بی جے پی نے آج تک کسی خاتون کو پارٹی صدر تک نہیں بنایا: اشوک گہلوت

اشوک گہلوت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’کانگریس نے ملک کو خاتون صدر جمہوریہ اور خاتون وزیر اعظم دیا ہے، لیکن بی جے پی نے آج تک کسی خاتون کو پارٹی کا صدر تک نہیں بنایا۔‘‘

اشوک گہلوت / یو این آئی
اشوک گہلوت / یو این آئی
user

تنویر

اترپردیش اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے 40 فیصد ٹکٹ خواتین کے لیے مختص کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اس کے بعد دیگر پارٹیوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد اتر پردیش اسمبلی انتخاب میں کانگریس ایک مضبوط پارٹی کی شکل میں دیکھی جا رہی ہے۔ پرینکا گاندھی کے اعلان پر کانگریس کے کئی سینئر لیڈران کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے اور ساتھ ہی بی جے پی پر طنزیہ انداز میں حملہ بھی کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یو پی میں 40 فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کا پرینکا گاندھی کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کانگریس نے ملک کو خاتون صدر جمہوریہ اور خاتون وزیر اعظم دیا ہے، لیکن بی جے پی نے آج تک کسی خاتون کو پارٹی کا صدر تک نہیں بنایا۔‘‘ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ خواتین کی خودمختاری ملک کی سب سے پرانی پارٹی کا ایجنڈا رہا ہے۔ گہلوت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے خاتون مخالف نظریہ کے سبب ہی یو پی میں خواتین غیر محفوظ ہیں۔


وزیر اعلیٰ گہلوت نے یہ بھی کہا کہ ’’کانگریس صدر سونیا گاندھی پارلیمنٹ میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دلانے کی سمت میں کوشش کر رہی ہیں۔ یہ بی جے پی کے خاتون مخالف نظریہ کا ہی نتیجہ ہے کہ یو پی میں خواتین غیر محفوظ ہیں، لیکن ریاست میں خواتین کی خود مختاری کے ذریعہ کانگریس آنے والے دنوں میں بی جے پی کی اس بدانتظامی کو ختم کرے گی۔‘‘

واضح رہے کہ اتر پردیش میں آئندہ سال فروری-مارچ میں اسمبلی انتخاب کرائے جانے کے امکانات ہیں۔ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے 403 میں سے 312 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے ساتھ مل کر انتخاب لڑا تھا۔ سماجوادی پارٹی نے 47 اور کانگریس نے 7 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ مایاوتی کی سربراہی والی پارٹی بی ایس پی 19 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔