بہار ایس آئی آر: الیکشن کمیشن کے دعویٰ کی کانگریس نے کھولی پول، کہا- ’89 لاکھ شکایتیں جمع کرائی گئیں‘

کانگریس کا الزام ہے کہ بہار میں 65 لاکھ ووٹرز کے نام غلط طور پر کاٹے گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور زندہ ووٹرز کی ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو 89 لاکھ شکایات دی ہیں

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کی پریس کانفرنس / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ بہار کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور ہیرا پھیری کی گئی ہے اور لاکھوں مستحق ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے غیر قانونی طور پر خارج کر دیے گئے ہیں اور اس عمل کے پیچھے منظم سازش کارفرما ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے بہار کی راجدھانی پٹنہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو اب تک 89 لاکھ سے زائد شکایات پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کے 90540 بوتھس میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کھیڑا نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن خود تسلیم کر چکا ہے کہ تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام کاٹے گئے ہیں، مگر یہ اعداد و شمار اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کٹوتی کے عمل میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کھیڑا کے مطابق کم از کم 7613 بوتھس پر ایسے شواہد ملے ہیں جہاں 70 فیصد یا اس سے زیادہ خواتین ووٹروں کے نام کاٹے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں خواتین کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کیا یہ جمہوری نظام میں خواتین کی آواز دبانے کی ایک سوچی سمجھی سازش نہیں ہے؟

کانگریس کے مطابق ہزاروں بوتھس پر ووٹروں کو غلط طور پر ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام کاٹے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 7931 بوتھس پر 75 فیصد سے زائد ووٹروں کو وفات یافتہ ظاہر کر دیا گیا، حالانکہ وہ زندہ ہیں اور باقاعدگی سے اپنی شہریت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اس قسم کی سنگین کوتاہی کسی غلطی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل معلوم ہوتا ہے۔


کانگریس نے مزید بتایا کہ کئی بوتھس پر ایسے ووٹر پائے گئے ہیں جنہیں دو دو ای پی آئی سی نمبر جاری کیے گئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بدنظمی اور بددیانتی ہوئی ہے۔ کھیڑا نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے یہ سب نظرانداز کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں کانگریس نے الیکشن کمیشن کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ کھیڑا نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے ذرائع کے حوالے سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے شکایت درج نہیں کرائی لیکن یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے پاس باقاعدہ رسیدیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شکایتیں جمع کرائی گئی ہیں۔

کانگریس نے اس مسئلے کو عوامی تحریک کی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ’ووٹردھیکار یاترا‘ کے دوران پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام خود آگے بڑھ کر بتا رہے ہیں کہ ان کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے جا چکے ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈور ٹو ڈور ویری فکیشن کرایا جائے تاکہ ہر ووٹر کا حق محفوظ رہے۔

پون کھیڑا نے سخت لہجے میں کہا کہ ووٹ کٹوتی کا یہ عمل دراصل جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ووٹ کا حق ہی چھین لیا جائے تو پھر انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے پر خاموش رہنا ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔