ووٹر ادھیکار یاترا: آرہ میں اجلاس سے راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو کا خطاب، ’ووٹ چوروں کو شکست دینے کا عہد‘

ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو نے عظیم الشان اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر ووٹ چوری کا الزام لگایا اور عوام سے آئندہ انتخابات میں تبدیلی لانے کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ووٹر ادھیکار یاترا کے تحت آرہ میں منعقدہ ایک عظیم الشانا اجلاسِ عام میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے مشترکہ طور پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں عوام سے تبدیلی کی اپیل کی۔ جلسہ گاہ میں ہزاروں افراد موجود تھے اور بارہا ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے گونجتے رہے۔

سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے ہجوم سے براہ راست سوال کیا کہ کیا بہار میں ووٹ کی چوری ہو رہی ہے؟ اور مجمع سے تائیدی نعرے بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گجرات سے آئے دو لوگ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ بہار کا کون شہری ووٹ دے گا اور کون نہیں۔ یہ بہار ہے، یہاں کے عوام کو دھوکہ دینا آسان نہیں۔‘‘

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا اور کہا کہ اسی میدان سے بہار کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا جو آج تک نہیں ملا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو ’نقلچی حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی وژن نہیں اور وہ آر جے ڈی کے اعلانات کی نقالی کرتے ہیں۔

تیجسوی یادو نے روزگار، تعلیم، صنعت کاری اور کسانوں کے مسائل پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ بہار کے نوجوانوں کو روزگار دلانا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اصل اور نقل میں فرق کریں اور ووٹ ڈال کر اصل قیادت کو آگے لائیں۔


اس کے بعد سماجوادی پارٹی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار کا یہ انتخاب محض ایک ریاستی انتخاب نہیں بلکہ پورے ملک کی سمت کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگ ہمیشہ ناانصافی اور استحصال کے خلاف ڈٹے ہیں اور اس بار بھی بی جے پی کے رتھ کو یہیں روکا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ ’جُگاڑ کمیشن‘ بن گیا ہے جو بی جے پی کے اشارے پر چل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کی حالت زار نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان اور کسان اپنے ووٹ سے بی جے پی کو باہر کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اس بار بہار سے بی جے پی کا پلاین (ہجرت) ہوگا۔‘‘

اکھلیش یادو نے امریکہ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ملک کی معیشت کو بحران میں ڈال دیا ہے اور اب ’’یہ پارٹی استعمال کرنے اور برباد کرنے والی پارٹی کے طور پر جانی جا رہی ہے۔‘‘

دریں اثنا، راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ لڑائی صرف ووٹ کی نہیں بلکہ عوام کے حق اور مستقبل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی نے عوام کے روزگار اور مواقع چھین لیے ہیں، چاہے وہ پبلک سیکٹر ہو یا فوج میں بھرتی کا موقع۔ یہ سب کچھ چند بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بہار ہمیشہ تحریکوں کی سرزمین رہا ہے اور آج ووٹر ادھیکار یاترا نے یہ پیغام پورے ملک میں پھیلا دیا ہے کہ عوام اپنے ووٹ اور حق کے تحفظ کے لئے کھڑے ہیں۔


راہل گاندھی نے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے مہاراشٹر، ہریانہ اور لوک سبھا انتخابات میں دھاندلی کی لیکن بہار کے عوام کسی قیمت پر ووٹ کی چوری نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف ووٹ چوری نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ اگر ووٹ کا حق بچا تو ہی جمہوریت بچے گی اور اگر جمہوریت بچے گی تو ہی آئین محفوظ رہے گا۔‘‘

راہل گاندھی نے تیجسوی یادو اور اکھلیش یادو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نوجوانوں اور کسانوں کی آواز کو مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب مل کر بہار کو بی جے پی کی چالوں سے محفوظ کریں گے اور عوام کے حقوق کو بچائیں گے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔