گریٹ نکوبار بندرگاہ منصوبے پر کانگریس کے سوالات، جے رام رمیش نے مرکزی وزیر سونووال کو لکھا خط
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر سربانند سونووال سے گریٹ نکوبار کے مجوزہ مال برداری تبادلہ بندرگاہ منصوبے میں نجی شراکت، خطرات اور ماحولیاتی اثرات پر وضاحت طلب کی ہے

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پیر کو بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال کو خط لکھ کر گریٹ نکوبار جزیرے کے گالاتھیا کھاڑی علاقے میں مجوزہ بین الاقوامی مال برداری تبادلہ بندرگاہ منصوبے سے متعلق کئی سوالات اٹھاتے ہوئے تفصیلات اور وضاحت طلب کی ہے۔
جے رام رمیش گزشتہ کچھ عرصے سے اس منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کو بھی متعدد خطوط لکھ چکے ہیں۔
اپنے تازہ خط میں سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے سربانند سونووال سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت سے متعلق ٹنڈروں کے اجرا اور نجی شریک مالک و آپریٹر کے انتخاب کے متوقع وقت کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ جب نجی شراکت کے لیے کم از کم 55 فیصد حصہ مقرر کیا گیا ہے تو کیا اس کا مطلب 100 فیصد نجی ملکیت کی اجازت بھی ہے یا سرکاری اداروں کے لیے بھی کسی کم از کم حصے کا تعین کیا جائے گا۔
جے رام رمیش نے اپنے خط میں کہا کہ وہ ان تمام افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں جو گریٹ نکوبار جزیرے کے ترقیاتی منصوبے سے ممکنہ ماحولیاتی تباہی کے خدشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ کی عوامی و نجی شراکت داری جائزہ کمیٹی نے 17 اور 19 مارچ 2026 کو وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے پر غور کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2 اپریل 2026 کو جاری کردہ تحریری ریکارڈ میں خود وزارت نے اس منصوبے سے وابستہ دو بڑے خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں ایک بڑے گرین فیلڈ بندرگاہ منصوبے کی تعمیر کا چیلنج اور پہلے سے قائم مال برداری تبادلہ بندرگاہوں سے تجارتی سرگرمیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی دشواری شامل ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ان خطرات کے اعتراف اور تعمیراتی سرگرمیوں سے ہونے والے یقینی ماحولیاتی نقصان کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے سنگین خطرات اور ممکنہ ماحولیاتی تباہی کو نظر انداز کرنا باعث تشویش ہے اور حکومت کو اس بارے میں واضح جواب دینا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
