یوپی اسمبلی انتخابات: ’بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل گاڑی جائے گی‘ سوامی پرساد موریہ کی دھمکی

پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی سوامی پرساد موریہ نے بی جے پی کو بلواسطہ طور پر دھمکی دی ہے، انہوں نے کہا کہ 14 جنوتی کو تمام چیزیں صاف ہو جائیں گی اور اس دن بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل گڑے گی

سوامی پرساد موریہ، تصویر آئی اے این ایس
سوامی پرساد موریہ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 سے قبل بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ او بی سی کے قدآور لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا ’’14 جنوری کو تمام چیزوں کا انکشاف ہو جائے گا۔‘‘ خیال رہے کہ 14 جنوری کو سوامی پرساد کے سماجوادی پارٹ میں شامل ہونے کی قیاس آرائی کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی صاف طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔

یو پی اسمبلی انتخابات شروع ہونے میں 30 دن سے بھی کم رہ گئے ہیں اور ان حالات میں سوامی پرساد کا پارٹی چھوڑ کر جانا بی جے پی کے لئے بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ بی جے پی پسماندہ طبقات کے مسائل کے حوالہ سے بہری ہے اور پارٹی نے مجھے وزیر بنا کر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ موریہ نے دلیل دی کہ بی جے پی کو 2017 میں جیت کے ساتھ ’بنواس‘ کے 14 سال کے ختم ہونے کے لئے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔


موریہ نے کہا، ’’میں کہاں آنے والا ہوں، کہاں جانے والا ہوں یہ سب چیزیں 14 جنوری کو صاف ہو جائیں گی۔‘‘ خیال کیا جا رہا ہے کہ سوامی پرساد موریہ 14 جنوری کو کم از کم 4 ارکان اسمبلی کے ساتھ اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ ان کے جانے کے بعد بی ایس پی دھاراشائی ہو گئی تھی اور ان کی وجہ سے ہی بی جے پی کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے انہیں وزیر بنا کر کوئی احسان نہیں کیا اور بی جے پی کا کھیل اب ختم ہونے جا رہا ہے۔ نیز 14 جنوری کو بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل گاڑ دی جائے گی۔

سوامی پرساد موریہ نے ان افواہوں کو خراج کر دیا کہ ان کا کابینہ سے باہر جانا ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے، خاص طور پر اب جبکہ انتخابات سر پر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب میں کابینہ میں تھا تو میں نے اپنی صلاحیت کے مطابق کام کیا۔ میں نے اپنی باتوں کو مناسب پلیٹ فارم پر رکھا۔ آج مجھے لگتا ہے کہ میڈیا صحیح پلیٹ فارم ہے۔ آج بھی اگر میں وزیر ہوتا تو میڈیا میں بیان نہیں دیتا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔