انڈمان نکوبار تاریخ کے آئینے میں...شاہد صدیقی علیگ

انڈمان و نکوبار قدرتی حسن، قدیم قبائلی ثقافت، کالاپانی کی تاریخ اور نوآبادیاتی ورثے کا امین ہے۔ اس خطے کے ساحل، جنگلات اور تاریخی مقامات ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

شاہد صدیقی علیگ

google_preferred_badge

انسان اور ماحولیات کا تعلق جسم اور روح کی مانند ہے، جو نہ صرف ایک دوسرے پر منحصر ہیں بلکہ دونوں میں کسی بھی طرح کی غیر معمولی تبدیلی واقع ہو جائے تو دونوں کی حیات پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے لیکن جیسے جیسے انسان نے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں، ویسے ویسے ماحولیات پر خطرے کے بادل بھی منڈرائے ہیں، کیونکہ صنعت کاروں نے شاہ راہیں، عمارتیں اور صنعتی تنصیبات کی تعمیر کے لیے قدرتی جنگلات کو کاٹ کر کنکریٹ کے جنگلات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ انسانوں کو اپنی بقا کے لیے ماحولیات کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اسی ضمن میں ہندوستان کے معروف صنعت کار اڈانی کے ایک پروجیکٹ کے خلاف عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر لیڈر حزب اختلاف محترم راہل گاندھی نے ’سیو گریٹ نکوبار‘ کے نام سے مہم کا آغاز کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈمان نکوبار ہندوستانی ماحولیات کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے شاندار ساحل، سمندری حیوانات، پرسکون جنگلات اور مرغوب قدرتی مناظر سیاحوں کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔

انڈمان نکوبار چھوٹے بڑے 572 جزیروں پر مشتمل ہے، جن میں سے صرف 38 جزائر پر آبادی ہے۔ یہ جزائر خلیج بنگال کے جنوب مشرقی کنارے پر دو گروہوں میں منقسم ہیں، جو فاصلے کے حساب سے ہندوستان کی بہ نسبت جنوب مشرقی ایشیا کے زیادہ نزدیک ہیں۔ انڈمان نکوبار کا کل رقبہ 8249 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ انڈمان 6408 مربع کلومیٹر اور نکوبار 1841 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے انڈمان کا کلاں جزیرہ وسطی انڈمان اور نکوبار کا گریٹ نکوبار ہے، جس کے مشہور جزائر ہیولاک جزیرہ (سوراج آئی لینڈ)، بیرن جزیرہ، نارکنڈم، شمالی سینٹینیل جزیرہ (مرجان کی چٹانوں سے گھرا سرسبز شمالی سینٹینیل جزیرے میں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے)، چاتھم جزیرہ، وائپر جزیرہ، راس جزیرہ، لینڈ فال آئی لینڈ، انٹرویو آئی لینڈ، رچی جزیرہ نما، رٹلینڈ آئی لینڈ وغیرہ ہیں۔


انڈمان کے مقامی قبیلہ نگ رائٹ اور نکوبار کے قبیلہ منگولائٹ بشمول ان قبائلی گروہوں کو انڈمانیز، جارواز، اونگیز، سنٹیلیز، نکوباریز اور شوم پین چھ حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے، جو اپنی روایتی طرز زندگی، جنگل اور دریاؤں سے گہری وابستگی کے سبب عمومی دنیا سے لا تعلق ہیں اور تمام ضروریات زندگی مثلاً خوراک، ادویات اور تعمیراتی سامان فطرت سے حاصل کرتے ہیں۔ قبائلی لوگ برہنہ رہتے ہیں فقط عورتیں ایک چھوٹا سا پتہ اندام نہانی پر ناڑے میں لٹکا کر رکھ لیتی ہیں۔ مرد و عورت اپنے جسم کو بوتل وغیرہ کے ٹکڑوں سے بھڑوں کا چھتہ یا گمٹی کا کپڑا سا بنا لیتے ہیں۔ مونچھ، داڑھی یا سر کے بال مرد و عورت کوئی نہیں رکھتا۔

قبائلی گروہوں کے بارے میں جعفر احمد تھانسیری رقم کرتے ہیں، ’’یہ لوگ چار فٹ سے پانچ فٹ چار انچ تک اونچے، مثل حبشیوں کے سیاہ فام، گول سر، آنکھیں ابھری ہوئی۔ سر پر بھیڑ کے سے بال مگر نہایت مضبوط اور قوی ہوتے ہیں۔ ان کل جزائر انڈمان میں ان کی بارہ ذاتیں ہیں۔ ایک ذات کی زبان دوسری قوم سے بہت کم ملتی ہے۔ یہ لوگ دو سے زیادہ گنتی نہیں جانتے، جب کوئی چیز دو سے زیادہ گنتے ہیں تو انگلیوں پر شمار کرتے ہیں۔‘‘

چاتھم جزیرہ سے انڈمان میں برطانوی نو آباد کاری کا آغاز ہوا، جسے لیفٹیننٹ آرچی بلڈ بلیر نے ایک کالونی میں تبدیل کر دیا، 1857ء میں کمپنی حکام نے اسے تعزیراتی تصفیہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ بہ وجہ پہلی جنگ آزادی کے مجاہدین کے پہلے کارواں کا ٹھکانہ یہی جزیرہ بنا۔ یہاں پر 1883ء میں چاتھم آرا مل قائم کی گئی جو اُس عہد میں ایشیا کی سب سے پرانی اور بڑی آرا مل تھی۔

وائپر جزیرہ رقبے کے تناسب سے چھوٹا سا جزیرہ، وہ بدنام عقوبت خانہ ہے، جہاں مجرموں اور سیاسی قیدیوں کو اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایک پہاڑی کے اوپر پھانسی گھر کے باقیات کھنڈرات کی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔ راس جزیرہ پر برطانوی حکام نے جن مجاہدین کو کالے پانی کی سزائیں دی تھیں، انہیں پہلے چاتھم جزیرے پر رکھا گیا لیکن کچھ دن بعد ہی پانی کی کمی کے سبب یہاں سے ہٹا کر راس جزیرے پر بے یار و مددگار لا کر چھوڑ دیا گیا۔


پورٹ بلیئر انڈمان کا صدر مقام ہے، جہاں مولانا جعفر احمد تھانسیری کے مکان پر تعمیر ہوئی ابرڈین جامع مسجد سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 11 سال یہاں گزارے تھے، اسی دوران ان کا آدھا مکان مسجد کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ جب مصلیوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی تو باضابطہ طور پر 1885ء میں جامع مسجد کی بنیاد رکھی گئی، جس کے پہلے پیش امام حریت پسند مولانا حکیم عبدالکریم انبالوی تھے۔

علاوہ ازیں انگریزی حکومت کی بدنام زمانہ سیلولر جیل جو آج میوزیم کی شکل میں کھڑی ہے، جسے دور حاضر کی گوانتانامو بے جیل (کیوبا) بھی کہا جا سکتا ہے جہاں قیدیوں کو سخت گیر سزائیں دی جاتی تھیں۔

رادھن نگر بیچ، بیچ نمبر 5، کالاپتھر بیچ، مرک بے بیچ اور کالی پور بیچ انڈمان نکوبار وغیرہ دلکش ساحلوں کے علاوہ سیڈل پیک (انڈمان)، ماؤنٹ تھولئیر (گریٹ نکوبار) اور ماؤنٹ ہیریٹ (جنوبی انڈمان) جیسی دل فریب پہاڑی چوٹیاں بھی واقع ہیں، جو سیاحوں کو بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتی ہیں۔

الغرض انڈمان نکوبار کی شکل میں فطرت نے ہندوستان کو ماحولیات کا ایک بیش قیمتی تحفہ عطا کیا ہے، جس کی نگہبانی ہر ہندوستانی پر فرض ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔