پرینکا گاندھی کی تاریخی پہل، کانگریس امیدواروں کی پہلی فہرست میں 40 فیصد خواتین

کانگریس کی پہلی فہرست اور پرینکا گاندھی کے خطاب نے ملک کی سیاست میں ایک نئی اور تاریخی دستک دی ہے، لیکن اب آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی پارٹیوں کو مثبت اور عوامی مدوں پر سیاست کرنی ہوگی۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

سید خرم رضا

اتر پردیش میں کانگریس نے تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی 125 امیدواروں کی پہلی فہرست میں 40 فیصد خواتین کو اور 40 فیصد نوجوانوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ کانگریس نے نہ صرف خواتین کو اتنی بڑی تعداد میں ٹکٹ دیا بلکہ ان خواتین کو بھی ٹکٹ دیا ہے جو کسی نہ کسی ظلم کا شکار رہی ہیں، چاہے وہ اناؤ متاثرہ کی والدہ ہوں، لکھنؤ میں سی اے اے اور این آر سی کی لڑائی لڑنے والی ہو یا وہ خاتوں ہو جن کے ساتھ انتخابات میں زیادتی ہوئی ہو۔

کانگریس کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ خواتین اور نوجوان سامنے آئیں جو اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی اور اپنے جیسوں کی لڑائی لڑیں۔ اس فہرست میں جہاں ظلم کی متاثرین ہیں وہیں صحافی، اداکارہ اور سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔ فہرست جاری کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے ایک ویڈیو بھی دکھایا جس میں کچھ امیدواروں کے بیان اور ان کے حالات بھی دکھائے گئے۔


پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کو اس بات کی خوشی بھی ہے اور ان کو اس بات پر فخر بھی ہے کہ یہ تمام خواتین جدوجہد میں شامل رہی ہیں اور کانگریس یہ چاہتی ہے کہ وہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں اور اس لڑائی کو خود لڑیں۔ پرینکا گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انتخابات کے وقت سیاسی وفاداریاں بدلنا کوئی نئی بات نہیں ہے اور جن لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ اس پارٹی میں جاکر جیت سکتے ہیں ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، ہاں اگر ہماری پارٹی سے کوئی جاتا ہے تو افسوس ضرور ہوتا کہ ان کو کانگریس کی جدو جہد اور نظریہ پر یقین نہیں ہے اور وہ کافی کمزور ہیں۔

پرینکا گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کا مقصد خواتین کا ووٹ بینک بنانا نہیں ہے بلکہ مثبت مدوں کو مرکز میں لانا ہے اور منفی سیاست کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، بھائی چارہ ور خواتین پر مظالم جیسے کئی مرکزی مدے ہیں اور کانگریس کے بھی یہی مدے ہیں۔ کانگریس چاہتی ہے کہ سیاست عوامی مدوں پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کانگریس کے ذریعہ خواتین کے مدے اٹھانے کی وجہ یہی ہے کہ اب دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی خواتین کے مدوں پر بات چیت شروع کر دی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔


فہرست جاری کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے نئی سیاست کی شروعات کر دی ہے اور اس میں پریشانیاں آئیں گی، لیکن پارٹی اپنے مقصد پر قائم رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ان مدوں کے لئے ہمیشہ لڑتی رہیں گی اور انتخابات کے بعد بھی اتر پردیش میں ہی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی چاہے گی کہ ان کی اتر پردیش سے باہر بھی ضرورت ہے تو جو پارٹی کہے گی وہی میں کریں گی، لیکن اتر پردیش میں کام کرتی رہوں گی۔

کانگریس کی پہلی فہرست اور پرینکا گاندھی کے خطاب نے ملک کی سیاست میں ایک نئی اور تاریخی دستک دی ہے لیکن آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی پارٹیوں کو اب مثبت اور عوامی مدوں پر سیاست کرنی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔