پٹنہ میں ایک اور طالبہ کی مشکوک موت، شمبھو گرلز ہاسٹل کیس پر کانگریس کا احتجاج، اہل خانہ نے قتل کا الزام لگایا

پٹنہ کے شمبھو گرلز ہاسٹل میں طالبہ کی مشکوک موت پر غم و غصہ اور احتجاج کے درمیان شہر کے ایک اور گرلز ہاسٹل میں نابالغ طالبہ کی مشکوک موت سامنے آئی، جس سے طالبات کی سلامتی پر سنجیدہ سوال اٹھنے لگے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں شمبھو گرلز ہاسٹل میں نیٹ کی تیاری کر رہی طالبہ کی مشکوک موت کے معاملے پر غم و غصہ اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران شہر کے ایک اور گرلز ہاسٹل میں 15 سالہ نابالغ طالبہ کی مشکوک موت سامنے آنے سے تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور طالبات کی سلامتی سے متعلق سوالات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

شمبھو گرلز ہاسٹل کے معاملے کو لے کر بہار کانگریس نے پیر کو پٹنہ کے انکم ٹیکس چوراہے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے بہار کانگریس کے انچارج کرشنا الاورو نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کے دوران مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والی طالبات بھی محفوظ نہیں رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شمبھو گرلز ہاسٹل کیس میں کارروائی کی رفتار سست ہے اور انتظامیہ کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔

کرشنا الاورو نے کہا کہ پٹنہ جیسی راجدھانی میں اگر نجی ہاسٹلوں میں رہنے والی طالبات عدم تحفظ کا شکار ہیں تو ریاست کے دیگر اضلاع کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہر بڑے واقعے کے بعد پولیس انتظامیہ کو دباؤ میں رکھ کر کارروائی کی رفتار کو متاثر کیا جاتا ہے اور ملزمین کو بالواسطہ تحفظ دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس طالبات کی سلامتی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

اسی دوران پٹنہ کے گاندھی میدان تھانہ علاقے میں واقع ایک گرلز پی جی ہاسٹل میں رہنے والی 15 سالہ نابالغ طالبہ کی مشکوک موت کی خبر سامنے آئی۔ طالبہ اورنگ آباد ضلع کی رہنے والی تھی اور پٹنہ میں رہ کر نیٹ کی تیاری کر رہی تھی۔ پولیس کی ابتدائی جانچ میں واقعے کو خودکشی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اہل خانہ نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے۔


اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بچی پڑھائی کے معاملے میں نہایت سنجیدہ تھی اور اس کے رویے میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے خودکشی کا اندیشہ ظاہر ہوتا ہو۔ ان کے مطابق اچانک موت کی خبر نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور انہیں پولیس تفتیش پر اعتماد نہیں ہے۔ اہل خانہ نے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے قتل کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

بہار کانگریس کے ریاستی صدر راجیش رام نے بھی شمبھو گرلز ہاسٹل کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر حکومت اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پٹنہ کے پوش علاقے میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے باوجود اب تک ملزمین کی گرفتاری نہ ہونا تشویش ناک ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس معاملے میں شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، مگر تاحال مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

سماجی تنظیموں اور مقامی لوگوں نے بھی دونوں واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہاسٹلوں اور پی جی میں سکیورٹی، نگرانی اور جواب دہی کے نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ پٹنہ میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے باہر سے آنے والی طالبات کے تحفظ کے موجودہ انتظامات کس حد تک مؤثر ہیں اور ان میں فوری بہتری کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔