایکٹ‘ کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے، جس کا براہ راست تعلق مقامی قبائلی برادریوں کے حقوق سے ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی پورٹ بلیئر سرکٹ بنچ نے مئی 2026 میں عظیم نکوبار پروجیکٹ سے متعلق ایسی عرضیوں کی سماعت کا راستہ صاف کیا تھا۔ عدالت نے مرکز کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا تھا کہ درخواست گزار، سابق مرکزی سرکاری افسر مینا گپتا، انڈمان و نکوبار الجزائر کے رہائشی نہیں ہیں اور اس لیے انہیں یہ عرضی دائر کرنے کا قانونی حق نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ عوامی مفاد کی درخواستوں کے معاملے میں عرضی گزار کے حق سماعت کے لیے کوئی سخت اور یکساں اصول نہیں ہوسکتا، خاص طور پر جب معاملہ کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق سے متعلق ہو۔


مینا گپتا کی درخواستوں میں خاص طور پر ’فاریسٹ رائٹس ایکٹ، 2006‘ کے تحت قبائلی حقوق اور جنگلاتی زمین کے استعمال کے عمل پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پروجیکٹ کے لیے جنگلاتی زمین کے رخ کی تبدیلی سے قبل جنگلاتی حقوق کے دعووں کے تصفیے اور قبائلی رضامندی سے متعلق قانونی تقاضوں کی مناسب طور پر پابندی نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ گلاتھیا نیشنل پارک اور کیمبل بے نیشنل پارک کے اردگرد ماحولیاتی طور پر حساس بفر زون کو کم کرنے کے فیصلوں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ محض کسی پروجیکٹ کو ’قومی اہمیت‘ کا حامل قرار دینے یا اس پر بڑی رقم خرچ ہونے کی وجہ سے وہ عدالتی جائزے سے باہر نہیں ہو جاتا۔ عدالت کے مطابق بڑے اخراجات والا پروجیکٹ بھی نافذ قوانین کے مطابق ہی آگے بڑھنا چاہیے اور مناسب قانونی حدود میں اس کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔


جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں اسی عدالتی پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواستوں کی حتمی سماعت 25 اور 26 نومبر 2026 کو مقرر ہے اور ان کے مطابق مرکز نے پہلے اس شیڈول پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مرکز نے اچانک اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کلکتہ ہائی کورٹ کی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس درخواست پر سپریم کورٹ میں 5 اکتوبر 2026 کو سماعت متوقع ہے۔

کانگریس لیڈر نے خاص طور پر درخواست گزار مینا گپتا کے حق سماعت کے معاملے کو بھی اپنی پوسٹ کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے مطابق گپتا مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور مرکزی وزارت قبائلی امور، دونوں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ مرکز نے کلکتہ ہائی کورٹ میں بھی ان کے حق درخواست پر سوال اٹھایا تھا، لیکن عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کر دیا۔ اب ان کے مطابق مرکز نے سپریم کورٹ میں بھی اسی دلیل کو دوبارہ پیش کیا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرکز کی جانب سے کلکتہ ہائی کورٹ میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ درخواست گزار کا تعلق حیدرآباد سے ہے، وہ انڈمان و نکوبار کی رہائشی نہیں ہیں اور مقامی قبائلی افراد نے انہیں درخواست دائر کرنے کے لیے اختیار نہیں دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پروجیکٹ کی قومی اہمیت اور اس کی اسٹریٹجک نوعیت کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے ان اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔


قابل ذکر ہے کہ گریٹ نکوبار جزیرہ کا یہ منصوبہ محض ایک بندرگاہ کی تعمیر تک محدود نہیں ہے۔ سرکاری منصوبے میں بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل، ایک مربوط ٹاؤن شپ اور علاقے کی ترقی، تقریباً 450 ایم وی اے کا گیس اور شمسی توانائی پر مبنی پاور پلانٹ اور گرین فیلڈ ہوائی اڈے جیسے بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ پروجیکٹ کے حامیوں کی جانب سے اسے جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت، معاشی ترقی، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے نقطۂ نظر سے اہم قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ماحولیاتی اور قبائلی حقوق سے متعلق درخواستوں میں اسی ترقیاتی ماڈل کے ماحولیاتی اور قانونی اثرات پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

پروجیکٹ کے لیے جنگلاتی زمین کے استعمال کا معاملہ بھی عدالتی تنازعہ کا اہم حصہ ہے۔ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے ریکارڈ کے مطابق منصوبے کے لیے 130.75 مربع کلومیٹر جنگلاتی زمین کی منتقلی سے متعلق اسٹیج-1 کلیئرنس دی گئی تھی۔ بعد میں ماحولیاتی اور ساحلی ضابطوں سے متعلق منظوریوں کو بھی چیلنج کیا گیا۔ ٹریبونل کے ریکارڈ میں حکومت کی جانب سے یہ موقف درج ہے کہ منصوبے کے تحت قبائلی آبادی کو بے دخل نہیں کیا جائے گا اور قبائلی حقوق کا تحفظ قانونی دفعات کے مطابق کیا جائے گا۔


دوسری طرف کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پروجیکٹ کے لیے قبائلی رضامندی حاصل کرنے کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ ان درخواستوں میں 2022 میں کیمبل بے، لکشمی نگر اور گووند نگر میں منعقدہ گرام سبھا کی کارروائی اور اس کے ذریعے جنگلاتی زمین کی منتقلی کے لیے دی گئی مبینہ رضامندی پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔

بہرحال، جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے آخر میں مرکز پر الزام عائد کیا ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں 5 درخواستیں زیر التوا ہونے کے باوجود حکومت پروجیکٹ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے اسے ملک کے لیے ایک بڑے ماحولیاتی نقصان کا سبب بننے والا منصوبہ قرار دیا ہے۔ یہ دراصل اس پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق کانگریس اور دیگر ناقدین کے موقف کا حصہ ہے، جبکہ حکومت اور پروجیکٹ کے حامی اسے قومی اہمیت، اسٹریٹجک ضرورت اور الجزائر کی ترقی سے جوڑتے ہیں۔