بجٹ اجلاس: انڈیا اتحاد کی فلور حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن کا اجلاس
بجٹ اجلاس کے دوران انڈیا اتحاد کے اراکین نے راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینے اور ہند-امریکہ تجارتی معاہدے سمیت اہم امور پر مشترکہ فلور حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے اجلاس کا انعقاد کیا

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران جمعرات کی صبح اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ایوان کی کارروائی سے متعلق اپنی فلور حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے اہم اجلاس منعقد کیا۔ یہ میٹنگ راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کے دفتر میں ہوئی، جس میں لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی شریک تھے۔
اجلاس میں حکومت کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل پر غور کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر احتجاج کر رہی ہیں کہ راہل گاندھی کو ایوانِ زیریں میں اظہارِ خیال کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس معاملے کو سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی غیر شائع شدہ یادداشتوں اور 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے۔
انڈیا اتحاد نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر بھی تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ میں کھلی گفتگو ہونی چاہیے۔ تاہم مرکزی وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ زراعت اور ڈیری سمیت حساس معاشی شعبوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔
دریں اثنا دونوں ایوانوں میں صدر کے خطاب پر اظہارِ تشکر کی تحریک پر بحث جاری ہے۔ لوک سبھا میں یہ تحریک سربانند سونووال نے پیش کی جبکہ تیجسوی سوریا نے اس کی تائید کی۔ بدھ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کو جواب دینا تھا، تاہم اپوزیشن کے احتجاج کے باعث کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ توقع ہے کہ وہ آج راجیہ سبھا میں اظہارِ تشکر کی تحریک پر جواب دیں گے۔
لوک سبھا میں آج مرکزی بجٹ 2026-27 پر بحث کا آغاز بھی متوقع ہے، جبکہ راجیہ سبھا کی کارروائی سابق رکن تھامس کُتھیراوٹوم کو خراجِ عقیدت سے شروع ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔