’ووٹر ادھیکار یاترا، ایک یاترا جس نے تاریخ رقم کر دی، بہار کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی طاقت دی‘
کانگریس نے ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ سوال پیش کیا ہے کہ ’آخر اس یاترا کی ضرورت کیوں پڑی؟‘ ساتھ ہی اس سوال کا تفصیلی جواب بھی اس پوسٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

راہل گاندھی کی قیادت میں جاری ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ نے آج اپنے 14 دن مکمل کر لیے۔ اب یہ یاترا اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ اس درمیان کانگریس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ووٹر ادھیکار یاترا کی کامیابی اور اس کے پس پشت پیدا مقاصد کے بارے میں کچھ وضاحت پیش کی ہے۔ ’ایکس‘ پر کی گئی اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’ووٹر ادھیکار یاترا۔ ایک یاترا، جس نے تاریخ رقم کر دی، بہار کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی طاقت دی۔ ایک یاترا، جو بہار کے لوگوں کی ہمت بنی اور یقین دلایا کہ ان کا ووٹ کوئی نہیں چھین سکتا۔ لیکن سوال ہے کہ آخر ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کی ضرورت کیوں پڑی؟‘‘

اس سوال کو قائم کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’بابا صاحب کے آئین نے ملک کے ہر شہری کو جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت دی ہے۔ ووٹ دینے کی طاقت، اپنی حکومت منتخب کرنے کی طاقت۔ وہ حکومت جو عوام کی بھلائی کے لیے کام کرے۔ تعلیم، صحت، تحفظ، سڑک، روزگار جیسی سہولیات کا انتظام کرے۔ لیکن کیا ہو اگر عوام سے ان کا ووٹ ہی چرا لیا جائے، ان سے ووٹنگ کا حق چھین لیا جائے۔ بی جے پی نے یہی کیا، ’ووٹ چوری‘۔ جمہوریت کا قتل کیا گیا، مینڈیٹ کا مذاق بنایا گیا۔ لوک سبھا کے ساتھ ہی مہاراشٹر، ہریانہ، مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں ’ووٹ چوری‘‘ کو انجام دیا گیا۔‘‘ اس پوسٹ میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’کہیں لاکھوں فرضی ووٹر پیدا کیے گئے تو کہیں غریبوں، دلتوں، پسماندوں اور اقلیتوں کے ووٹ کاٹ دیے گئے۔ ’ووٹ چوری‘ کے اس شرمناک کھیل میں الیکشن کمیشن نے نریندر مودی اور بی جے پی کا پورا ساتھ نبھایا۔‘‘

الیکشن کمیشن کے رویہ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’ہم نے الیکشن کمشن سے الیکٹرانک ووٹر لسٹ کا مطالبہ کیا، پولنگ بوتھ کی ویڈیوز مانگی، لیکن چوری چھپانے کے لیے اصول ہی بدل دیے گئے۔ اب ووٹ چوروں کا اگلا نشانہ بہار تھا۔ بہار میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر فرضی واڑا کیا گیا۔ بے معنی اصول بنا کر عوام سے ووٹنگ کا حق چھینا گیا۔ ووٹنگ کے لیے آدھار کارڈ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ 65 لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے۔‘‘ الیکشن کمیشن کے اس قدم کے خلاف شروع کی اپنی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’ہم نے سڑک سے پارلیمنٹ تک اس کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا، اس نے ووٹ چوروں کی نیند اڑا دی۔ حقوق کی سب سے بڑی تحریک، ایک عوامی تحریک، یعنی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ شروع ہوئی۔‘‘
’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’عوامی ہیرو راہل گاندھی نے مہاگٹھ بندھن کے لیڈران کے ساتھ بہار کی سڑکوں پر اترنے کا اعلان کیا۔ یہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف براہ راست لڑائی کا آغاز تھا۔ عوامی ہیرو کی اپیل پر پورا بہار متحد ہو کر ’ووٹ چوری‘ کے خلاف سڑکوں پر نکل پڑا۔ ہاتھوں میں ترنگا اور زباں پر ایک ہی نعرہ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘۔ بہار سے شروع ہوا یہ نعرہ آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گیا، ووٹ چوروں کا اقتدار ڈول گیا۔‘‘ اس یاترا کے اثرات کا ذکر بھی کانگریس نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔ لکھا گیا ہے کہ ’’اس عوامی تحریک کے آگے الیکشن کمیشن کو جھکنا پڑا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے 65 لاکھ لوگوں کے نام ظاہر کرنے پڑے۔ ووٹنگ کے لیے آدھار کارڈ کو بھی منظوری دینی پڑی۔‘‘

اپنی پوسٹ میں کانگریس نے ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو بی جے پی کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’ووٹر ادھیکار یاترا بی جے پی کے لیے ایک صاف پیغام ہے۔ جنھیں لگتا تھا کہ روزگار مانگنے والے نوجوانوں پر لاٹھیاں چلوائیں گے، کسانوں کی زندگی بدحال بنائیں گے، تعلیمی نظام کو تباہ کر دیں گے، بہار میں غنڈہ راج قائم کروائیں گے، لوگوں کے حقوق چھین لیں گے، اور پھر وہ ’ووٹ چوری‘ کر انتخاب جیت جائیں گے... تو اب یہ ممکن نہیں ہے۔ اب بہار ’ووٹ چوری‘ نہیں ہونے دے گا۔‘‘ آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’بہار کی عوام بیدار ہو گئی ہے۔ حقوق کی یہ جنگ ابھی دور تک جائے گی۔ ہمارا عزم ہے– ہم ہندوستان میں ووٹ چوری نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔