’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو ملی عوامی حمایت سے سیاسی ماہرین حیران، بہار میں کانگریس کی پوزیشن مستحکم... عتیق الرحمن
’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو بہار میں سبھی مقامات پر ملی پُرزور عوامی حمایت کی وجہ سے خاص و عام سبھی طبقہ کے لوگوں میں امید کی نئی روشنی پیدا ہو گئی ہے۔

بہار میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چلائی جا رہی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو سیدھے طور پر ’ووٹ بندی‘ اور ’ووٹ چوری‘ کی خطرناک سازش قرار دیتے ہوئے لوک سبھا میں حزب مخالف کے رہنما راہل گاندھی نے 16 دنوں میں 1300 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے لیے 17 اگست 2025 کو روہتاس ضلع کے سہسرام سے ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ شروع کی تھی، جو اپنی منزل کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے۔ یہ یاترا ہفتہ کے روز، یعنی 14ویں دن اپنے شباب پر نظر آئی۔ راہل گاندھی کی قیادت میں نکالی گئی اس یاترا کوعوام کی زبردست اور غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی ہے، جس سے بہار میں طویل عرصہ سے مردہ جاں ہو چکی کانگریس پارٹی میں نئی روح پیدا ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پورے انڈیا بلاک کی سیاسی طاقت بھی تیزی سے بڑھنے لگی ہے اور لوک سبھا انتخابات میں مصلحت پسندی کا نام دے کر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے وسیع اتحاد سے کنارہ کش ہو چکی نصف درجن علاقائی پارٹیوں نے راہل گاندھی کی تیزی سے بڑھتی عوامی مقبولیت اور کانگریس کی سیاسی طاقت میں ہو رہے اضافہ کو اس قدر شدت سے محسوس کرلیا کہ اب وہ خود بہ خود راہل گاندھی اور ان کی پارٹی سے قریب آنے لگ گئی ہیں۔ اس کا نظارہ ’ووٹرا دھیکار یاترا‘ کے دوران واضھ طور پر دیکھنے کو ملا ہے۔ اس یاترا میں ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن، سینئر رہنما کنی موجھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش پرساد یادو جیسے سرکردہ رہنما شریک ہوئے اور ایس آئی آر کے خلاف اس مہم کو تقویت پہنچانے کے ساتھ ہی راہل گاندھی کی قیادت کا لوہا مان لیا۔

بہار میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے عظیم اتحاد کے اندر ہونے والی انتخابی مفاہمت میں مول جول کرنے کا موقع کانگریس پارٹی کو ملنے کا پورا امکان ہے۔ سیاسی ماہرین تو ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو ملی حمایت سے حیران ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اب کانگریس کا دبدبہ بہار میں بڑھ سکتا ہے۔ جیسے حالات بن رہے ہیں، کانگریس کو توقع کے مطابق خاطر خواہ سیٹیں ملنے کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ انڈیا بلاک کے اندر کانگریس کی پوزیشن یقیناً زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ یاترا میں شمولیت کے سبب آر جے ڈی رہنما تیجسوی پرساد یادو کو بھی راہل گاندھی کی بڑھتی عوامی مقبولیت اور ان کی سخت جدوجہد کی وجہ سے کانگریس کی بڑھتی طاقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ کئی سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اب کانگریس کو پہلے کی طرح آر جے ڈی کے سامنے ’ہاتھ پھیلانے‘ یا زیادہ منت گزارش کرنی نہیں پڑے گی بلکہ اب کانگریس کو باوقار طریقے سے ساتھ رکھنا اتحادی جماعت آر جے ڈی کی مجبوری بنتی جا رہی ہے۔

’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو بہار میں سبھی مقامات پر ملی پُرزور عوامی حمایت کی وجہ سے خاص و عام سبھی طبقہ کے لوگوں میں امید کی نئی روشنی پیدا ہو گئی ہے۔ صرف مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ امن پسند اور سیکولر غیر مسلموں کے درمیان بھی یہ بات موضوع بحث بن گئی ہے کہ راہل گاندھی نے بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے مختلف انتخابات کے دوران ہوئی ووٹنگ کی حقیقت معلوم کر لی ہے اور اس کے نمونے کو بھی سب کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس سے ووٹ چوری کی حقیقت عیاں ہو گئی ہے۔ اب صاف ستھرے ذہن کے غیر مسلم بھی ووٹ چوری کی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور ان کا رجحان بدلنے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔ راہل گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا کے سلسلے میں مختلف ملی تنظیموں اور رضاکار اداروں کے ذمہ داران و نمائندوں اور اراکین کے ساتھ ساتھ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ دانشوروں سے نمائندہ نے بات چیت کی، تو انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ راہل گاندھی نے ’ووٹرادھیکار یاترا‘ کر کے ملک کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے، اور ووٹ چوری جیسی لعنت کا انکشاف کر کے انتخابی اصلاحات کی جانب انقلابی قدم اٹھایا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

جمعیۃ علما بہار (محمود مدنی گروپ) کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ناظم کا کہنا ہے کہ ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ ملک میں ایک نایاب قسم کی مہم ثابت ہوئی جس سے پہلی بار عوام کو یہ پتہ چلا ہے کہ ووٹ جیسی بیش قیمتی چیز بھی ’چوری‘ کی جاتی ہے۔ اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کر کے راہل گاندھی نے ملک کے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ جمعیۃ علما بہار (ارشد مدنی گروپ) کے شعبہ نشر و اشاعت کے ناظم ڈاکٹر انوارالہدیٰ کا کہنا ہے کہ یاترا سے راہل گاندھی نے بہار میں نہ صرف اپنی پارٹی کی طاقت بڑھائی ہے اور انڈیا بلاک کو بھی تقویت پہنچائی ہے، بلکہ بہار میں اقتدار پر اکیلے قبضہ کر لینے اور ملک کے سیکولر ڈھانچے کو تباہ کر دینے کی فرقہ پرست قوتوں، بالخصوص بی جے پی اور آر ایس ایس کی کوششوں پر لگام لگا دیا ہے۔

آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے سربراہ و سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایم اعجاز علی کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ملک میں ایک نئے قسم کی سیاست کر رہے ہیں جس سے انتخابی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ووٹ چوری کو پکڑنا اور اس کا انکشاف کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اگر حقیقت میں ووٹ چوری جیسے معاملے ہوئے ہیں تو یہ ملک کے آئین کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی نے انڈیا بلاک کو پھر سے ملک گیر پیمانے پر ایک بڑے سیاسی اتحاد میں تبدیل کرنے کا نسخہ پیش کیا ہے۔ امارت شرعیہ سے منسلک بزرگ رکن الحاج محمد ادریس، ادار ہ شرعیہ کے حامی اور بی پی سی ایل کے سبکدوش افسر ایس کے سجاد علی اور جماعت اسلامی ہند سے منسلک نامور شخصیت و معروف معالج ڈاکٹر حسین احمد کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے اپنی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، سی پی آئی ایم ایل سربراہ دیپانکر بھٹاچاریہ، وی آئی پی سربراہ مکیش سہنی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو ساتھ رکھ کر بہار میں انڈیا بلاک کی طاقت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے اور اس سے ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے دوران سیکولر ووٹوں بالخصوص مسلم ووٹوں کی تقسیم کی راہیں روک دی ہیں۔ اب سیکولر ووٹ پوری طرح سے متحد و منظم طور پر انڈیا بلاک کے کھاتے میں جائے گا۔

پسماندہ مسلم محاذ کے ڈاکٹر نور حسن آزاد، انصاری مہاپنچایت کے سربراہ وسیم نیر انصاری، این آئی ٹی پٹنہ کے استاذ اور آکسیم کوچنگ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر یعقوب اشرفی، جے پی یونیورسٹی کے ڈاکٹر امتیاز سرمد، آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر مولانا مفتی اعجاز سعید قاسمی اور منصوری ڈیولپمنٹ فنڈ کے سربراہ ڈاکٹر فیروز منصوری ایڈووکیٹ نے بھی راہل گاندھی کی قیادت میں جاری ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ پر اپنی مثبت رائے پیش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے یہ یاترا کر کے اور بہار میں توقع سے زیادہ وقت گزار کر عظیم اتحاد میں اپنی پارٹی کانگریس کی حیثیت بڑھا دی ہے۔ یقینی طور پر اسمبلی انتخاب میں انہیں اس کا فائدہ ملے گا۔ حالانکہ تیجسوی یادو کو ساتھ رکھ کر راہل نے یہ بھی اشارہ دے دیا ہے کہ بہار میں انڈیا بلاک کی حکومت بننے پر اس کی کمان تیجسوی کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔

رضاکارادارہ فاران انٹرنیشنل کے چیئرمین مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، آل بہار اردو ٹیچرس ایسو سی ایشن کے سربراہ عظیم الدین انصاری، بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سید محب الحسن، آل بہار مدرسہ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے صدر عبدالقدوس، معروف معالج ڈاکٹر حسنین قیصر اور معروف ادیب انوارالحسن وسطوی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ کا انکشاف کر کے راہل گاندھی نے بہار کے اقتدار کی جانب بی جے پی کے بڑھتے قدم کو مضبوطی سے روک دیا ہے اور اب وہ اس قدر شرمندہ ہو گئی ہے کہ منھ چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ بہار میں ’انڈیا بلاک‘ کی حکومت بننا اب طے نظر آ رہا ہے، جبکہ بی جے پی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔