معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمٰن فاروقی کا 85 سال کی عمر میں انتقال

اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی کا 85 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، وہ کافی وقت سے علیل چل رہے تھے

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی کا 85 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ کافی وقت سے علیل چل رہے تھے۔ فاروقی آج صبح ہی دہلی سے پرواز کے ذریعے الہ آباد پہنچے تھے، جہاں صبح 11.20 پر ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی تدفین آج یعنی جمعہ کی شام 6 بجے جامعہ کے نزدیک اشوک نگر کے قبرستان میں انجام دی جائے گی۔ شمس الرحمن کے انتقال سے ادبی دنیا کو ناقابل تلافی نقصال پہنچا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے ادبی قدر کے نئے ماڈل تشکیل دیئے تھے۔ انہوں نے ادبی تنقید کے مغربی اصولوں کو ملحوظ نظر رکھا اور بعد میں انھیں اردو ادب میں نافذ کیا۔

شمس الرحمن 30 ستمبر 1935 کو پیدا ہوئے تھے۔ آزاد خیال ماحول میں پرورش پانے والے شمس الرحمن نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کئی مقامت پر ملازمت کی۔ انہوں نے 1960 میں ادبی دنیا میں قدم رکھا۔ 1960 سے 1968 تک وہ انڈین پوسٹل سروسز میں پوسٹ ماسٹر رہے اور اس کے بعد چیف پوسٹ ماسٹر جنرل اور 1994 تک پوسٹل سروسز بورڈ، نئی دہلی کے رکن بھی رہے۔

شمس الرحمن نے امریکہ کی پنسلوینیا یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشا ریجنل اسٹڈیز سینٹر کے پارٹ ٹائم پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں۔ وہ الہ آباد میں ’شب خوں‘ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ ان کی تصنیف ’کئی چاند اور تھے سرِ آسماں‘، ’افسانے کی حمایت میں‘ اور ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ کو اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

شمس الرحمٰن کو اردو میں تنقید نگاری کا ماہر قرار دیا جاتا تھا۔ انہیں ’سرسوتی ایوارڈ‘ کے علاوہ 1986 میں اردو کے لئے ’ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ سال 2009 میں انہیں پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 25 Dec 2020, 2:11 PM
    next