قومی خبریں

بہار میں طالبات کی حفاظت کے لیے گرلس ہاسٹل اور لاج سے متعلق نئی سکیورٹی ہدایات جاری

ہاسٹلوں میں سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے مرکزی داخلی راستوں، گلیاروں، کھانے کی جگہوں اور ہاسٹل کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ضروری ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو کم از کم 30 دنوں تک محفوظ رکھنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹوآئی اے این ایس</p></div>

فوٹوآئی اے این ایس

 
ali

پٹنہ کے ایک گرلس ہاسٹل میں نیٹ امتحان کی تیاری کر رہی طالبہ کی مشتبہ موت کے بعد اپوزیشن اور عوام کی جانب سے سخت ناراضگی کے دوران آخر کار ریاستی حکومت نے ریاست بھرمیں چلنے والے تمام گرلس ہاسٹلوں اور لاج کی حفاظت کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں، جن کا مقصد سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنا ہے۔ نئی ہدایت کے تحت گرلس ہاسٹلوں اور لاج کے لیے رجسٹریشن لازمی کردیا گیا ہے۔

Published: undefined

معلومات کے مطابق ہر پولیس اسٹیشن کو اب اپنے زیراختیارعلاقے میں آنے والے ہاسٹلوں کا مکمل بیورا رکھنا ہوگا تاکہ ضرورت پڑنے پر معلومات تک فوری رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ ذمہ داری مقامی تھانوں میں خواتین کی ہیلپ ڈیسک کو سونپی گئی ہے۔ حکومت نے تمام گرلس ہاسٹلوں کے لیے چوبیس گھنٹے ایک خاتون وارڈن کی تعیناتی کو لازمی قرار دیا ہے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ ہاسٹل کے تمام عملے بشمول وارڈن، سیکیورٹی گارڈ، باورچی اور صفائی ملازمین سمیت تمام ہاسٹل ملازمین کی پولیس تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے مرکزی داخلی راستوں، گلیاروں، کھانے کی جگہوں اور ہاسٹل کے احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ضروری ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو کم از کم 30 دنوں تک محفوظ رکھنا ہوگا۔

Published: undefined

ہاسٹلوں کے لئے یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ مناسب روشنی، صفائی کی مناسب سہولیات، مضبوط دروازے اور تالے اور کھڑکیوں پر لوہے کی گرل لگائیں تاکہ غیر مجاز داخلے کو روکا جا سکے۔ آنے والے کی کڑی نگرانی کا حکم دیاگیا ہے۔ ہر آنے والے کا نام، موبائل نمبر اور آدھار نمبر وزیٹر رجسٹر میں درج کیاجانا چاہئے۔ ہاسٹل کے رہائشی علاقوں میں مردوں کا داخلہ سختی سے ممنوع ہے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ طلباء اور عملے کی رات کی حاضری درج کرنے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم نصب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جس سے جواب دہی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی پولیس اسٹیشن، خواتین ہیلپ سنٹر، ابھیہ بریگیڈ اور 112 ہیلپ لائن سمیت ہنگامی رابطہ کی تفصیلات والے پوسٹر ہاسٹلوں کے اندر نمایاں طور پر آویزاں کیا جانا چاہیے۔ طلباء کو 112 انڈیا موبائل ایپ کی حفاظتی خصوصیات کے بارے میں بھی تعلیم دی جائے گی۔

Published: undefined

پولیس، خواتین ہیلپ سینٹراور ابھیہ بریگیڈ ہاسٹلوں کا باقاعدہ معائنہ کریں گے۔ اس سلسلے میں افسران نے متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی مشکوک یا مجرمانہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی حفاظتی کوتاہی کے خلاف صفر رواداری پر زور دیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined