آہ! شمس الرحمن فاروقی، اردو کے چہرے پر اداسی کا عالم... ڈاکٹر مشتاق صدف

شمس الرحمن فاروقی جیسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے اردو شعر و ادب کے لیے جو بیش قیمتی خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

شمس الرحمن فاروقی کی فائل تصویر
شمس الرحمن فاروقی کی فائل تصویر
user

ڈاکٹر مشتاق صدف

اردو کے عہد ساز نقاد، تخلیق کار اور قابل صد احترام شخصیت شمس الرحمن فاروقی کا آج 25 دسمبر 2020 کو انتقال ہو گیا۔ ان کی رحلت سے پوری اردو دنیا سوگوار ہے۔ ان کی پیاری شخصیت اور گراں قدر خدمات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ ان کی خوبیوں کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یادوں کی ایک کہکشاں ضرور میرے ذہن و دماغ میں ہے۔ احساسات کا روشن چراغ بھی ہے لیکن بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ان جیسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ اردو زبان و ادب سے ان کا جتنا کمٹ منٹ تھا، بہت کم لوگوں میں اب دیکھنے کو ملتا ہے۔ انھوں نے اردو شعر و ادب کے لیے جو بیش قیمتی خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کے جانے سے اردو کا جو خسارہ ہوا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے۔ عہد حاضر کی دو بڑی شخصیتوں میں ایک شخصیت ان کی تھی۔ دوسری بڑی شخصیت پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ہے۔ یہ دونوں ایک زمانے میں بہت گہرے دوست رہے، لیکن وقت بدلتا رہتا ہے۔ ادب میں نظریاتی اختلافات کے سبب دونوں میں دوریاں پیدا ہو گئیں۔ تاہم یہ سچ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو کبھی نہیں بھلا سکے۔

فاروقی صاحب ایک کشادہ دل انسان تھے۔ ان کے مزاج میں سختی اور کچھ جھنجھلاہٹ ضرور تھی، لیکن ان کا پورا سراپا محبت سے لبریز رہتا۔ جس کے ہو جاتے تو بس ہو جاتے۔ میں نے ان سے بہت پہلے ایک تفصیلی انٹرویو لیا تھا جس میں انھوں نے زبان و ادب کے سروکار پر کھل کر گفتگو کی تھی۔ انھوں نے اپنے نظریے سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ دو ٹوک گفتگو کرتے تھے۔ ان کی شخصیت اور تنقید دونوں میں مصلحت دور دور تک نظر نہیں آتی۔ وہ اپنے کئی بیانات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنے لیکن انھوں نے اس کی کبھی پروا نہیں کی۔ نئی نسل کے تعلق سے ان کا ایک بیان عرصہ تک موضوع بحث رہا۔ میرے انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ:

’’میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کی مجموعی صورت حال اگر تشویشناک ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں میں تنقیدی صلاحیتیں کم ہو گئی ہیں، بلکہ غالباً یہ ہے کہ لوگ تنقیدی صلاحیتوں کو ٹھیک سے استعمال نہیں کر رہے ہیں اور اپنی اپنی برادری، اپنے اپنے جرگہ، اپنے اپنے فرقہ اور اپنے اپنے پروگرام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنی تنقیدی صلاحیتوں کا استعمال نہ کر کے اپنے لوگوں کے نام آگے لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ لوگ اور روشنی میں آئیں۔ میں دست بستہ کہتا ہوں کہ نئےلوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ جو لوگ نثر لکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ چار جملے صحیح لکھ نہیں سکتے، مربوط عبارت بیان نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں میں تحرک بے انتہا ہے، ان لوگوں میں گرم جوشی بے انتہا ہے، ان لوگوں میں شوق بے انتہا ہے، ان لوگوں میں رغبت بے انتہا ہے لیکن ان لوگوں میں کمی ہے تو صرف محنت کی۔ یہ لوگ محنت نہیں کرتے اور ااج اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘

شمس الرحمن فاروقی کئی حیثیتوں سے ممتاز رہے۔ وہ بیک وقت نقاد، شاعر، ناول نگار اور مترجم تھے۔ وہ رسالہ ’شب خون‘ کے مدیر بھی رہے، لیکن انھیں زیادہ مقبولیت ایک نقاد کی حیثیت سے ملی۔ ان کا شمار جدیدیت کے علمبرداروں میں ہوتا ہے۔ ستیش چند ڈگری کالج بلیا میں وہ انگریزی کے لکچرر بھی رہے۔ نیز شبلی کالج اعظم گڑھ میں درس و تدریس کی خدمات بھی انجام دیں۔ انھوں نے انڈین پوسٹل سروس کی ملازمت بھی کی اور حکومت ہند کے پوسٹل سروسز بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے جنوری 1994 میں سبکدوش ہوئے۔ ان کی کئی گراں قدر کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ’لفظ و معنی‘، ’شعر، غیر عر اور نثر‘، ’عروض و آہنگ اور بیان‘، ’افسانے کی حمایت میں‘، ’تنقیدی افکار‘، ’اثبات و نفی‘، ’شعر شور انگیز‘ (چار جلدوں میں)، ’انداز گفتگو کیا ہے؟‘، ’درس بلاغت‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انھیں پدم شری، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، یو پی اردو اکادمی ایوارڈ، دہلی اردو اکادمی ایوارڈ، سرسوتی سمان کے علاوہ دیگر کئی ادبی انعامات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی ادبی شخصیت اور خدمات پر کئی یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام بھی ہوئے ہیں۔

ادب میں شمس الرحمن فاروقی کا آج بھی ایک مضبوط حلقہ ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کی جس طرح آبیاری کی اور نوجوانوں کی تربیت کی، اس کی نظیر دیکھنے کو کم کم ملتی ہے۔ وہ جدیدیت کے علمبردار کہے جاتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جدیدیے اور مابعد جدیدیے دونوں ان کی خدمات کے قائل رہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ میں پروفیسر گوپی چند نارنگ سے وابستہ رہا جو مابعد جدیدیت کے علمبردار ہیں، لیکن فاروقی صاحب سے میں جب بھی ملتا وہ خوش دلی سے ملتے۔ علی گڑھ اور دہلی میں میری ان سے کئی ملاقاتیں رہیں۔ انھوں نےمیری کتاب ’نمک خوان تکلم‘ کا اجرا بھی کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اجرا کے بعد بڑی محبت سے میرے کاموں کو سراہا اور نارنگ صاحب کی خیریت بھی معلوم کی۔ میں آج بھی ان کی محبتوں کی سرشاری کو محسوس کرتا ہوں۔ خدا انھیں غریق رحمت کرے اور ان کے درجات کو بلند کرے۔ آمین۔

شمس الرحمن فاروقی اردو تنقید کی کوتاہ قدی سے بھی واقف تھے اور بالغ نظری اور سربلندی سے بھی۔ انھوں نے زندگی بھر اردو کی خدمت کی۔ ایسی خدمت جو ہر دور میں قابل ذکر رہے گی۔ انھوں نے جن تنقیدی محاوروں کا استعمال کیا اور تنقید کو جو معیار عطا کیا، اس کا ایک زمانہ قائل ہے۔ انھوں نے ادب میں آزادیٔ اظہار پر بھی اصرار کیا۔ انھوں نے ادب میں نظریہ اور ہیئت پرستی کو بہت اہمیت دی اور یہی وجہ بھی تھی کہ مابعد جدیدیت سے ہمیشہ انکار کیا۔ وہ زبان اور لہجہ میں ہمیشہ نئی بات پیدا کرنے کے پروردہ رہے۔ متن میں نئی چمک اور نئی تازگی کے ہمہ وقت پرستار ہے۔

مختصر یہ کہ شمس الرحمن فاروقی اردو زبان و ادب میں تاج محل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے اردو کے چہرے پر اداسی چھائی ہوئی ہے اور یہ اداسی کم ہونے میں وقت لگے گا۔

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

(شکیب جلالی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔