بہار: راجہ اشوک کا موازنہ اورنگ زیب سے کیے جانے پر ہنگامہ، بی جے پی نے پارٹی سے جڑے مصنف کے خلاف درج کرائی ایف آئی آر

خود کو بی جے پی سے منسلک بتانے والے دیا پرکاش سنہا نے حال ہی میں کہا تھا کہ راجہ اشوک اور اورنگ زیب دونوں نے اپنے شروعاتی دنوں میں گناہ کیے اور بعد میں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار سے تعلق رکھنے والے مصنف اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز دیا پرکاش سنہا کے ذریعہ ایک انٹرویو میں راجہ اشوک کا موازنہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب سے کیے جانے پر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ جے ڈی یو کے ذریعہ کارروائی کا مطالبہ کیے جانے کے درمیان بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے جیسوال نے سنہا کے خلاف پٹنہ کے کوتوالی تھانہ میں کیس درج کرا دیا ہے۔

اس تنازعہ پر ریاست کی سیاست گرمانے کے بعد برسراقتدار اتحاد میں شامل پارٹی جے ڈی یو نے جہاں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، وہیں بی جے پی ریاستی صدر سنجے جیسوال نے جمعرات کو مصنف سنہا کے خلاف پٹنہ کے کوتوالی تھانہ میں کیس درج کرا دیا ہے۔ بی جے پی لیڈر نے درج ایف آئی آر میں کہا ہے کہ راجہ اشوک کے ضمن میں مبینہ طور پر مصنف دیا پرکاش سنہا کے ذریعہ کیا گیا تبصرہ سماج کو توڑنے والا ہے۔


سنجے جیسوال نے کہا کہ سنہا اپنے آپ کو بی جے پی کلچرل سیل کا کنوینر بتاتے ہیں، جب کہ ان کا بی جے پی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ دیا پرکاش سنہا نے بی جے پی کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے انتظامیہ سے اس طرح کے تبصرہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خود کو بی جے پی سے جڑا بتانے والے مصنف دیا پرکاش سنہا نے حال ہی میں ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ راجہ اشوک پر تحقیق کرتے وقت مجھے ان کے اور مغل بادشاہ اورنگ زیب کے درمیان کئی یکسانیت دکھائی دی تھی۔ دونوں نے اپنے شروعاتی دنوں میں کئی گناہ کیے تھے اور بعد میں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے سخت مذہبی ہونے کا سہارا لیا تاکہ لوگوں کا مذہب کے تئیں جھکاؤ ہو اور ان کے گناہوں کو نظر انداز کیا جا سکے۔ اس انٹرویو کے شائع ہونے کے بعد بہار کی سیاست گرم ہو گئی۔


بی جے پی کی ساتھی پارٹی جے ڈی یو کے قومی صدر راجیو رنجن سنگھ نے اس تعلق سے کیے گئے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’قدیم ہندوستان کے سب سے عظیم راجاؤں میں سے ایک اشوک کی تنقید قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔ پریہ درشی سمراٹ اشوک موریہ غیر منقسم ہندوستان کے بانی تھے۔ ان کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال ناقابل برداشت ہے۔ ایسے شخص خراب ذہنیت کے مالک ہیں۔ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ ایسے شخص کا پدم شری واپس لیا جائے۔

جے ڈی یو پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین اوپیندر کشواہا نے بھی بی جے پی سے سنہا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اِدھر جمعرات کو پٹنہ میں کئی تنظیمیں سنہا کے خلاف سڑک پر بھی اترے اور ان کا پُتلا نذرِ آتش کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔